تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”مشرک اللہ تعالیٰ کے چور ہیں اور چور کے دل میں ڈر ہوتا ہے۔“ (موضح) چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہوا اور کافر احد میں باوجود غالب ہونے کے چپکے سے میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ واپسی کے وقت راستے میں انھوں نے دوبارہ مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا مگر مرعوب ہو گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ چیزوں میں مجھے پہلے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔“ [بخاری، التیمم، بابٌ: ۳۳۵۔ مسلم: ۵۲۱، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار کے دل میں رعب ڈالنے کا وعدہ احد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عام ہے۔
➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی امت، یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے، گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے ڈرتا اور لرزتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں گرفتار ہوئی، تقریباً ہر شہر اور محلہ میں پختہ قبریں اور غیر اللہ کے آستانے بن گئے اور غیر اللہ سے استغاثہ اور مدد مانگنا شروع ہو گئے، تو وہی رعب جو شرک کی وجہ سے کفار کے دل میں تھا، ڈیڑھ ارب کے قریب تعداد ہونے کے باوجود مسلمانوں کے دلوں میں پڑ گیا۔ ہاں، توحید والے اس رعب سے محفوظ ہیں اور قیامت تک کفار سے جہاد جاری رکھیں گے اور ان کا رعب کفار کے دلوں میں کفار کے مشرکانہ عقائد و اعمال کی وجہ سے رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَنْ يَّبْرَحَ هٰذَا الدِّيْنُ قَائِمًا يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ حَتّٰي تَقُوْمَ السَّاعَةُ] [مسلم، الأمارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تزال طائفۃ من أمتی…: ۱۹۲۲، عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ]”یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی، حتیٰ کہ قیامت قائم ہو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ﴾
والا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ مومن صرف ایک اللہ کا پرستار ہوتا ہے جو مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ بشرطیکہ مومن اس کی اطاعت کریں اور اسی پر توکل کریں۔ اللہ پر توکل اور تقدیر الٰہی کا عقیدہ اسے اللہ کے علاوہ باقی سب چیزوں سے بے خوف اور نڈر بنا دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فمن ولايته ونصره لهم أنه وعدهم أنه سيلقي في قلوب أعدائهم من الكافرين الرعب، وهو الخوف العظيم الذي يمنعهم من كثير من مقاصدهم، وقد فعل تعالى، وذلك أن المشركين بعد ما انصرفوا من وقعة أُحد تشاوروا بينهم، وقالوا: كيف ننصرف بعد أن قتلنا منهم من قتلنا وهزمناهم ولما نستأصلهم؟ فهَمُّوا بذلك، فألقى اللَّهُ الرعبَ في قلوبهم فانصرفوا خائبين.
ولا شكَّ أن هذا من أعظم النصر، لأنه قد تقدم أن نصر الله لعباده المؤمنين لا يخرج عن أحد أمرين: إما أن يقطعَ طرفاً ممن كفروا أو يكبتهم فينقلبوا خائبين. وهذا من الثاني. ثم ذكر السبب الموجب لإلقاء الرعب في قلوب الكافرين فقال: {بما أشركوا بالله ما لم ينزل به سلطاناً}؛ أي: ذلك بسبب ما اتخذوا من دونه من الأنداد والأصنام التي اتخذوها على حسب أهوائهم وإراداتهم الفاسدة من غير حجة ولا برهان، وانقطعوا من ولاية الواحد الرحمن، فمن ثَمَّ كان المشرك مرعوباً من المؤمنين لا يعتمد على ركن وثيق، وليس له ملجأ عند كل شدة وضيق، هذا حاله في الدنيا وأما في الآخرة فأشد وأعظم، ولهذا قال: {ومأواهم النار}؛ أي: مستقرهم الذي يأوون إليه وليس لهم عنها خروج {وبئس مثوى الظالمين}، بسبب ظلمهم وعدوانهم؛ صارت النارُ مثواهم.