تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ آخرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آخری گھر جس کا ذکر تم سنتے رہتے ہو، ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو صرف یہ نہیں کہ تکبر اور سرکشی اختیار نہیں کرتے اور فساد فی الارض کا ارتکاب نہیں کرتے، بلکہ ان دونوں کاموں کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ دارِ آخرت میں فرعون، قارون اور ان جیسے لوگوں کا کوئی حصہ نہیں، جن کی زندگی سراسر علو اور فساد ہو۔
➌ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دینے کے لیے ہم میں کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی باتیں بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بھا في الدنیا أھل الجنۃ و أھل النار: ۶۴ /۲۸۶۵] ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ عاجزی اختیار کرو، حتیٰ کہ کوئی شخص کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص کسی پر سرکشی نہ کرے۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَ نَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] ”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔“ ایک آدمی نے کہا: ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت رکھتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“
➍ { وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ:} اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہر قسم کے کبر اور فساد سے بچ کر رہتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری تو یہ چاہت ہے کہ میری چادر بھی اچھی ہو میری جوتی بھی اچھی ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں یہ تو خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:147]
پھر فرمایا جو ہمارے پاس نیکی لائے گا وہ بہت سی نیکیوں کا ثواب پائے گا۔ یہ مقام فضل ہے اور برائی کا بدلہ صرف اسی کے مطابق سزا ہے۔ یہ مقام عدل ہے اور آیت میں ہے «وَمَنْ جَاءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:90]، ’ جو برائی لے کر آئے گا وہ اندھے منہ آگ میں جائے گا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ تعالى قارونَ وما أوتيه من الدُّنيا وما صارتْ إليه عاقبةُ أمره، وأنَّ أهل العلم قالوا: ثوابُ الله خيرٌ لمن آمنَ وعمل صالحاً؛ رغَّب تعالى في الدار الآخرة، وأخبر بالسبب الموصل إليها، فقال: {تلك الدارُ الآخرةُ}: التي أخبر الله بها في كتبِهِ وأخبرت بها رسلُه التي قد جمعت كلَّ نعيم واندفع عنها كلُّ مكدِّر ومنغِّص، {نجعلُها}: داراً وقراراً {للذين لا يريدونَ علوًّا في الأرض ولا فساداً}؛ أي: ليس لهم إرادةٌ؛ فكيف العملُ للعلوِّ في الأرض على عبادِ الله والتكبُّر عليهم وعلى الحقِّ؟! {ولا فساداً}: وهذا شاملٌ لجميع المعاصي؛ فإذا كان لا إرادة لهم في العلوِّ في الأرض ولا الفسادِ ؛ لزم من ذلك أن تكون إرادتُهم مصروفةً إلى الله، وقصدُهم الدارَ الآخرة، وحالُهُم التواضعَ لعبادِ الله والانقيادَ للحقِّ والعملَ الصالح، وهؤلاء هم المتَّقون، الذين لهم العاقبة، ولهذا قال: {والعاقبةُ}؛ أي: حالة الفلاح والنجاح التي تستقرُّ وتستمرُّ لمن اتَّقى الله تعالى. وغيرهم، وإنْ حَصَلَ لهم بعضُ الظهور والراحة؛ فإنَّه لا يطولُ وقتُه، ويزولُ عن قريب.
وعلم من هذا الحصر في الآية الكريمة أنَّ الذين يريدونَ العلوَّ في الأرض أو الفساد ليس لهم في الدار الآخرة نصيبٌ، ولا لهم منها نصيبٌ.