تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿قُ٘لْصَدَقَاللّٰهُ﴾”کہہ دیجیے اللہ سچا ہے“ ان خبروں میں بھی جو اس نے بتائی ہیں اور ان احکام میں بھی جو اس نے نازل کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے رسول کو اور اس کے رسول کے متبعین کو حکم ہے کہ زبان سے بھی کہیں ”اللہ سچا ہے“ اور ان یقینی دلائل کی بنیاد پر دل میں بھی یہ عقیدہ رکھیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو سمعی اور عقلی تفصیلی دلائل کا علم زیادہ ہوتا ہے، اس کا اللہ کے سچا ہونے پر زیادہ یقین ہوتا ہے۔ پھر حکم دیا کہ اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے توحید اختیار کریں اور شرک سے اجتناب کریں۔ کیونکہ سعادت و خوش نصیبی کا دارومدار توحید کو اختیار کرنے اور شرک سے پرہیز کرنے پر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودی وغیرہ جو ابراہیم علیہ السلام کے طریقے پر نہیں، وہ مشرک ہیں موحد نہیں۔ جب ابراہیم علیہ السلام کے اس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا کہ توحید اختیار کریں اور شرک سے بچیں، تو اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی پیروی کرتے ہوئے بیت اللہ کا بھی احترام کریں یعنی حج اور عمرہ وغیرہ ادا کریں۔ چنانچہ ارشاد ہے:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل صدق الله في كل ما قاله ومن أصدق من الله قيلاً وحديثاً؟
وقد بين في هذه الآيات من الأدلة على صحة رسالة محمد - صلى الله عليه وسلم - وبراهين دعوته وبطلان ما عليه المنحرفون من أهل الكتاب الذين كذبوا رسوله وردوا دعوته، فقد صدق الله في ذلك وأقنع عباده على ذلك ببراهين وحجج تتصدع لها الجبال وتخضع لها الرجال، فتعين عند ذلك على الناس كلهم اتباع ملة إبراهيم من توحيد الله وحده لا شريك له، وتصديق كل رسول أرسله الله، وكل كتاب أنزله والإعراض عن الأديان الباطلة المنحرفة، فإن إبراهيم كان معرضاً عن كل ما يخالف التوحيد متبرئاً من الشرك وأهله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔