تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 10

ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
پھر ان لوگوں کا انجام جنھوں نے برائی کی بہت برا ہی ہوا، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور وہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ En
پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے
En
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وه اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم كان عاقبةُ الذين أساؤوا}؛ أي: المسيئين {السوأى}؛ أي: الحالة السيئة الشنيعة، وصار ذلك داعياً لهم لأن {كذَّبوا بآيات الله وكانوا بها يستهزئون}: فهذا عقوبةٌ لسوئهم وذنوبهم، ثم ذلك الاستهزاء والتكذيب يكونُ سبباً لأعظم العقوبات وأعضل المثلات.