تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ:} پہلے فرمایا تھا: {” وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ “} اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس اچھے انجام کا ذکر فرمایا اور سورت کا اختتام عظیم الشان خوش خبری کے ساتھ فرمایا، یعنی جس اللہ نے آپ پر قرآن پر عمل کا اور اس کی دعوت کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کی محنت و مشقت اور ادائیگی فرض کے نتیجہ میں آپ کو ایک عظیم الشان انجام تک پہنچانے والا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس طرح کہ آپ اس شہر مکہ سے ہجرت کریں گے اور دوبارہ پھر اس میں واپس آئیں گے اور اس شاندار طریقے سے آئیں گے کہ پورا جزیرۂ عرب آپ کے زیرِنگین ہو گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری (۴۷۷۳) میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اس {” مَعَادٍ “} سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ چنانچہ ہجرت کے آٹھویں سال اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو گیا اور آپ فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اور آخرت میں عظیم الشان مقام محمود پر پہنچانے والا ہے، جس کی وجہ سے پہلے اور پچھلے سب آپ پر رشک کریں گے۔ اسے {” مَعَادٍ “} اس لیے فرمایا کہ قرآن مجید میں آخرت کو سب کے لیے لوٹنے کی جگہ قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ }» [البقرۃ: ۲۸۱] ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ اور فرمایا: «{ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ }» [البقرۃ: ۲۸] ”پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ اور فرمایا: «{ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ }» [المائدۃ: ۴۸] ”اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے۔“ مفسرین میں سے بعض نے {” مَعَادٍ “} سے مراد مکہ اور بعض نے جنت لی ہے، دونوں اقوال اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔
➌ { قُلْ رَّبِّيْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى …:} یہ پیش گوئی کہ آپ کا رب آپ کو اسی مکہ میں فاتحانہ شان سے واپس لائے گا، کفار کے نزدیک ایسی بات تھی جو کوئی گمراہ شخص ہی کر سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے آنے والی بات کا جواب پہلے ہی بتا دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے اور بہت جلد یہ حقیقت تم پر واضح ہو جائے گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[117] کفار مکہ جن جن القابات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تم آبائی دین کو چھوڑ کر ایک ہو گئے ہو اور یہ بات ایک دفعہ نہیں کئی بار وہ دہرا چکے تھے لہٰذا یہ اور ایسی ہی دیگر آیات آپ کی تسلی کے لئے مختلف اوقات میں اور مختلف سورتوں میں نازل ہوتی رہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّـهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ» [5-المائدة:109] ’ رسولوں کو جمع کر کے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ ‘
اور آیت میں ہے «وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ» ۱؎ [39-الزمر:69] ’ نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا ‘۔ «مَعَادٍ» سے مراد جنت بھی ہو سکتی ہے موت بھی ہو سکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہو سکتی ہے کہ دوبارہ پیدا ہوں اور داخل جنت ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے اس سے مراد مکہ ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مکہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش تھی۔
اس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہو حالانکہ پوری سورت مکی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے شاید اس کہنے والے کی غرض اس سے بھی قیامت ہے۔ اس لیے کہ بیت المقدس ہی محشر زمین ہے۔
ان تمام اقوال میں جمع کی صورت یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکے کی طرف لوٹنے سے اس کی تفسیر کی ہے جو فتح مکہ سے پوری ہوئی۔ اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے پورا ہونے کی ایک زبردست علامت تھی جیسے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سورۃ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» [110-النصر:1] کی تفسیر میں فرمایا ہے۔ جس کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی موافقت کی تھی۔ اور فرمایا تھا کہ ”تو جو جانتا ہے وہی میں بھی جانتا ہوں۔“ یہی وجہ ہے کہ انہی سے اس آیت کی تفسیر میں جہاں مکہ مروی ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال بھی مروی ہے اور کبھی قیامت سے تفسیر کی کیونکہ موت کے بعد قیامت ہے اور کبھی جنت سے تفسیر کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ٹھکانا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ رسالت کا بدل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن و انس کو اللہ کے دین کی دعوت دی اور آپ تمام مخلوق سے زیادہ کلام زیادہ فصیح اور زیادہ افضل تھے۔
پھر اپنی ایک اور زبردست نعمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وحی اترنے سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہوگی۔ یہ تو تجھ پر اور تمام مخلوق پر رب کی رحمت ہوئی کہ اس نے تجھ پر اپنی پاک اور افضل کتاب نازل فرمائی۔ اب تمہیں ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے بلکہ ان سے الگ رہنا چاہیئے۔ ان سے بیزاری ظاہر کردینی چاہیئے اور ان سے مخالفت کا اعلان کر دینا چاہیئے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إنَّ الذي فَرَضَ عليك القرآنَ}؛ أي: أنزله، وفرضَ فيه الأحكام، وبيَّن فيه الحلال والحرام، وأمرك بتبليغِهِ للعالمين والدعوةِ لأحكامِهِ جميع المكلَّفين؛ لا يليقُ بحكمته أنْ تكون الحياة هي الحياةَ الدُّنيا فقط من غير أن يُثاب العبادُ ويعاقَبوا، بل لا بدَّ أن يَرُدَّكَ إلى معادٍ يُجازَى فيه المحسنونَ بإحسانهم والمسيئون بمعصِيَتِهِم، وقد بيَّنت لهم الهدى وأوضحت لهم المنهجَ؛ فإنْ تَبِعوكَ؛ فذلك حظُّهم وسعادتُهم، وإنْ أبَوْا إلاَّ عِصْيانَكَ والقدحَ بما جئتَ به من الهُدى وتفضيلَ ما معهم من الباطل على الحقِّ؛ فلم يبقَ للمجادلةِ محلٌّ، ولم يبقَ إلاَّ المجازاةُ على الأعمال من العالِمِ بالغيب والشهادة والمحقِّ والمبطل، ولهذا قال: {قل ربِّي أعلمُ مَن جاء بالهدى ومَنْ هو في ضلالٍ مبين}: وقد علم أنَّ رسولَه هو المهتدي الهادي، وأنَّ أعداءَه هم الضالُّون المضلُّون.