تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 15

وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَ صَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا ۫ وَّ اتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾
اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ اور اس شخص کے راستے پر چل جو میری طرف رجوع کرتا ہے، پھر میری ہی طرف تمھیں لوٹ کر آنا ہے، تو میں تمھیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ En
اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا
En
اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنْ جَاهَدٰؔكَ اگر تیرے والدین کوشش کریں ﴿عَلٰۤى اَنْ تُ٘شْرِكَ بِیْ مَا لَ٘یْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا اس چیز کی کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک بنائے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔ تو یہ نہ سمجھ کہ شرک کے بارے میں ان کی اطاعت کرنا بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حق ہر ایک کے حقوق پر مقدم ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ، خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ (المعجم الکبیر للطبراني: 170/18، ح: 381، و شرح السنة للبغوي: 44/10)
یہاں (ایک قابل غور نکتہ ہے) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: (وَإِنْ جَاھَدَاکَ عَلٰی أَنْ تُشْرِکَ بِي مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَعُقَّھُمَا) اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اسے شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کی نافرمانی اور ان سے بدسلوکی کر بلکہ فرمایا: ﴿فَلَا تُطِعْهُمَا یعنی تو شرک میں ان کی اطاعت نہ کر۔ باقی رہا ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا تو اس پر قائم رہ، اس لیے فرمایا: ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا اور دنیا (کے معاملات) میں ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ رہ۔ یعنی ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آ اور اگر وہ حالت کفر و عصیان پرہیں تو پھر ان کی پیروی نہ کر۔ ﴿وَّاتَّ٘بِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ اور اس شخص کی راہ کی اتباع کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں، اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اوراس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
ان کے راستے کی پیروی یہ ہے کہ انابت الی اللہ میں ان کے مسلک پر چلا جائے۔ انابت سے مراد یہ ہے کہ قلب کے داعیوں اور ارادوں کا اللہ تعالیٰ کی مرضی کی طرف مائل ہونا اور اس کے قریب ہونا، پھر ان کا ارادوں کی پیروی کرنا۔ ﴿ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ پھر میری طرف تمھارا لوٹنا ہے۔ اطاعت گزار، نافرمان اور صاحب انابت سب میری طرف لوٹیں گے ﴿فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ تو تم جو کام کرتے ہو میں ان کے بارے میں تمھیں آگاہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإن جاهداك}؛ أي: اجتهد والداك {على أن تشرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ فلا تُطِعْهُما}: ولا تظنَّ أنَّ هذا داخل في الإحسان إليهما؛ لأنَّ حق الله مقدَّم على حقِّ كل أحدٍ، ولا طاعة لمخلوقٍ في معصية الخالق، ولم يقلْ: وإنْ جاهداك على أن تُشْرِكَ بي ما ليس لك به علمٌ؛ فعقَّهما، بل قال: {فلا تُطِعْهُما}؛ أي: في الشرك ، وأمَّا برُّهما؛ فاستمرَّ عليه، ولهذا قال: {وصاحِبْهُما في الدُّنيا معروفاً}؛ أي: صحبة إحسان إليهما بالمعروف، وأما اتِّباعُهما وهما بحالة الكفر والمعاصي؛ فلا تتَّبِعْهما، {واتَّبِعْ سبيلَ مَنْ أناب إليَّ}: وهم المؤمنون بالله وملائكته وكتبه ورسله، المستسلمون لربِّهم، المنيبون إليه، واتِّباع سبيلهم أن يَسْلُكَ مسلَكَهم في الإنابة إلى الله، التي هي انجذابُ دواعي القلب وإراداته إلى الله، ثم يتبَعُها سعي البدن فيما يرضي الله ويقرِّبُ منه، {ثمَّ إليَّ مرجِعُكم}: الطائع والعاصي والمنيب وغيره، {فأنِبِّئُكُم بما كنتُم تعملونَ}: فلا يخفى على اللَّه من أعمالهم خافيةٌ.