ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 32

مِنَ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا ؕ کُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَیۡہِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾
ان لوگوں سے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی گروہ ہوگئے، ہر گروہ اسی پر جو ان کے پاس ہے، خوش ہیں۔ En
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
En
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا:} یعنی ان لوگوں سے نہ ہو جاؤ جنھوں نے اصل اور فطری دین (توحید) کو چھوڑ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور کئی گروہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کوئی کسی کی عبادت کرنے لگا اور کوئی کسی دوسرے کی۔ ان کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا ہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ حق ایک ہے اور باطل گروہوں کا شمار نہیں۔ { مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۵۹) معلوم ہوا دنیا میں کفر و شرک کے جتنے دین پائے جاتے ہیں وہ سب اصل دین فطرت (توحید) میں بگاڑ سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳) اور سورۂ یونس (۱۹)۔
➋ { كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ:} یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انھوں نے تلاش کر رکھے ہیں انھیں دلائل سے تعبیر کرتے ہیں اور ان پر خوش ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32-1یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکے الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ 32-2یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ جنہوں نے اپنا دین الگ کر لیا اور گروہوں [35] میں بٹ گئے۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن [36] ہے۔
[35] توحید کے عقیدہ میں ترمیم یا اضافہ کرنے والے سب مشرک ہیں:۔
یعنی فطری دین تو خالص توحید پر مبنی ہے۔ اب جو کوئی اس فطری دین میں کچھ بگاڑ پیدا کرے گا یا اس میں کچھ اضافے کرے گا پھر ان بگڑے ہوئے یا زائد عقائد پر لوگوں کی جتھہ بندی کر کے کوئی ایک فرقہ کھڑا کر دے گا جس کا امتیاز وہی بگڑا ہوا یا زائد عقیدہ ہو سکتا ہے تو ایسے سب کام شرک میں داخل ہیں اس طرح اس فطری دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے، ان میں اضافے کرنے والے اور ان کی اتباع کرنے والے سب کے سب مشرک ہوئے۔
انسان کی ابتدا توحید سے ہوئی تھی نہ کہ شرک سے :۔
اس آیت کی رو سے یہ معلوم ہوا کہ انسان ابتداًء توحید پرست تھا۔ توحید ہی اس کا فطری مذہب ہے۔ نیز ابو البشر حضرت آدمؑ خود نبی تھے اور نبی فطری دین یعنی توحید کا داعی ہوتا ہے لیکن جب موجودہ دور کے محققین مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان ابتداًء مظاہر پرست تھا پھر آہستہ آہستہ توحید کی طرف پلٹا ہے۔ یہ فلسفہ مذاہب سراسر وہم و قیاس پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے فطری حقائق کو مسخ کر کے اور ان میں اضافے کر کے نئے نئے مذاہب اور فرقے ایجاد کر ڈالے ہیں (تفصیل کے لئے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 213 کا حاشیہ نمبر 281 ملاحظہ فرمائیے)
[36] ہر فرقہ اپنے ہی عقائد کا گرویدہ ہے :۔
مزید بگاڑ یہ پیدا ہو گیا کہ جو فطری حقائق تھے انھیں تو لوگوں نے درخور اعتنا ہی نہ سمجھا اور اپنی اپنی اضافہ کردہ چیزوں کا ہی گرویدہ اور مفتوں ہو گیا۔ جس کی بدولت وہ دوسروں سے جدا ہو کر ایک الگ فرقہ بنا تھا۔ پھر ہر فرقہ کے لوگوں میں اپنے ٹھہرائے ہوئے اصول و عقائد پر کچھ ایسا تعصب پیدا ہو گیا کہ اسے اپنے ان غیر فطری اور مہمل عقائد میں غلطی کا امکان تک تصور میں نہیں آتا تھا۔ اور ہر کوئی دوسرے فرقوں کو گمراہ قرار دینے لگا اور صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر اسی میں مگن ہو گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُ٘وْا دِیْنَهُمْ جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے، ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنا لیا اوران میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَكَانُوْا شِیَعًا اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنا لیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کر دی۔
﴿كُ٘لُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ سب فرقے اس سے جوان کے پاس ہے انبیاء و مرسلین کے علوم کی مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ ﴿فَرِحُوْنَ ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔
یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے، رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہو چکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمان قائم کر دی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورت حال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے؟
کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا، ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں، اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے، اور انابت، انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوش حالی، فراخی اور تنگی ہر حال میں اختیار کی جاتی ہے، پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہو جاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے، لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ حالة المشركين مهجِّناً لها ومقبِّحاً، فقال: {من الذين فَرَّقوا دينَهم}: مع أنَّ الدين واحدٌ، وهو إخلاصُ العبادة لله وحدَه، وهؤلاء المشركون فرَّقوه: منهم من يعبدُ الأوثان والأصنام، ومنهم من يعبدُ الشمس والقمر، ومنهم من يعبدُ الأولياء والصالحين، ومنهم يهودٌ، ومنهم نصارى، ولهذا قال: {وكانوا شِيَعاً}؛ أي: كلُّ فرقةٍ من فرق الشرك تاهتْ وتعصَّبتْ على نصرِ ما معها من الباطل ومنابذةِ غيرِهِم ومحاربتِهم. {كلُّ حزبٍ بما لديهم}: من العلوم المخالفة لعلوم الرسل {فرِحونَ}: به يحكُمون لأنفسِهم بأنَّه الحقُّ وأنَّ غيرهم على باطل.

وفي هذا تحذيرٌ للمسلمين من تشتُّتهم وتفرُّقهم فرقاً، كلُّ فريق يتعصَّبُ لما معه من حقٍّ وباطلٍ، فيكونون مشابهين بذلك للمشركين في التفرُّق، بل الدين واحدٌ، والرسول واحدٌ، والإله واحدٌ، وأكثر الأمور الدينيَّة وقع فيها الإجماع بين العلماء والأئمَّة، والأخوَّة الإيمانيَّة قد عقدها الله وربَطَها أتمَّ ربط؛ فما بالُ ذلك كلِّه يُلغى ويُبنى التفرُّقُ والشقاقُ بين المسلمين على مسائل خفيَّةٍ أو فروع خلافيَّةٍ يضلِّلُ بها بعضُهم بعضاً ويتميَّز بها بعضُهم عن بعضٍ؟! فهل هذا إلاَّ من أكبر نزغات الشيطانِ وأعظم مقاصدِهِ التي كاد بها المسلمين؟! وهل السعي في جمع كلمتهم وإزالةِ ما بينَهم من الشقاق المبنيِّ على ذلك الأصل الباطل إلاَّ من أفضل الجهادِ في سبيل الله وأفضلِ الأعمال المقرِّبة إلى الله؟!

ولما أمر تعالى بالإنابة إليه، وكان المأمور بها هي الإنابة الاختيارية، التي تكون في حالِ العسر واليسر والسَّعة والضيق؛ ذكر الإنابة الاضطراريَّة التي لا تكون مع الإنسان إلاَّ عند ضيقِهِ وكربِهِ؛ فإذا زال عنه الضيق؛ نَبَذَها وراء ظهرِهِ، وهذه غيرُ نافعةٍ، فقال: