اَللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ بنائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
En
خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے
En
اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوباره پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11) {اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ …:} پچھلی آیات کا حاصل یہ ہے کہ اللہ سبحانہ دوبارہ زندہ کرنے اور آخرت برپا کرنے پر قادر ہے۔ اب یہی بات صراحت کے ساتھ بطور دعویٰ ذکر فرمائی اور اس طرح فرمائی کہ اس کی دلیل بھی ساتھ ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ }» اب تک جو خلق بھی پیدا ہوئی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہے اور وہ اب بھی ہر لمحے جو چاہتا ہے نئی سے نئی مخلوق پیدا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ بات تم بھی مانتے ہو کہ دوسرے کسی نے نہ خلق کی ابتدا کی، نہ کر رہا ہے، نہ کرے گا اور نہ کسی میں جرأت ہے کہ یہ دعویٰ ہی کرے۔ جب یہ حق ہے تو یہ بھی حق ہے کہ وہ اس خلق کو دوبارہ بھی پیدا کرے گا، کیونکہ اس کے لیے پہلی دفعہ پیدا کرنا اور دوبارہ پیدا کرنایکساں ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تاکہ ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى }» [طٰہٰ: ۱۵] ”تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11-1یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، وہ مرنے کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنے پر بھی قادر ہے، اس لئے کہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ 11-2یعنی میدان محشر اور موقف حساب میں جہاں وہ عدل و انصاف کا اہتمام فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ [10] کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
[10] اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورۃ النمل کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ نمبر 69 اور سورۃ العنکبوت کی آیت نبز 19 کا حاشیہ نمبر 31۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭
فرمان باری ہے کہ ’ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو ‘۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔
نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔
نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔
پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ’ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا: ﴿وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ ﴾ ”اور جس دن قیامت برپا ہوگی“ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿یُ٘بْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴾ ”گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔“ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔
چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَلَمْ یَكُ٘نْ لَّهُمْ مِّنْ شُ٘رَؔكَآىِٕهِمْ ﴾ ”اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی“ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوْا بِشُ٘رَؔكَآىِٕهِمْ كٰفِرِیْنَ ﴾ ”سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔“ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١ٞ مَا كَانُوْۤا اِیَّ٘انَا یَعْبُدُوْنَ ﴾ (القصص:28؍63) ”(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔“ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه المتفرِّدُ بإبداء المخلوقات، ثم يعيدُهم. ثم إليه يُرجعون بعد إعادتهم ليجازيهم بأعمالهم. ولهذا ذكر جزاء أهل الشرِّ ثم جزاء أهل الخير، فقال: {ويوم تقومُ الساعةُ}: ويقوم الناس لربِّ العالمين، [ويرون] القيامة عياناً، يومئذٍ {يُبْلِسُ المجرمون}؛ أي: ييأسون من كلِّ خير، وذلك أنهم ما قَدَّمُوا لذلك اليوم إلاَّ الإجرام، وهي الذنوب من كفرٍ وشركٍ ومعاصٍ، فلما قدَّموا أسباب العقاب، ولم يخلِطوها بشيءٍ من أسباب الثواب؛ أيسوا، وأبلسوا، وأفلسوا، وضلَّ عنهم ما كانوا يفترونه من نفع شركائهم وأنهم يشفعون لهم، ولهذا قال: {ولم يكن لهم من شركائِهِم}: التي عَبَدوها مع الله {شفعاءُ وكانوا بشركائِهِم كافرينَ}: تبرَّأ المشركون ممَّن أشركوهم مع الله، وتبرَّأ المعبودون وقالوا: تبرَّأنا إليك، ما كانوا إيَّانا يعبدونَ، والتعنوا وابتعدوا.