تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّہُمۡ مُّنِیۡبِیۡنَ اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَہُمۡ مِّنۡہُ رَحۡمَۃً اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ بِرَبِّہِمۡ یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ انھیں اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ En
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے
En
لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وه اپنی طرف سے رحمت کاذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّؔنْهُ رَحْمَةً پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِیْقٌ مِّؔنْهُمْ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا مَسَّ الناسَ ضُرٌّ}: مرضٌ أو خوفٌ من هلاك ونحوه، {دَعَوْا ربَّهم منيبين إليه}: ونسوا ما كانوا به يشرِكون في تلك الحال؛ لعلمِهم أنَّه لا يكشفُ الضُّرَّ إلاَّ الله، فَـ {إذَا أذاقَهُم منه رحمةً}: شفاهم من مرضهم وآمَنَهم من خوفهم، {إذا فريقٌ منهم}: ينقُضون تلك الإنابةَ التي صدرت منهم، ويشرِكون به مَنْ لا دَفَعَ عنهم ولا أغنى ولا أفقر ولا أغنى، وكلُّ هذا كفرٌ بما آتاهم اللَّه ومنَّ به عليهم حيثُ أنجاهم وأنقَذَهم من الشدَّة وأزال عنهم المشقَّة؛ فهلاَّ قابلوا هذه النعمة الجليلة بالشُّكر والدوام على الإخلاص له في جميع الأحوال؟!