(آیت 10) {ثُمَّكَانَعَاقِبَةَالَّذِيْنَاَسَآءُواالسُّوْٓاٰۤى …: ”السُّوْٓاٰۤى“”أَسْوَأُ“} کا مؤنث ہے جو اسم تفضیل ہے، مگر یہاں تفضیل مراد نہیں بلکہ مراد مبالغہ ہے، یعنی بہت ہی برا۔ {”اَنْكَذَّبُوْا“} سے پہلے لام محذوف ہے، یعنی اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا۔ {”ثُمَّ“} کا لفظ لانے میں اشارہ ہے کہ ان قوموں کو بہت مہلت دی گئی، پھر آخر کار ان کا انجام بہت ہی برا ہوا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ پھر جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بھی برا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق [9] اڑایا کرتے تھے۔
[9] یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّكَانَعَاقِبَةَالَّذِیْنَاَسَآءُواالسُّوْٓاٰۤى ﴾” پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔“ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوْابِاٰیٰتِاللّٰهِوَكَانُوْابِهَایَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾”انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔“ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم كان عاقبةُ الذين أساؤوا}؛ أي: المسيئين {السوأى}؛ أي: الحالة السيئة الشنيعة، وصار ذلك داعياً لهم لأن {كذَّبوا بآيات الله وكانوا بها يستهزئون}: فهذا عقوبةٌ لسوئهم وذنوبهم، ثم ذلك الاستهزاء والتكذيب يكونُ سبباً لأعظم العقوبات وأعضل المثلات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔