تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:” الْمَثَلُ “} سے مراد یہاں صفت اور شان ہے، یعنی زمین ہو یا آسمان، پوری کائنات میں سب سے اعلیٰ صفت اور سب سے اونچی شان صرف اس کی ہے۔ {” لَهُ “} کو پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے۔“ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے: [قَوْلُهُ: «وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ» يَقُوْلُ: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ» ] یعنی یہ زیر تفسیر آیت اللہ کے اس فرمان کی طرح ہے: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ }» [الشورٰی: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے، اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن و خوبی میں اللہ تعالیٰ کی شان اور صفات کے برابر تو کیا اس سے کوئی نسبت ہی نہیں رکھتی، کیونکہ کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو اس کی عطا کردہ ہے۔
➌ { وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} خبر کے معرف باللاّم آنے کے ساتھ حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جو سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے کرے، نہ اس کے لیے کچھ مشکل ہے نہ کوئی اس کے ارادے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، مگر غالب ہونے کے ساتھ وہ کمال حکمت والا بھی ہے۔ اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ کمال حکمت پر مشتمل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[27] یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ صفات اور اونچی سے اونچی شان اسی کی ہے۔ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز حسن اور خوبی میں اللہ کی شان اور صفات سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ بلکہ اگر کسی چیز میں کوئی خوبی موجود بھی ہے تو وہ اسی کے کمالات کا ادنیٰ پرتو ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک حدیث میں ہے کہ { قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف]
ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتداء کے عادتاً آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیئے نہیں تھا۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولاً پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا؟ حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے۔ اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں۔ ‘ } } ۱؎ [صحیح بخاری:4974]۔
الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ «ھُوَ» کی ضمیر کا مرجع «خَلْقُ» ہو۔ «مَثَلُ» سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» ۱؎ [42-الشورى:11] ’ اس کی مثال کوئی اور نہیں ‘۔
بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہرچیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست و لاچار عاجز و بے بس ہے۔ اس کی قدرت، سطوت، سلطنت ہرچیز محیط ہے۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال، افعال، شریعت، تقدیر، غرض ہر ہر امر میں۔
محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «مَثَلُ الْاَعْلی» سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وهو الذي يبدأ الخَلْقَ ثم يعيدُه وهو}؛ أي: إعادةُ الخلق بعد موتهم، {أهونُ عليه}: من ابتداء خَلْقِهم، وهذا بالنسبة إلى الأذهان والعقول؛ فإذا كان قادراً على الابتداء الذي تقرُّون به؛ كان قدرتُه على الإعادة التي هي أهون أولى وأولى.
ولمَّا ذكر من الآيات العظيمةِ ما به يعتبر المعتبرونَ، ويتذكَّر المؤمنون، ويستبصِرُ المهتدون؛ ذكر الأمر العظيم والمطلب الكبير، فقال: {وله المَثَلُ الأعلى في السمواتِ والأرضِ}: وهو كلُّ صفةِ كمال، والكمال من تلك الصفة، والمحبة والإنابة التامة الكاملة في قلوب عباده المخلصين والذكر الجليل والعبادة منهم؛ فالمَثَلُ الأعلى هو وصفُه الأعلى وما ترتَّب عليه، ولهذا كان أهلُ العلم يستعمِلون في حقِّ الباري قياس الأولى، فيقولون: كلُّ صفة كمال في المخلوقاتِ؛ فخالِقُها أحق بالاتِّصاف بها على وجه لا يشارِكُه فيها أحدٌ، وكلُّ نقص في المخلوق يُنَزَّهُ عنه؛ فتنزيهُ الخالق عنه من باب أولى وأحرى. {وهو العزيزُ الحكيمُ}؛ أي: له العزَّة الكاملة والحكمة الواسعة، فعزَّتُه أوجدَ بها المخلوقاتِ وأظهرَ المأموراتِ، وحكمتُه أتقنَ بها ما صَنَعَه وأحسنَ فيها ما شَرَعَه.