تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا:} اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔
➌ {اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ …:” خٰطِـِٕيْنَ “ ”أَخْطَأَ يُخْطِئُ“} (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور {”خَطِئَ يَخْطَأُ “} (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا: «{ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ }» [العلق: ۱۶] ”پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔“ اس کا مصدر {”خِطْأٌ“} (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا }» [بني إسرائیل: ۳۱] ”بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔“ اور سورۂ یوسف میں ہے: «{ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕيْنَ }» [یوسف: ۲۹] ”یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔“ {” اِنَّ “} کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کر دیا اور بنی اسرائیل پر بے پناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ”چوکنے والے“ کیا ہے، مگر {”خَاطِئٌ“} کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[13] اس جملہ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ کی بنا پر ہزار ہا بچوں کا قتل کر دینا ان کی بہت بڑی غلطی اور حماقت تھی۔ اور ان کی یہ حماقت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ واضح ہو گئی تھی کہ جس بچہ سے خطرہ کے سد باب کے لئے وہ یہ سفاکی کر رہے تھے وہ تو ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ خطاکار اس لحاظ سے تھے کہ وہ اپنی اس ظالمانہ تدبیر سے اللہ کی تقدیر کو روکنا چاہتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہارون علیہ السلام اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن موسیٰ علیہ السلام اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی اگر لڑکی ہوئی تو واپس چلی جاتی تھی اور اگر لڑکا ہوا تو فوراً جلادوں کو خبر کر دیتی تھی۔ یہ لوگ تیز چھرے لیے اسی وقت آ جاتے تھے اور ماں باپ کے سامنے اسی وقت ان کے بچوں کوٹکڑے ٹکڑے کر کے چلے جاتے تھے۔
موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا جب حمل ہوا تو عام حمل کی طرح اس کا پتا نہ چلا اور جو عورتیں اس کام پر مامور تھی اور جتنی دائیاں آتی تھی کسی کو حمل کا پتہ نہ چلا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تولد بھی ہو گئے آپ علیہ السلام کی والدہ سخت پریشان ہونے لگی اور ہر وقت خوفزدہ رہنے لگیں اور اپنے بچے سے محبت بھی اتنی تھی کہ کسی ماں کو اپنے بچے سے اتنی نہ ہو گی۔
ایک ماں پر ہی کیا موقوف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا چہرہ ہی ایسا بنایا تھا۔ کہ جس کی نظر پڑ جاتی تھی اس کے دل میں ان کی محبت بیٹھ جاتی تھی۔ جیسے جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت «أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي» ۱؎ [20-طه:39] ’ میں نے اپنی خصوصی محبت سے تمہیں نوازا ‘۔
پس جب کہ والدہ موسیٰ علیہ السلام ہر وقت کبیدہ خاطر، خوفزدہ اور رنجیدہ رہنے لگیں تو اللہ نے ان کے دل میں خیال ڈالا کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور خوف کے موقعہ پر انہیں دریائے نیل میں بہادے جس کے کنارے پر ہی آپ کا مکان تھا۔ چنانچہ یہی کیا کہ ایک پیٹی کی وضع کا صندوق بنا لیا اس میں موسیٰ کو رکھ دیا دودھ پلا دیا کرتیں اور اس میں سلادیا کرتیں۔ جہاں کوئی ایسا ڈراؤنا موقعہ آیا تو اس صندوق کو دریا میں بہادیتیں اور ایک ڈوری سے اسے باندھ رکھا تھا خوف ٹل جانے کے بعد اسے کھینچ لیتیں۔
اس میں بھی رب کی مصلحت تھی کہ فرعون کی بیوی کو راہ راست دکھائے اور فرعون کے سامنے اس کا ڈر لائے اور اسے اور اس کے غرور کو ڈھائے تو فرماتا ہے کہ ’ آل فرعون نے اس صندوق کو اٹھا لیا اور انجام کار وہ ان کی دشمنی اور ان کے رنج وملال کا باعث ہوا ‘۔ محمد بن اسحاق وغیرہ فرماتے ہیں «لِیکُوْنَ» کا لام لام عاقبت ہے لام تعلیل نہیں۔ اس لیے کہ ان کا ارادہ نہ تھا بظاہر یہ ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے لیکن معنی کو دیکھتے ہوئے لام کو لام تعلیل سمجھنے میں بھی کوئی حرج نہیں آتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس صندوقچے کا اٹھانے والا اس لیے بنایا تھا کہ اللہ اسے ان کے لیے دشمن بنا دے اور ان کے رنج و غم کا باعث بنائے بلکہ اس میں ایک لطف یہ بھی ہے کہ جس سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ ان کے سر چڑھ گیا۔
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا گیا کہ ’ فرعون ہامان اور ان کے ساتھی خطا کار تھے ‘۔
روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے قدریہ کو جو لوگ کہ تقدیر کے منکر ہیں ایک خط میں لکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے سابق علم میں فرعون کے دشمن اور اس کے لیے باعث رنج و غم تھے جیسے قرآن کی اس آیت سے ثابت ہے لیکن تم کہتے ہو کہ فرعون چاہتا تو موسیٰ علیہ السلام اس کے مددگار اور دوست ہوتے۔
یہ سوچ کر اس نے انہیں بھی قتل کرنا چاہا لیکن اس کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی سفارش کی۔ فرعون کو اس کے ارادے سے روکا اور کہا اسے قتل نہ کیجیئے بہت ممکن ہے کہ یہ آپ کی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہو مگر فرعون نے جواب دیا کہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو لیکن مجھے تو آنکھوں کی ٹھنڈک کی ضروت نہیں۔
اللہ کی شان دیکھئیے کہ یہی ہوا کہ آسیہ کو اللہ نے اپنا دین نصیب فرمایا اور موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے انہوں نے ہدایت پائی اور اس متکبر کو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کیا۔ نسائی وغیرہ کے حوالے سے سورۃ طہٰ کی تفسیر میں حدیث فتون میں یہ قصہ پورا بیان ہو چکا ہے۔
اور کہتی ہیں کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی تو چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کو متبنٰی بنا لیں۔ ان میں سے کسی کو شعور نہ تھا کہ قدرت کس طرح پوشیدہ اپنا ارادہ پوراکر رہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فكأنَّها خافتْ عليه، وفعلتْ ما أمِرَت به، ألقته في اليمِّ، وساقه الله تعالى، حتى التقطه {آلُ فرعون}: فصار من لَقْطِهم، وهم الذين باشروا وُجْدانَه؛ {ليكون لهم عدوًّا وحَزَناً}؛ أي: لتكون العاقبةُ والمآلُ من هذا الالتقاط أن يكون عدوًّا لهم وحَزَناً يَحْزُنُهم؛ بسبب أنَّ الحذر لا ينفع من القدر، وأنَّ الذي خافوا منه من بني إسرائيل قيَّض الله أن يكونَ زعيمُهم يتربَّى تحت أيديهم وعلى نظرِهم وبكفالَتهم.
وعند التدبُّر والتأمُّل تجدُ في طيِّ ذلك من المصالح لبني إسرائيل ودفع كثيرٍ من الأمور الفادحة بهم ومنع كثيرٍ من التعدِّيات قبلَ رسالته؛ بحيث إنَّه صار من كبار المملكة، وبالطبع لا بدَّ أن يحصُلَ منه مدافعةٌ عن حقوق شعبِهِ، هذا وهو هو ذو الهمة العالية والغيرة المتوقِّدة، ولهذا وصلتِ الحالُ بذلك الشعب المستضعف ـ الذي بلغ بهم الذُّلُّ والإهانةُ إلى ما قصَّ الله علينا بعضَه ـ أنْ صار بعضُ أفراده ينازِعُ ذلك الشعبَ القاهرَ العالي في الأرض كما سيأتي بيانُهُ، وهذا مقدِّمهٌ للظُّهور؛ فإن الله تعالى من سنَّته الجارية أن جعل الأمور تمشي على التدريج شيئاً فشيئاً، ولا تأتي دفعةً واحدة. وقوله: {إن فرعونَ وهامانَ وجنودَهما كانوا خاطِئينَ}؛ أي: فأرَدْنا أن نعاقِبهما على خطئهما، ونكيدهم جزاءً على مكرهم وكيدهم.