ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 83

تِلۡکَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ نَجۡعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فَسَادًا ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۸۳﴾
یہ آخری گھر، ہم اسے ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو نہ زمین میں کسی طرح اونچا ہونے کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ کسی فساد کا اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ En
وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے
En
آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لیے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں۔ پرہیزگاروں کے لیے نہایت ہی عمده انجام ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ { تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ …: عُلُوًّا } کا لفظی معنی اونچا ہونا ہے، مراد اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ہے۔ { فَسَادًا } کا لفظی معنی خرابی ہے، عام طور پر یہ لفظ چوری، ڈاکے، غصب، لوٹ مار، قتل و غارت اور لوگوں کا حق مارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مراد اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، خواہ کوئی بھی ہو، کیونکہ اسی سے زمین میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
➋ آخرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آخری گھر جس کا ذکر تم سنتے رہتے ہو، ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو صرف یہ نہیں کہ تکبر اور سرکشی اختیار نہیں کرتے اور فساد فی الارض کا ارتکاب نہیں کرتے، بلکہ ان دونوں کاموں کا ارادہ بھی نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ دارِ آخرت میں فرعون، قارون اور ان جیسے لوگوں کا کوئی حصہ نہیں، جن کی زندگی سراسر علو اور فساد ہو۔
➌ عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دینے کے لیے ہم میں کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی باتیں بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بھا في الدنیا أھل الجنۃ و أھل النار: ۶۴ /۲۸۶۵] اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ عاجزی اختیار کرو، حتیٰ کہ کوئی شخص کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص کسی پر سرکشی نہ کرے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُوْنَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَ نَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ] [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱] وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ جمیل ہے اور جمال سے محبت رکھتا ہے، تکبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔
➍ { وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ:} اور اچھا انجام ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ہر قسم کے کبر اور فساد سے بچ کر رہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83-1علو کا مطلب ہے ظلم و زیادتی، لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنا اور باور کرانا، تکبر اور فخر غرور کرنا اور فساد کے معنی ہیں ناحق لوگوں کا مال ہتھیانا یا نافرمانیوں کا ارتکاب کرنا کہ ان دونوں باتوں سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ فرمایا کہ متقین کا عمل و اخلاق ان برائیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہوتا ہے اور تکبر کے بجائے ان کے اندر تواضع، فروتنی اور معصیت کیثی کی بجائے اطاعت کیسی ہوتی ہے اور آخرت کا گھر یعنی جنت اور حسن انجام انہی کے حصے میں آئے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں جو زمین میں بڑائی [112] یا فساد [113] نہیں چاہتے اور (بہتر) انجام تو پرہیزگاروں کے لئے ہے۔
[112] ﴿عَلَوْا بمعنی سربلند، متکبر، مغرور یعنی وہ بڑا بن کر نہیں رہتے نہ دوسروں کو دبا کر رکھتے ہیں بلکہ متواضع اور منکسر المزاج بن کر اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر مختص ہے۔ سربلندی اور ناموری چاہنے والوں اور متکبر بن کر رہنے والوں کے لئے ہرگز نہیں ہے۔
[113] فساد کا مفہوم۔ فساد فی الارض کیا ہے؟
فساد کے لفظ کا اطلاق عموماً چوری، ڈاکہ، غصب، غبن، لوٹ مار اور قتل و غارت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ شرعی اصطلاح فساد فی الارض کے معنوں میں اس سے بہت زیادہ وسعت ہے یعنی وہ کام جس میں انسان اپنے حق سے تجاوز کر رہا ہو یا دوسرے کے حق پامال کر رہا ہو وہ فساد فی الارض کے ضمن میں آئے گا۔ قارون کے قصہ میں اللہ نے قارون کو فساد فی الارض کا مجرم قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ نہ چوری کرتا تھا نہ لوٹ مار، نہ قتل و غارت ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرتا تھا۔ اس کا فساد فی الارض یہ تھا کہ اس کے مال میں دوسروں کا حق شامل تھا وہ اسے ادا نہیں کر رہا تھا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکے سے یا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچ رہا ہے۔ تو اگرچہ معاشرہ اسے فسادی نہیں سمجھتا لیکن شرعی لحاظ سے وہ فسادی ہے۔ کیونکہ اس نے فریب یا جھوٹی قسم کے ذریعہ چیز کی اصل قیمت سے زیادہ وصول کر کے خریدار کو نقصان پہنچایا یا اس کا حق غصب کیا ہے گویا فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجہ میں لازماً رونما ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر احکام الٰہی سے تجاوز کرتے ہوئے انسان جو کچھ بھی کرتا ہے وہ فساد ہی فساد ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کی حق تلفی یا شرک ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت اور آخرت ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جنت اور آخرت کی نعمت صرف انہی کو ملے گی جن کے دل خوف الٰہی سے بھرے ہوئے ہوں اور دنیا کی زندگی تواضع فروتنی عاجزی اور اخلاق کے ساتھ گزاردیں۔ کسی پر اپنے آپ کو اونچا اور بڑا نہ سمجھیں ادھر ادھر فساد نہ پھیلائیں سرکشی اور برائی نہ کریں۔ کسی کا مال ناحق نہ ماریں اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانیاں نہ کریں ‘۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ { ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری تو یہ چاہت ہے کہ میری چادر بھی اچھی ہو میری جوتی بھی اچھی ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں یہ تو خوبصورتی ہے اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:147]‏‏‏‏
پھر فرمایا جو ہمارے پاس نیکی لائے گا وہ بہت سی نیکیوں کا ثواب پائے گا۔ یہ مقام فضل ہے اور برائی کا بدلہ صرف اسی کے مطابق سزا ہے۔ یہ مقام عدل ہے اور آیت میں ہے «وَمَنْ جَاءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:90]‏‏‏‏، ’ جو برائی لے کر آئے گا وہ اندھے منہ آگ میں جائے گا، تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون اور جو کچھ اس کو عطا کیا گیا اور اس کے انجام کا ذکر کیا نیز اہل علم کے اس قول سے آگاہ فرمایا: ﴿ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّ٘مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا اس شخص کے لیے اللہ کا ثواب بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت کی ترغیب دی اور وہ سبب بیان فرمایا جو آخرت کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا: ﴿ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ آخرت کا یہ گھر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں خبر دی، اس کے رسولوں نے آگاہ کیا، جس میں ہر نعمت جمع کر دی گئی اور جہاں سے ہر تکدر کو دور کر دیا گیا ہے ﴿ نَجْعَلُهَا ہم اس کو گھر اور ٹھکانا بنا دیں گے ﴿لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا١ؕ وَالْعَاقِبَةُ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ ان لوگوں کے لیے جو زمین میں اپنی بڑائی چاہتے ہیں نہ فساد کرتے ہیں یعنی ان کا زمین میں فساد کرنے کا ارادہ تک نہیں تو پھر زمین میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرنا، ان کے ساتھ تکبر سے پیش آنا اور حق کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ ﴿ وَلَا فَسَادًا اور نہ فساد اور یہ تمام معاصی کو شامل ہے۔
جب ان کا زمین میں بڑائی حاصل کرنے اور فساد برپا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو اس سے یہ بات لازم آئی کہ ان کے ارادے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں مصروف، آخرت کا گھر ان کا مطلوب و مقصود، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع سے پیش آنا ان کا حال ہے، وہ حق کی اطاعت اور عمل صالح میں مشغول رہتے ہیں۔ یہی وہ اہل تقویٰ ہیں، جن کے لیے اچھا انجام ہے بنابریں فرمایا: ﴿ وَالْعَاقِبَةُ یعنی فلاح اور کامیابی دائمی طور پر ان لوگوں کا حال ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ اگرچہ ان کو کچھ غلبہ اور راحت حاصل ہوتی ہے مگر یہ لمبی مدت کے لیے نہیں ہوتی، جلد ہی زائل ہو جا تی ہے۔ آیت کریمہ میں اس حصر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ زمین میں بڑائی یا فساد کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے آخرت کے گھر میں کوئی حصہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ تعالى قارونَ وما أوتيه من الدُّنيا وما صارتْ إليه عاقبةُ أمره، وأنَّ أهل العلم قالوا: ثوابُ الله خيرٌ لمن آمنَ وعمل صالحاً؛ رغَّب تعالى في الدار الآخرة، وأخبر بالسبب الموصل إليها، فقال: {تلك الدارُ الآخرةُ}: التي أخبر الله بها في كتبِهِ وأخبرت بها رسلُه التي قد جمعت كلَّ نعيم واندفع عنها كلُّ مكدِّر ومنغِّص، {نجعلُها}: داراً وقراراً {للذين لا يريدونَ علوًّا في الأرض ولا فساداً}؛ أي: ليس لهم إرادةٌ؛ فكيف العملُ للعلوِّ في الأرض على عبادِ الله والتكبُّر عليهم وعلى الحقِّ؟! {ولا فساداً}: وهذا شاملٌ لجميع المعاصي؛ فإذا كان لا إرادة لهم في العلوِّ في الأرض ولا الفسادِ ؛ لزم من ذلك أن تكون إرادتُهم مصروفةً إلى الله، وقصدُهم الدارَ الآخرة، وحالُهُم التواضعَ لعبادِ الله والانقيادَ للحقِّ والعملَ الصالح، وهؤلاء هم المتَّقون، الذين لهم العاقبة، ولهذا قال: {والعاقبةُ}؛ أي: حالة الفلاح والنجاح التي تستقرُّ وتستمرُّ لمن اتَّقى الله تعالى. وغيرهم، وإنْ حَصَلَ لهم بعضُ الظهور والراحة؛ فإنَّه لا يطولُ وقتُه، ويزولُ عن قريب.

وعلم من هذا الحصر في الآية الكريمة أنَّ الذين يريدونَ العلوَّ في الأرض أو الفساد ليس لهم في الدار الآخرة نصيبٌ، ولا لهم منها نصيبٌ.