تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ:” وَهْنًا “} کی ترکیب کئی طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ {” اُمُّهٗ “} سے حال بمعنی اسم فاعل ہے۔{” أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ وَهْنٍ عَلٰي وَهْنٍ “} یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ کمزوری پر کمزوری والی تھی۔ زمخشری نے فرمایا: {” وَهْنًا “} فعل محذوف{”تَهِنُ“} کا مفعول مطلق ہے، یعنی اس کی ماں نے اسے اس حال میں اٹھایا کہ وہ کمزور پر کمزور ہوتی جاتی تھی، دن بدن اس کا ضعف بڑھتا جاتا تھا، کیونکہ جیسے جیسے اس کا حمل بڑھتا، اس کا بوجھ اور ضعف بڑھتا جاتا تھا۔“ ایک صورت یہ ہے کہ اس سے پہلے حرف جار ”باء“ محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آئی ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ بِضُعْفٍ عَلٰي ضُعْفٍ“} یعنی اس نے اسے کمزوری پر کمزوری کے ساتھ اٹھائے رکھا۔
➌ { ” وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ “} (کمزوری پر کمزوری) میں دورانِ حمل دن بدن بڑھنے والی کمزوری کے بعد {” وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ “} (اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) کے درمیان کمزوری اور مشقت کے کئی مرحلے ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ جن میں ولادت کا جاں گسل مرحلہ، پھر نفاس کی کمزوری، پھر دن رات بچے کی پرورش، نگہداشت، اسے دودھ پلانا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔
➍ { وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا فرمان {” وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ “} (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ہم معنی ہے: «{ وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ }» [البقرۃ: ۲۳۳] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“ اسی سے ابن عباس رضی اللہ عنھما وغیرہ ائمہ نے استنباط فرمایا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے: «{ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا }» [الأحقاف: ۱۵] ”اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے ماں کی پرورش کا، اس کمزوری، تکان اور دن رات بیداری اور مشقت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بچے کو اس کا احسان یاد دلائے جو اس نے اس پر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا }» [بني إسرائیل: ۲۴] ”اور کہہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔“
➎ زمخشری نے فرمایا: ”اگر تم کہو کہ دودھ چھڑانے کی مدت دو سال مقرر کرنے کا کیا مطلب ہے، تو میں کہوں گا کہ یہ مدت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حد ہے جس سے تجاوز درست نہیں۔ دو سال سے کم میں دودھ چھڑانے کا معاملہ ماں کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ اگر وہ سمجھے کہ وہ اس سے پہلے دودھ چھڑانا برداشت کر سکتا ہے تو وہ چھڑا سکتی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «{ وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ }» [البقرۃ: ۲۳۳] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“
➏ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کی کامل مدت دو سال ہے۔ اس عرصے میں دودھ پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت ہو گی، اس کے بعد نہیں۔ بعض لوگوں نے مدت رضاعت اڑھائی سال قرار دی ہے اور اسے احتیاط کا تقاضا قرار دیا ہے۔ مگر صریح آیت کے بعد کسی کو احتیاط یا کسی اور وجہ سے اس کی مخالفت کا کوئی اختیار نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ احقاف (۱۵)۔
➐ { اِلَيَّ الْمَصِيْرُ: ” اِلَيَّ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے کسی اور کی طرف نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ یہ نہیں بتایا کہ کس کا لوٹ کر آنا مراد ہے؟ جواب یہ ہے کہ اسے عام رکھا ہے، تاکہ اس میں سب لوگ شامل ہو جائیں۔ یعنی ہر ایک کو، جن میں تم بھی شامل ہو، میری ہی طرف واپس آنا ہے۔ اس میں ازسر نو اللہ عزوجل اور والدین کے شکر کی وصیت ہے اور وعدہ بھی اور وعید بھی کہ اگر میرے متعلق اور اپنے والدین کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو گے تو جزائے خیر پاؤ گے، ورنہ سزا کے لیے تیار رہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر اپنے حق کے ساتھ والدین سے بہتر سلوک کا ذکر فرمایا ہے اس کی وجہ اور تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 23 اور 24 کے حواشی نیز درج ذیل حدیث بھی والدین کی اطاعت کی اہمیت پر پوری روشنی ڈالتی ہے:
یہ حدیث، حدیث جریج کے نام سے مشہور ہے اور اس سے علماء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر اولاد نفلی نماز میں مشغول ہو اور والدین میں سے کوئی اسے پکارے تو اسے نماز توڑ کر بھی اس آواز پر لبیک کہنا چاہئے۔ اور ان کا حکم بجا لانا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ’ انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی ‘۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ { جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:82] اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ’ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں ‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4629]
عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] الخ، یعنی ’ جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں ‘۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] یعنی ’ مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے ‘۔
اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔
جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:24] ’ ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے ‘۔
یہاں فرمایا ’ تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا ‘۔
طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔
میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔
اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما أمر بالقيام بحقِّه بترك الشرك الذي من لوازمه القيام بالتوحيد؛ أمر بالقيام بحقِّ الوالدين، فقال: {ووصَّيْنا الإنسان}؛ أي: عهدنا إليه وجعلناه وصيةً عنده سنسأله عن القيام بها وهل حَفِظَها أم لا؟ فوصيناه {بوالديه}، وقلنا له: {اشكُرْ لي}: بالقيام بعبوديَّتي وأداء حقوقي وأنْ لا تستعينَ بنعمي على معصيتي {ولوالديك}: بالإحسان إليهما بالقول الليِّن والكلام اللطيف والفعل الجميل والتواضع لهما وإكرامهما وإجلالهما والقيام بمؤونتهما واجتناب الإساءة إليهما من كلِّ وجه بالقول والفعل، فوصيناه بهذه الوصية وأخبرناه أنَّ {إليَّ المصيرُ}؛ أي: سترجع أيُّها الإنسان إلى من وصَّاك وكلَّفك بهذه الحقوق، فيسألك: هل قمتَ بها فيثيبك الثواب الجزيل، أم ضيَّعْتها فيعاقبك العقاب الوبيل؟! ثمَّ ذَكَرَ السببَ الموجبَ لبرِّ الوالدين في الأم، فقال: {حَمَلَتْه أمُّه وهناً على وهنٍ}؛ أي: مشقة على مشقة؛ فلا تزال تلاقي المشاقَّ من حين يكون نطفةً من الوحم والمرض والضعف والثقل وتغير الحال، ثم وجع الولادة ذلك الوجع الشديد، ثم {فصالُهُ في عامينِ}: وهو ملازمٌ لحضانة أمِّه وكفالتها ورضاعها. أفما يحسُنُ بمن تحمَّل على ولده هذه الشدائد مع شدة الحب أن يؤكِّد على ولده، ويوصي إليه بتمام الإحسان إليه؟