ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 11

اَللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بنائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ En
خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے
En
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوباره پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ …:} پچھلی آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ دوبارہ زندہ کرنے اور آخرت برپا کرنے پر قادر ہے۔ اب یہی بات صراحت کے ساتھ بطور دعویٰ ذکر فرمائی اور اس طرح فرمائی کہ اس کی دلیل بھی ساتھ ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ اب تک جو خلق بھی پیدا ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے اور وہ اب بھی ہر لمحے جو چاہتا ہے نئی سے نئی مخلوق پیدا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ بات تم بھی مانتے ہو کہ دوسرے کسی نے نہ خلق کی ابتدا کی، نہ کر رہا ہے، نہ کرے گا اور نہ کسی میں جرأت ہے کہ یہ دعویٰ ہی کرے۔ جب یہ حق ہے تو یہ بھی حق ہے کہ وہ اس خلق کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا، کیونکہ اس کے لیے پہلی دفعہ پیدا کرنا اور دوبارہ پیدا کرنایکساں ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تاکہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى [طٰہٰ: ۱۵] تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11-1یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنے پر بھی قادر ہے، اس لئے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ 11-2یعنی میدان محشر اور موقف حساب میں جہاں وہ عدل و انصاف کا اہتمام فرمائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ [10] کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
[10] اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ النمل کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ نمبر 69 اور سورۃ العنکبوت کی آیت نبز 19 کا حاشیہ نمبر 31۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔
نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔