تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّكَانَعَاقِبَةَالَّذِیْنَاَسَآءُواالسُّوْٓاٰۤى ﴾” پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔“ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوْابِاٰیٰتِاللّٰهِوَكَانُوْابِهَایَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾”انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔“ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم كان عاقبةُ الذين أساؤوا}؛ أي: المسيئين {السوأى}؛ أي: الحالة السيئة الشنيعة، وصار ذلك داعياً لهم لأن {كذَّبوا بآيات الله وكانوا بها يستهزئون}: فهذا عقوبةٌ لسوئهم وذنوبهم، ثم ذلك الاستهزاء والتكذيب يكونُ سبباً لأعظم العقوبات وأعضل المثلات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔