ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 79

فَخَرَجَ عَلٰی قَوۡمِہٖ فِیۡ زِیۡنَتِہٖ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا یٰلَیۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ قَارُوۡنُ ۙ اِنَّہٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۷۹﴾
پس وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی زینت میں نکلا۔ ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی چاہتے تھے، اے کاش! ہمارے لیے اس جیسا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بلاشبہ وہ یقینا بہت بڑے نصیب والا ہے۔ En
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
En
پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا، تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وه مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79) ➊ {فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ:} قارون نے مال و دولت پر اپنے کبرو غرور کے زبانی اظہار کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ اس نے لوگوں کے سامنے اس کی نمائش کا بھی اہتمام کیا۔ { فِيْ زِيْنَتِهٖ } (اپنی زینت میں) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس نے اس موقع پر اپنی دولت و حشمت کا کیا کچھ اہتمام کیا ہو گا۔ اس طرح وہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو مرعوب کرنا چاہتا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ ٹوٹ کر اس سے آ ملیں، کیونکہ عوام کی اکثریت ایسے مظاہروں سے متاثر ہوتی ہے۔ تفاسیر میں اس کی زینت کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے، مگر اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا تانا بانا اسرائیلی روایات ہیں، مثلاً تفسیر طبری میں ہے کہ قتادہ نے فرمایا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ چار ہزار سواریوں پر نکلے، ان پر اور ان کی سواریوں پر ارغوانی (شوخ گلابی) رنگ تھا۔ ابن زید نے کہا: میرے والد ذکر کیا کرتے تھے کہ وہ ستر ہزار کے جلوس کے ساتھ نکلا۔ مراغی نے مقاتل کا قول نقل کیا ہے کہ وہ چتکبرے خچر پر سوار تھا، جس کی زین سونے کی تھی، ساتھ چار ہزار گھڑ سوار تھے، جنھوں نے ارغوانی لباس پہنے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تین سو گورے رنگ کی لڑکیاں تھیں، جو زیور اور سرخ لباس پہن کر چتکبرے خچروں پر سوار تھیں وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ قتادہ وہاں موجود تھے، نہ زید، نہ مقاتل اور نہ ان کے پاس وحی کے ذریعے سے یہ تفصیل آئی۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جس شخص کے خزانوں کی چابیاں ایک قوت والی جماعت پر بھاری ہوتی تھیں اس نے اپنی دولت اور شان و شوکت کے اظہار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہو گی۔ چنانچہ اس نے ایسا متکبرانہ انداز اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند تھا۔
➋ {قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا …:} وہ لوگ جن کی زندگی کا مقصد ہی دنیا اور اس کی زیب و زینت کا حصول ہے، قارون کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگے، کاش! ہمیں بھی یہ سب کچھ ملا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یقینا وہ بہت بڑے نصیب والا ہے۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے عوام بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ دنیوی خوش حالی کی خواہش ہر دل میں موجود ہے اور فرعون کی قوم کے لوگ بھی۔ ان لوگوں کی اس تمنا کی مثالیں اب بھی ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ مردوں کو دیکھو یا عورتوں کو، جوانوں کو دیکھو یا بوڑھوں کو، ہر ایک دنیوی ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تمنا پال رکھی ہے کہ کاش! میرا مکان فلاں جیسا ہو، میری سواری فلاں جیسی ہو، میرا کاروبار فلاں جیسا ہو، پھر اس تمنا کے حصول کے لیے نہ اسے حلال کی پروا ہے نہ حرام کی۔ قرآن نے یہ مثالیں صرف داستان طرازی کے لیے بیان نہیں فرمائیں، بلکہ یہ سب کچھ ہمیں ایسے رویے کے بد انجام سے آگاہ کرنے کے لیے بیان فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

79-1یعنی زینت و آرائش کے ساتھ۔ 79-2یہ کہنے والے کون تھے؟ بعض کے نزدیک ایماندار ہی تھے جو اس کی امارت و شوکت کے مظاہرے سے متاثر ہوگئے تھے اور بعض کے نزدیک کافر تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ پر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے [107] بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے نکلا۔ جو لوگ حیات دنیا کے طالب گار تھے وہ کہنے لگے: کاش ہمیں بھی وہی کچھ میسر ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے، وہ تو بڑا ہی بختوں والا ہے۔
[107] قارون کا شاہانہ ٹھاٹھ کا مظاہرہ کرنا اور دنیا داروں کی آرزو:۔
یعنی اس کے کچھ گھڑ سوار خادم اس لئے آگے چل رہے تھے اور خود لباس فاخرہ پہنے ایک عمدہ گھوڑے پر سوار تھا۔ پھر اس کے پیچھے بھی اس کے خادم گھڑ سواروں کا دستہ تھا۔ اس سے دراصل وہ اپنی شان و شوکت اور ٹھاٹھ باٹھ کا لوگوں کے سامنے مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ اور یہی وہ متکبرانہ مظاہرہ ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے اور اللہ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ مگر جو لوگ دنیا پر ریجھے ہوئے ہوں، انھیں ایسی ہی مظاہرہ ترقی کی انتہائی منزل نظر آتا ہے۔ چنانچہ دنیا دار مادہ پرستوں نے جب قارون کو اس ٹھاٹھ باٹھ سے نکلتے دیکھا تو خود بھی اس منزل تک پہنچنے کی آرزو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ شخص تو بڑا ہی خوش نصیب ہے۔ کاش ہمیں بھی ایسا ساز و سامان میسر آجاتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سامان تعیش کی فروانی ٭٭
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پرسوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔
علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لیے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دو روزہ زندگی کو صبر وبرداشت سے گزارنا چاہیئے جنت صابروں کا حصہ ہے یہ مطلب بھی ہے کہ ایسے پاک کلمے صبر کرنے والوں کی زبان ہی سے نکلتے ہیں جو دنیا کی محبت سے دور اور دار آخرت کی محبت میں چور ہوتے ہیں اس صورت میں ممکن ہے کہ یہ کلام ان واعظوں کا نہ ہو بلکہ ان کے کام کی اور ان کی تعریف میں یہ جملہ اللہ کی طرف سے خبر ہو۔