تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری تو یہ چاہت ہے کہ میری چادر بھی اچھی ہو میری جوتی بھی اچھی ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں یہ تو خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:147]
پھر فرمایا جو ہمارے پاس نیکی لائے گا وہ بہت سی نیکیوں کا ثواب پائے گا۔ یہ مقام فضل ہے اور برائی کا بدلہ صرف اسی کے مطابق سزا ہے۔ یہ مقام عدل ہے اور آیت میں ہے «وَمَنْ جَاءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:90]، ’ جو برائی لے کر آئے گا وہ اندھے منہ آگ میں جائے گا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن مضاعفة فضلِهِ وتمام عدلِهِ، فقال: {من جاء بالحسنة}: شَرَطَ فيها أنْ يأتي بها العاملُ؛ لأنه قد يَعْمَلُها ولكن يقترن بها ما لا تُقْبَلُ منه أو يُبْطِلُها؛ فهذا لم يجِئْ بالحسنة، والحسنةُ اسم جنس يشملُ جميعَ ما أمر الله به ورسولُه من الأقوال والأعمال الظاهرة والباطنة المتعلِّقة بحقِّه تعالى وحقوق العباد ، {فله خيرٌ منها}؛ أي: أعظم وأجلُّ، وفي الآية الأخرى: {فله عَشْرُ أمثالِها}: هذا التضعيف للحسنةِ لا بدَّ منه، وقد يقترنُ بذلك من الأسباب ما تزيدُ به المضاعفة؛ كما قال تعالى: {والله يضاعِفُ لِمَن يشاءُ واللهُ واسعٌ عليمٌ}: بحسب حالِ العاملِ وعملِهِ ونفعِهِ ومحلِّه ومكانِهِ، {ومن جاء بالسيِّئةِ}: وهي كلُّ ما نهى الشارعُ عنه نهي تحريم؛ {فلا يُجْزى الذين عَمِلوا السيئاتِ إلاَّ ما كانوا يعملونَ}؛ كقوله تعالى: {مَن جاء بالحسنةِ فله عشرُ أمثالِها ومن جاءَ بالسيِّئةِ فلا يُجْزى إلاَّ مثلَها وهم لا يُظلمون}.