ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 39

وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّیَرۡبُوَا۠ فِیۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ مَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴿۳۹﴾
اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰۃ سے دیتے ہو، اللہ کے چہرے کا ارادہ کرتے ہو، تو وہی لوگ کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔ En
اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں
En
تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وه اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ اور جو کچھ صدقہ زکوٰة تم اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنے (اورخوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی اپنا دو چند کرنے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 39) ➊ { وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَاۡ فِيْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ …:} یعنی سود سے بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی نحوست دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے، جب کہ زکوٰۃ دینے کے ساتھ دنیا اور آخرت میں مال میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ [البقرۃ: ۲۷۶] اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلرِّبَا وَ إِنْ كَثُرَ، فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيْرُ إِلٰی قُلٍّ] [مسند أحمد: 395/1، ح: ۳۷۵۳، قال المحقق صحیح] سود خواہ بہت ہو انجام اس کا یقینا قلت ہی ہو گا۔ یہ سورت مکی ہے، مکہ میں ابھی سود حرام نہیں ہوا تھا، مگر کفارِ مکہ بری طرح سودی کاروبار میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کی طرح سود کو بھی تدریجاً حرام کیا۔ اس آیت میں صرف اس کی مذمت بیان فرمائی، اس کے بعد مدینہ میں سورۂ آل عمران (۱۳۰) میں سود در سود کو اور سورۂ بقرہ (۲۷۵ تا ۲۸۱) میں ہر طرح کے سود کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔
➋ بعض اہلِ علم نے اس آیت میں مذکور حقیقت کی مثال بیان فرمائی: یعنی سود (بیاج) سے گو بظاہر مال بڑھتا دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں گھٹ رہا ہے۔ جیسے کسی آدمی کا بدن ورم سے پھول جائے، وہ بیماری یا پیام موت ہے اور زکوٰۃ نکالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کم ہو گا، فی الحقیقت وہ بڑھتا ہے۔ جیسے کسی مریض کا بدن مسہل و تَنقِیَہ سے گھٹتا دکھائی دے مگر انجام اس کا صحت ہو، سود اور زکوٰۃ کا حال بھی انجام کے اعتبار سے ایسا ہی سمجھ لو۔
➌ { وَ مَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ …:} جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً [البقرۃ: ۲۴۵] کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے۔ (مزید دیکھیے بقرہ: ۲۶۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلَّا أَخَذَهَا اللّٰهُ بِيَمِيْنِهِ فَيُرَبِّيْهَا كَمَا يُرَبِّيْ أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوْصَهُ حَتّٰی تَكُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ] [مسلم، الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب و تربیتھا: ۶۴ /۱۰۱۴] کوئی شخص پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بھی کرتا ہے تو رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے مالک کے لیے اس کو پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچے کو یا اونٹنی کے بچے کو پالتا بڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے یا اس سے بھی بڑی۔ اور دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۶)۔
➍ اس آیت کی ایک اور تفسیر بھی کی گئی ہے، ابن کثیر فرماتے ہیں: یعنی جو شخص کوئی ہدیہ دے جس سے اس کا ارادہ یہ ہو کہ لوگ اسے اس کے ہدیے سے زیادہ دیں گے تو اللہ کے ہاں اس میں کوئی ثواب نہیں۔ ابن عباس، مجاہد، ضحاک، قتادہ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی نے یہی تفسیر کی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کام مباح (جائز) ہے، اگرچہ اس میں ثواب نہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے اور انھوں نے اللہ کے اس فرمان سے دلیل پکڑی ہے: «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ [المدثر: ۶] اور (اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ لے۔ یعنی کوئی عطیہ نہ دے جس سے تو زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کے اس قول کے متعلق ابن کثیر کے محقق نے فرمایا: اسے طبری نے بیان کیا ہے، سند اس کی ضعیف ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی مفہوم کا ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ایک اور قول نقل فرمایا ہے کہ ربا دو طرح کا ہے، ایک ربا جو صحیح نہیں، یعنی بیع میں ربا اور ایک ربا جس میں کوئی حرج نہیں۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی ہدیہ دے، جس سے زیادہ حاصل کرنے کا ارادہ ہو، پھر یہ آیت پڑھی۔ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: سیوطی نے در منثور میں اسے ابن ابی حاتم کی طرف منسوب کیا ہے، جس میں آیت پڑھنے کا ذکر نہیں۔ لیکن میں نے ابن ابی حاتم میں اسے تلاش کیا تو اس میں ہے کہ مخطوطہ سے سورۂ روم کا حصہ ساقط ہے۔ [وَ اللّٰہُ أَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ]
جمال الدین قاسمی فرماتے ہیں: اس تفسیر میں کئی لحاظ سے نظر ہے، پہلی یہ کہ یہ آیت سورۂ بقرہ کی آیت (۲۷۶): «{ يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ کے مشابہ ہے، جو بیع میں سود کے بارے میں ہے، جو اہلِ مکہ میں اس بری طرح پھیلا ہوا تھا کہ ان کا مزاج بن چکا تھا، جس کے ساتھ وہ تنگ دستوں کا مال اس برے طریقے سے چوس رہے تھے جس کا رحم، نرم دلی اور انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حال کی مذمت فرمائی، تاکہ وہ توبہ کر کے پاک ہوجائیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ربا کا حقیقی معنی سود ہی ہے، جسے سب لوگ جانتے ہیں۔ اس حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی مراد لینے کے لیے شرع یا عقل کی کوئی دلیل ہونی چاہیے جو یہاں موجود نہیں۔ تیسری وجہ یہ کہ آیت سے ہبہ و الا معنی مراد لے کر پھر ایسے ہبہ کو مباح قرار دینا محل نظر ہے، کیونکہ آیت کا اسلوب تو اس سے ڈرانے کا اور اس سے بچنے کی ترغیب کا ہے، جو اسے ناجائز چیزوں میں شامل کر رہا ہے اور انداز بیان کی دلالت بہت قوی دلالت ہوتی ہے۔ چوتھی وجہ یہ کہ سورۂ مدثر کی آیت (۶): «{ وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ (اور اس نیت سے احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے) کی رو سے یہ دعویٰ کہ ایسا ہبہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام تھا، محلِ نظر ہے۔ کیونکہ اگرچہ لفظوں میں خطاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے مگر حکم عام ہے۔ سورۂ مدثر کے شروع سے دیکھ لیجیے: «{ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ (2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ یہ تمام احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پوری امت کے لیے بھی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت کی پہلی تفسیر ہی قابل اعتماد ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39-1یعنی سود سے بظاہر اضافہ معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کی نحوست بالآخر دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور متعدد صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت میں ربا سے مراد سود نہیں بلکہ وہ تحفہ اور ہدیہ لیا جو کوئی غریب آدمی کسی مال دار کو یا رعایا کا کوئی فرد بادشاہ یا حکمران کو اور ایک خادم اپنے مخدوم کو اس نیت سے دیتا ہے کہ وہ اس کے بدلے میں مجھے اس سے زیادہ دے گا۔ اسے ربا سے اسی لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ دیتے وقت اس میں زیادتی کی نیت ہوتی ہے۔ یہ اگرچہ مباح ہے تاہم اللہ کے ہاں اس پر اجر نہیں ملے گا۔ (فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ) 30۔ الروم:39) سے اسی اخروی اجر کی نفی ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا (جو تم عطیہ دو) اس نیت سے کہ واپسی کی صورت میں زیادہ ملے، پس اللہ کے ہاں اس کا ثواب نہیں۔ 39-2زکوٰۃ صدقات سے ایک تو روحانی و معنوی اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی بقیہ مال میں اللہ کی طرف سے برکت ڈال دی جاتی ہے۔ دوسرے قیامت والے دن اس کا اجر وثواب کئی کئی گنا ملے گا، جس طرح حدیث میں ہے کہ حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ بڑھ بڑھ کر احد پہاڑ کے برابر ہوجائے گا (صحیح مسلم)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور جو کچھ تم بطور سود دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال سے تمہارا مال بڑھتا رہے تو ایسا مال اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا [44]، اور جو کچھ تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے بطور زکوٰۃ دیتے ہو۔ تو ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کر رہے [45] ہیں۔
[44] سود سے قومی معیشت تباہ ہوتی اور زکوٰۃ سے پھلتی پھولتی ہے :۔
یہ پہلی آیت ہے جو سود کی مذمت کے سلسلہ میں نازل ہوئی، پھر سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 130 کی رو سے مسلمانوں کو سود در سود سے روک دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چار ماہ پیشتر سورۃ بقرہ کی آیات نمبر 275 تا 281 کی رو سے مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ چونکہ شراب کی طرح سود بھی اہل عرب کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ لہٰذا ایسی برائیوں کلی استیصال بتدریج ہی ممکن تھا۔ اب اصل مسئلہ کی طرف آئیے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کسی بھی معاشرہ میں دولت مندوں کی تعداد غریبوں کی تعداد کی نسبت بہت قلیل ہوتی ہے اور سود لینے والے دولت مند ہوتے ہیں اور دینے والے غریب اور محتاج۔ اب سود سے فائدہ تو ایک شخص اٹھاتا ہے اور نقصان سینکڑوں غریبوں کا ہو جاتا ہے۔ اور اللہ کی نظروں میں اس کی سب مخلوق یکساں ہے بلکہ اسے دولتمندوں کے مفاد سے غریبوں کے مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ اور سود خور سود کے ذریعہ بے شمار غریبوں کا مال کھینچ کر انھیں مزید مفلس اور کنگال بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تو اسی حقیقت کو اللہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ سود کے ذریعہ مال بڑھتا نہیں بلکہ گھٹتا ہے۔ یہ اس مسئلہ کا ایک پہلو ہوا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ علم معیشت کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے۔ کہ جس معاشرہ میں دولت کی گردش جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی وہ معاشرہ خوشحال ہو گا اور اس کی قومی دولت میں اضافہ ہو گا۔ اور اگر دولت کا بھاؤ غریب سے امیر کی طرف ہو گا تو یہ گردش بہت کم ہو جائے گی۔ کیونکہ امیر طبقہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی سود قومی معیشت پر تباہ کن اثر ڈالتا ہے۔ اور اگر دولت کا بہاؤ امیر سے غریب کی طرف ہو اور یہ بات صرف زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں ہی ممکن ہوتی ہے، تو دولت کی گردش تیز ہو جائے گی۔ کیونکہ ایک تو غریبوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے دوسرے ان کی ضروریات محض پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے اٹکی ہوتی ہیں۔ لہٰذا دولت کی گردش میں تیزی آنے کی وجہ سے ایک تو سارا معاشرہ خوشحال ہوتا جائے گا دوسرا قومی معیشت پر بھی خوشگوار اثر پڑے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
﴿يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ [276:2] یعنی جس معاشرہ میں سود کا رواج ہو گا اس میں برکت نہیں رہے گی وہ بالآخر قلاش ہو جائے گا۔ غریب طبقہ کی تعداد دن بدن بڑھتی جائے گی اور وہ اپنا پیٹ پالنے کی خاطر امیر طبقہ پر جائز اور ناجائز طریقوں سے حملہ آور ہو کر ان کا مال ان سے چھین لے اور اس غرض کے لئے اگر اس کا کام چوری اور ڈاکہ، لوٹ مار سے چلتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ قتل و غارت سے بھی کبھی دریغ نہ کرے گا۔
اسلامی نظام معیشت کی بنیاد دو چیزیں :۔
اسلامی اقتصادیات یا اسلامی نظام معیشت پر بڑی لمبی چوڑی تصانیف بازار میں دستیاب ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اسلامی نظام معیشت کے بنیادی اصول صرف دو ہی ہیں۔ ایک ملک سے سود کا خاتمہ اور دوسرے اس کے بجائے نظام زکوٰۃ و خیرات کی ترویج۔ سود ہی وہ لعنت ہے جو نظام سرمایہ داری کی جان ہے۔ اس کے خاتمہ سے نظام سرمایہ داری کی جان از خود نکل جاتی ہے۔ رہی سہی کسر اسلام کا قانون میراث نکال دیتا ہے۔ سود کے خاتمہ کے بعد جب نظام زکوٰۃ و صدقات اس کی جگہ لے لیتا ہے تو طبقاتی تقسیم از خود ختم ہو جاتی ہے۔ اور معاشرہ خوشحال بن جاتا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے معاشیات کی کتابیں پڑھنے اور اس کے اصول سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف تجربہ کی ضرورت ہے اور تجربہ ہر انسان کم از کم اپنے خاندان میں کر کے اس کے ثمرات و برکات کو بچشم خود ملاحظہ کر سکتا ہے۔ اگرچہ اتنے چھوٹے پیمانے پر سود کے خاتمہ اور زکوٰۃ و خیرات کی ترویج سے پورے ثمرات تو حاصل نہیں ہو سکتے۔ تاہم ایسے خاندان کی حالت پہلے سے بدرجہا بہتر ہو سکتی ہے۔ غریب کی امیر سے نفرت۔ حسد اور کینہ وغیرہ جیسے قبیح جذبات ماند پڑ جاتے ہیں۔ اور ان کی جگہ مروت، ہمدردی اور اخوت جیسی اعلیٰ قدریں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ جس سے ایک طرف تو معاشرہ میں کشیدگی کے بجائے محبت کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسرے دولت کی ناہموار تقسیم میں خصوصی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے معاشرہ کے ہر فرد کو کم از کم بنیادی ضروریات ضرور مہیا ہوتی رہتی ہیں۔
[45] زکوٰۃ سے مال کیسے بڑھتا ہے؟
اس کا ایک مطلب تو اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر زکوٰۃ و خیرات دیتے ہیں۔ تو وہ معاشرہ خوشحال ہو جاتا ہے۔ غریبوں کی قوت خرید بڑھ جاتی ہے جس کا فائدہ بالآخر پھر دولت مند تاجروں اور صنعت کاروں کو ہی پہنچتا ہے اور اس طرح انھیں جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ سود پر روپیہ دینے کی نسبت بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو لوگ صدقات و زکوٰۃ ادا کرتے ہیں انھیں قیامت کو اس سے بہت زیادہ اجر ملے گا۔ یہ اجر دس گناہ بھی ہو سکتا ہے۔ ستر گناہ بھی سات سو گنا بھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور اس اجر کی کمی بیشی کے لئے بھی اللہ کے ہاں چند اصول ہیں۔ مثلاً جس محتاج کی ضرورت پوری کی گئی وہ کس حد تک ضرورت مند تھا۔ خرچ کرنے والے کی نیت میں خلوص کتنا تھا۔ اور پھر اس نے یہ نیکی کرنے کے بعد کوئی ایسا کام تو نہیں کیا جس سے وہ اپنا اجر ضائع کر دے۔ یا خرچ کرتے وقت کچھ ریا کا عنصر تو شامل نہیں تھا اور خرچ کرنے کے وقت شریعت کی ہدایات کو ملحوظ رکھا گیا تھا یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صلہ رحمی کی تاکید ٭٭
قرابتداروں کے ساتھ نیکی سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا حکم ہو رہا ہے مسکین اسے کہتے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو یا کچھ ہو لیکن بقدر کفایت نہ ہو۔ اس کے ساتھ بھی سلوک واحسان کرنے کا حکم ہو رہا ہے۔
مسافر جس کا خرچ کم پڑ گیا ہو اور سفر خرچ پاس نہ رہا ہو اس کے ساتھ بھی بھلائی کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن دیدار اللہ کریں حقیقت میں انسان کے لیے اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ دنیا اور آخرت میں نجات ایسے ہی لوگوں کو ملے گی۔
اس دوسری آیت کی تفسیر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد، ضحاک، قتادۃ، عکرمہ، محمد بن کعب اور شعبی رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے کہ جو شخص کوئی عطیہ اس ارادے سے دے کہ لوگ اسے اس سے زیادہ دیں۔ تو گو اس ارادے سے ہدیہ دینا ہے تو مباح لیکن ثواب سے خالی ہے۔ اللہ کے ہاں اس کا بدلہ کچھ نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی روک دیا اس معنی میں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص ہوگا۔
اسی کی مشابہ آیت «وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ» ۱؎ [74-المدثر:6]‏‏‏‏ ہے یعنی ’ زیادتی معاوضہ کی نیت سے کسی کے ساتھ احسان نہ کیا کرو ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سود یعنی نفع کی دوصورتیں ہیں ایک تو بیوپار تجارت میں سود یہ تو حرام محض ہے۔ دوسرا سود یعنی زیادتی جس میں کوئی حرج نہیں وہ کسی کو اس ارادہ سے ہدیہ تحفہ دینا ہے کہ یہ مجھے اس سے زیادہ دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ اللہ کے پاس ثواب تو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کو بہت برکتیں ہوتی ہیں۔‏‏‏‏
صحیح حدیث میں ہے کہ { جو شخص ایک کھجور بھی صدقے میں دے لیکن حلال طور سے حاصل کی ہوئی ہو تو اسے اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اسطرح پالتا اور بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہی ایک کھجور احد پہاڑ سے بھی بڑی ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1410]‏‏‏‏
اللہ ہی خالق ورازق ہے۔ انسان اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا، بےعلم، بے کان، بےآنکھ، بےطاقت نکلتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے سب چیزیں عطا فرماتا ہے۔ مال، ملکیت، کمائی، تجارت غرض بےشمار نعمتیں عطا فرماتا ہے۔
دوصحابیوں رضوان اللہ علیہم کا بیان ہے کہ { ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { دیکھو سرہ لنے لگے تب تک بھی روزی سے کوئی محروم نہیں رہتا۔ انسان ننگا بھوکا دنیا میں آتا ہے ایک چھلکا بھی اس کے بدن پر نہیں ہوتا پھر رب ہی اسے روزیاں دیتا ہے } }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:4798،]‏‏‏‏۔
اس حیات کے بعد تمہیں مار ڈالے گا پھر قیامت کے دن زندہ کرے گا۔ اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کر رہے ہو ان میں سے ایک بھی ان باتوں میں سے کسی ایک پر قابو نہیں رکھتا۔ ان کاموں میں سے ایک بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی تنہا خالق رازق اور موت زندگی کا مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کو جلا دے گا۔ اس کی مقدس، منزہ، معظم اور عزت وجلال والی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا شریک ہو یا اس جیسا ہو یا اس کے برابر ہو یا اس کی اولاد ہو یا ماں باپ ہوں وہ «احد» ہے، «صمد» ہے، فرد ہے، ماں باپ اولاد سے پاک ہے اس کا کفو کوئی نہیں۔