(آیت 95) {قُلْصَدَقَاللّٰهُ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کا بیان صدق پر مبنی ہے کہ کھانے کی یہ قسم پہلے حلال تھی، اس کے بعد اسرائیل اور ان کی اولاد پر حرام کر دی گئی، لہٰذا”نسخ“ صحیح ہے اور تمھارا شبہ باطل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، یہ عین ملتِ ابراہیم علیہ السلام کے مطابق ہے۔ لہٰذا تم بھی دینِ اسلام میں داخل ہو جا ؤ، جو اصول و فروع کے اعتبار سے عین دین ابراہیم کے مطابق ہے۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
95۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ نے (جو کچھ فرمایا ہے) سچ فرمایا ہے لہذا تمہیں حضرت ابراہیم کے [83] طریقہ کی پیروی کرنا چاہیے جو اللہ ہی کے ہو گئے تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے
[83] ملت اور شریعت:۔
ملت ابراہیم سے مراد دین کی اصولی باتیں ہیں جو ہر نبی پر نازل کی جاتی رہیں۔ مثلاً صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، اسے وحدہ لاشریک سمجھنا اور اس کے سوا کسی دوسری قوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا۔ اللہ کو ہی حرام و حلال قرار دینے کا مختار سمجھنا، اخروی سزاو جزا کے قانون پر ایسے ہی اعتقاد رکھنا، جیسے کتاب اللہ میں اس کی وضاحت ہے وغیرہ۔ رہے شرعی مسائل یا شریعت تو وہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مختلف رہے ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت بھی ایسے ہی مسائل سے ہے اور ان میں تبدیلی ہوتی رہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿قُ٘لْصَدَقَاللّٰهُ﴾”کہہ دیجیے اللہ سچا ہے“ ان خبروں میں بھی جو اس نے بتائی ہیں اور ان احکام میں بھی جو اس نے نازل کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے رسول کو اور اس کے رسول کے متبعین کو حکم ہے کہ زبان سے بھی کہیں ”اللہ سچا ہے“ اور ان یقینی دلائل کی بنیاد پر دل میں بھی یہ عقیدہ رکھیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو سمعی اور عقلی تفصیلی دلائل کا علم زیادہ ہوتا ہے، اس کا اللہ کے سچا ہونے پر زیادہ یقین ہوتا ہے۔ پھر حکم دیا کہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے توحید اختیار کریں اور شرک سے اجتناب کریں۔ کیونکہ سعادت و خوش نصیبی کا دارومدار توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے پرہیز کرنے پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودی وغیرہ جو ابراہیم علیہ السلام کے طریقے پر نہیں، وہ مشرک ہیں موحد نہیں۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے اس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا کہ توحید اختیار کریں اور شرک سے بچیں، تو اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے بیت اللہ کا بھی احترام کریں یعنی حج اور عمرہ وغیرہ ادا کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل صدق الله في كل ما قاله ومن أصدق من الله قيلاً وحديثاً؟
وقد بين في هذه الآيات من الأدلة على صحة رسالة محمد - صلى الله عليه وسلم - وبراهين دعوته وبطلان ما عليه المنحرفون من أهل الكتاب الذين كذبوا رسوله وردوا دعوته، فقد صدق الله في ذلك وأقنع عباده على ذلك ببراهين وحجج تتصدع لها الجبال وتخضع لها الرجال، فتعين عند ذلك على الناس كلهم اتباع ملة إبراهيم من توحيد الله وحده لا شريك له، وتصديق كل رسول أرسله الله، وكل كتاب أنزله والإعراض عن الأديان الباطلة المنحرفة، فإن إبراهيم كان معرضاً عن كل ما يخالف التوحيد متبرئاً من الشرك وأهله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔