تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
جنگ کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ مصیبت ہم پر کیسے آگئی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نصرت کا وعدہ فرمایا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے تو اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا، پھر جو کچھ ہوا یہ تمھارے ہمت ہارنے اور آپس میں جھگڑنے اور تمھاری نافرمانی کا نتیجہ تھا۔ (قرطبی)
➋ {ثُمَّ صَرَفَكُمْ …:} یعنی غلبہ کے بعد ان کے مقابلہ میں تمھیں پسپائی دلائی، تاکہ تمھاری آزمائش ہو کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کمزور ایمان والا اور جھوٹا۔ (قرطبی)
➌ {وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ:} یعنی گو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور جنگ سے فرار کی راہ اختیار کر کے نہایت سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا، جس کی تمھیں سخت سزا دی جا سکتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمھارا سارا قصور معاف فرما دیا۔ اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شرف کا اظہار ہے جو ان کی کوتاہیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر فرمایا، یعنی ان کی غلطیوں کی وضاحت کر کے، تاکہ آئندہ ان کا اعادہ نہ کریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے معافی کا عام اعلان فرما دیا تو اب کسی کے لیے ان پر طعن و تشنیع کی کیا گنجائش رہ گئی۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس عثمان رضی اللہ عنہ پر بعض اعتراضات کیے، ایک ان میں سے یہ تھا کہ وہ احد کے دن فرار ہو گئے تھے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔“ [بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالٰی: «إن الذین تولوا منکم…» : ۴۰۶۶]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
خاتمہ جنگ کے بعد ابو سفیان کا نعرہ اور سوال و جواب: اس وقت ابو سفیان نے تین بار یہ آواز دی کیا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) لوگوں میں (زندہ) موجود ہیں؟ مگر آپ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع کر دیا۔ پھر اس نے تین بار آواز دی: کہا ابو قحافہ کے بیٹے موجود ہیں؟ پھر تین بار پکارا: کیا خطاب کے بیٹے موجود ہیں؟ پھر اپنے ساتھیوں سے متوجہ ہو کر کہنے لگا: یہ تو سب قتل ہو چکے۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر رہ نہ سکے اور اسے کہا: اللہ کے دشمن! جھوٹ کہتے ہو۔ جن کے تم نے نام لیے ہیں سب کے سب زندہ ہیں اور ابھی تیرا برا دن آنے والا ہے۔ اس وقت ابو سفیان کہنے لگا: اچھا آج بدر کے دن کا بدلہ ہو گیا اور لڑائی تو ڈولوں کی طرح ہوتی ہے (کبھی ادھر کبھی ادھر) تم اپنے مقتولین میں مثلہ کیا ہوا دیکھو گے جس کا میں نے حکم نہیں دیا تھا۔ تاہم اسے برا بھی نہیں سمجھتا۔ پھر اس نے دو مرتبہ ’ہبل کی جے‘ کا نعرہ لگایا تو آپ نے صحابہ سے کہا اسے جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے پوچھا ’یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟‘ فرمایا: کہو ”اللہ ہی سب سے برتر اور بزرگ ہے۔“ پھر ابو سفیان نے پکارا: ہمارا تو عزیٰ بھی ہے جو تمہارا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اسے جواب کیوں نہیں دیتے۔“ صحابہ نے پوچھا کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: یوں کہو: ”ہمارا تو کارساز اللہ ہے۔ لیکن تمہارا کوئی کارساز نہیں۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب دواء الجرح باحراق الحصیر و غسل المراۃ]
[بخاری، کتاب الجہاد، باب ایضاً]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولقد صدقكم الله وعده} بالنصر فنصركم عليهم حتى ولوكم أكتافهم، وطفقتم فيهم قتلاً حتى صرتم سبباً لأنفسكم وعوناً لأعدائكم عليكم، فلما حصل منكم الفشل وهو الضعف والخور {وتنازعتم في الأمر} الذي فيه ترك أمر الله بالائتلاف وعدم الاختلاف، فاختلفتم؛ فمن قائل نقيم في مركزنا الذي جعلنا فيه النبي - صلى الله عليه وسلم -، ومن قائل ما مقامنا فيه وقد انهزم العدو ولم يبق محذور، فعصيتم الرسول وتركتم أمره، من بعد ما أراكم الله ما تحبون، وهو انخذال أعدائكم، لأن الواجب على من أنعم الله عليه بما أحب أعظم من غيره، فالواجب في هذه الحال خصوصاً وفي غيرها عموماً امتثال أمر الله ورسوله، {منكم من يريد الدنيا}؛ وهم الذين أوجب لهم ذلك ما أوجب، {ومنكم من يريد الآخرة}؛ وهم الذين لزموا أمر رسول الله.
وثبتوا حيث أُمروا، {ثم صرفكم عنهم}؛ أي: بعد ما وجدت هذه الأمور منكم، صرف الله وجوهكم عنهم، فصار الوجه لعدوكم ابتلاء من الله لكم وامتحاناً، ليتبين المؤمن من الكافر والطائع من العاصي، وليكفِّرَ الله عنكم بهذه المصيبة ما صدر منكم فلهذا قال: {ولقد عفا عنكم والله ذو فضل على المؤمنين}؛ أي: ذو فضل عظيم عليهم، حيث مَنَّ عليهم بالإسلام، وهداهم لشرائعه، وعفا عنهم سيئاتهم، وأثابهم على مصيباتهم، ومن فضله على المؤمنين أنه لا يُقَدِّرُ عليهم خيراً ولا مصيبةً إلا كان خيراً لهم، إن أصابتهم سرَّاء فشكروا، جازاهم جزاءَ الشاكرين، وإن أصابتهم ضرَّاء فصبروا، جازاهم جزاء الصابرين.