ہم عنقریب ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دیں گے، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ ظالموں کا برا ٹھکانا ہے۔
En
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان ﻇالموں کی بری جگہ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ کی سرپرستی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کی مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ان کے دشمن کفار کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ یہاں رعب سے مراد وہ خوف عظیم ہے جو کفار کو ان کے بہت سے مقاصد سے روک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا فرمایا وہ اس طرح کہ ”اُحد“ کے واقعہ کے بعد جب مشرکین واپس لوٹے تو (راستے میں) انھوں نے باہمی مشورہ کیا اور کہنے لگے ”ہم کیسے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ ہم نے ان کے بعض لوگوں کو قتل کیا اور ان کو شکست دی مگر ہم نے ان کا مکمل استیصال نہیں کیا۔“ چنانچہ انھوں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بہت بڑی فتح ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت، دو امور سے خالی نہیں ہوتی: (۱) اللہ تعالیٰ یا تو کفار کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ (۲) یا انھیں ذلت سے دوچار کرتا ہے اور وہ خائب و خاسر واپس لوٹ جاتے ہیں اور یہ (رعب ڈال کر انھیں ناکام لوٹا دینا) دوسری قسم سے ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَاۤاَشْرَؔكُوْابِاللّٰهِمَالَمْیُنَزِّلْبِهٖسُلْطٰنًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہو جاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہو گا اس لیے فرمایا: ﴿وَمَاْوٰىهُمُالنَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانہ جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے ﴿وَبِئْسَمَثْوَىالظّٰلِمِیْنَ﴾”اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا“ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فمن ولايته ونصره لهم أنه وعدهم أنه سيلقي في قلوب أعدائهم من الكافرين الرعب، وهو الخوف العظيم الذي يمنعهم من كثير من مقاصدهم، وقد فعل تعالى، وذلك أن المشركين بعد ما انصرفوا من وقعة أُحد تشاوروا بينهم، وقالوا: كيف ننصرف بعد أن قتلنا منهم من قتلنا وهزمناهم ولما نستأصلهم؟ فهَمُّوا بذلك، فألقى اللَّهُ الرعبَ في قلوبهم فانصرفوا خائبين.
ولا شكَّ أن هذا من أعظم النصر، لأنه قد تقدم أن نصر الله لعباده المؤمنين لا يخرج عن أحد أمرين: إما أن يقطعَ طرفاً ممن كفروا أو يكبتهم فينقلبوا خائبين. وهذا من الثاني. ثم ذكر السبب الموجب لإلقاء الرعب في قلوب الكافرين فقال: {بما أشركوا بالله ما لم ينزل به سلطاناً}؛ أي: ذلك بسبب ما اتخذوا من دونه من الأنداد والأصنام التي اتخذوها على حسب أهوائهم وإراداتهم الفاسدة من غير حجة ولا برهان، وانقطعوا من ولاية الواحد الرحمن، فمن ثَمَّ كان المشرك مرعوباً من المؤمنين لا يعتمد على ركن وثيق، وليس له ملجأ عند كل شدة وضيق، هذا حاله في الدنيا وأما في الآخرة فأشد وأعظم، ولهذا قال: {ومأواهم النار}؛ أي: مستقرهم الذي يأوون إليه وليس لهم عنها خروج {وبئس مثوى الظالمين}، بسبب ظلمهم وعدوانهم؛ صارت النارُ مثواهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔