وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّہُمۡ مُّنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَہُمۡ مِّنۡہُ رَحۡمَۃً اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔
En
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
En
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 33) ➊ {وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ:} اس آیت میں اس بات کی دلیل بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت توحید ہے کہ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کی شہادت ہر انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ وہ زبان سے اس کا اقرار نہ کرے مگر واقعات سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”جیسے بھلے برے کام ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا بھی ہر انسان کی جِبِلَّت پہچانتی ہے، جو ڈر کے وقت کھل جاتی ہے (یعنی مصیبت پیش آنے پر ظاہر ہو جاتی ہے)۔“
➋ { ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً …:} ”پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے“ مثلاً بیماری سے شفا یا طوفان سے نجات یا بدحالی کے بعد خوش حالی اور دولت مندی وغیرہ، جو خالص اس کی طرف سے ہوتی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل یا اختیار نہیں ہوتا، تو اچانک وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا رہے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دوسرے معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانے کے صدقے سے ٹلی ہے۔ ”اچانک“ کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف دور ہوتے ہی فوراً ناشکری اور شرک کرنے لگتے ہیں۔
➋ { ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً …:} ”پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا کرتا ہے“ مثلاً بیماری سے شفا یا طوفان سے نجات یا بدحالی کے بعد خوش حالی اور دولت مندی وغیرہ، جو خالص اس کی طرف سے ہوتی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل یا اختیار نہیں ہوتا، تو اچانک وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا رہے ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دوسرے معبودوں کی نذریں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے لگتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم سے یہ مصیبت فلاں بزرگ یا فلاں آستانے کے صدقے سے ٹلی ہے۔ ”اچانک“ کا مطلب یہ ہے کہ تکلیف دور ہوتے ہی فوراً ناشکری اور شرک کرنے لگتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع [37] کر کے اسے پکارتے ہیں پھر جب اللہ انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اس وقت ان میں سے کچھ لوگ اپنے پروردگار سے شرک [38] کرنے لگتے ہیں۔
[37] جب انسان کو موت سامنے کھڑی نظر آتی ہے یا کوئی اور سخت مشکل پیش آتی ہے تو اس وقت وہ صرف اکیلے اللہ کو پکارتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ بلا ارادہ اور بے اختیار اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ توحید کی پکار انسان کا فطری داعیہ ہے۔ اور اس کے دل کی گہرائیوں میں توحید کی شہادت موجود ہے۔ [38] یعنی جب خوشحالی کے دن آتے ہیں تو اللہ کو تو بھول جاتا ہے اور دوسرے معبودوں یا پیروں، فقیروں کی نذریں نیازیں چڑھنا شروع ہو جاتی ہیں کہ فلاں مصیبت ہم سے فلاں حضرت یا فلاں آستانے کے طفیل دور ہوئی تھی۔ یا یہ خوشحالی ہمیں فلاں حضرت کی نظر کرم کی وجہ سے ملی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسان کی مختلف حالتیں ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کی حالت بیان فرما رہا ہے کہ ’ دکھ درد مصیبت و تکلیف کے وقت تو وہ اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کو بڑی عاجزی زاری نہایت توجہ اور پوری دلسوزی کے ساتھ پکارتے ہیں اور جب اس کی نعمتیں ان پر برسنے لگتی ہے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں ‘۔
«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔
بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔
پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
«لِيَكْفُرُوا» میں لام بعض تو کہتے ہیں لام عاقبت ہے اور بعض کہتے ہیں لام تعلیل ہے۔ لیکن لام تعلیل ہونا اس وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ مقرر کیا پھر انہیں دھمکایا کہ تم ابھی معلوم کرلو گے۔
بعض بزرگوں کا فرمان ہے کہ کوتوال یا سپاہی اگر کسی کو ڈرائے دھمکائے تو وہ کانپ اٹھتا ہے تعجب ہے کہ اس کے دھمکانے سے ہم دہشت میں آئیں جس کے قبضے میں ہرچیز ہے اور جس کا صرف یہ کہدینا ہر امر کے لیے کافی ہے کہ ہو جا۔
پھر مشرکین کا محض بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ہم نے ان کے شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری ‘۔
پھر انسان کی ایک بے ہودہ خصلت بطور انکار بیان ہو رہی ہے کہ ’ سوائے چند ہستیوں کے عموماً حالت یہ ہے کہ راحتوں کے وقت پھول جاتے ہیں اور سختیوں کے وقت مایوس ہو جاتے ہیں۔ گویا اب کوئی بہتری ملے گی نہیں۔ ہاں مومن سختیوں میں صبر اور نرمیوں میں نیکیاں کرتے ہیں ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے { مومن پر تعجب ہے اس کے لیے اللہ کی ہر قضاء بہتر ہی ہوتی ہے۔ راحت پر شکر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999]
اللہ تعالیٰ ہی متصرف اور مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق جہان کا نظام چلارہا ہے کسی کو کم دیتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے۔ کوئی تنگی ترشی میں ہے کوئی وسعت اور فراخی میں۔ اس میں مومنوں کے لیے نشان ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ”اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔“ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ﴾ ”تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔“ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّؔنْهُ رَحْمَةً ﴾ ” پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔“ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِیْقٌ مِّؔنْهُمْ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا مَسَّ الناسَ ضُرٌّ}: مرضٌ أو خوفٌ من هلاك ونحوه، {دَعَوْا ربَّهم منيبين إليه}: ونسوا ما كانوا به يشرِكون في تلك الحال؛ لعلمِهم أنَّه لا يكشفُ الضُّرَّ إلاَّ الله، فَـ {إذَا أذاقَهُم منه رحمةً}: شفاهم من مرضهم وآمَنَهم من خوفهم، {إذا فريقٌ منهم}: ينقُضون تلك الإنابةَ التي صدرت منهم، ويشرِكون به مَنْ لا دَفَعَ عنهم ولا أغنى ولا أفقر ولا أغنى، وكلُّ هذا كفرٌ بما آتاهم اللَّه ومنَّ به عليهم حيثُ أنجاهم وأنقَذَهم من الشدَّة وأزال عنهم المشقَّة؛ فهلاَّ قابلوا هذه النعمة الجليلة بالشُّكر والدوام على الإخلاص له في جميع الأحوال؟!