تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو کیا وہ شخص جو مومن ہے، اس وعدے کو سچا جاننے والا ہے جو اللہ نے اس کے صالح اعمال پر اس سے ثواب کی صورت میں کیا ہے، جو لا محالہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو کافر ہے، اللہ کی ملاقات اور اس کے وعدہ و وعید کو جھٹلانے والا ہے۔ سو اسے دنیا کی زندگی میں تھوڑے سے دن کچھ سامان ملنے والا ہے، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ مجاہد نے فرمایا، یعنی عذاب دیے جانے والوں میں سے ہے۔“ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔
مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا «وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:57] ’ اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:158] ’ جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا نبَّه العقول على الموازنة بين عاقبة مؤثِرِ الدُّنيا ومؤثِرِ الآخرة، فقال: {أفَمَن وَعَدْناه وعداً حسناً فهو لاقيهِ}؛ أي: هل يستوي مؤمنٌ، ساعٍ للآخرة سَعْيَها، قد عَمِلَ على وعدِ ربِّه له بالثواب الحسن الذي هو الجنَّة وما فيها من النعيم العظيم؛ فهو لاقيه من غير شكٍّ ولا ارتياب؛ لأنَّه وعدٌ من كريم صادقِ الوعدِ لا يُخْلِفُ الميعاد لعبدٍ قام بمرضاتِهِ وجانَبَ سَخَطَه؛ {كمن متَّعْناه متاعَ الحياة الدُّنيا} فهو يأخُذُ فيها ويعطي، ويأكل ويشرب، ويتمتَّع كما تتمتَّع البهائم، قد اشتغل بدُنياه عن آخرته، ولم يرفعْ بهدى الله رأساً، ولم ينقدْ للمرسلين؛ فهو لا يزال كذلك؛ لا يتزوَّد من دُنياه إلاَّ الخسار والهلاك. {ثم هو يوم القيامةِ من المُحْضَرين}: للحساب، وقد عُلِمَ أنَّه لم يقدِّمْ خيراً لنفسه، وإنَّما قدَّم جميع ما يضرُّه، وانتقل إلى دار [الجزاء بالأعمال]؛ فما ظنُّكم إلام يصير إليه؟! وما تحسبَون ما يصنعُ به؟! فليخترِ العاقلُ لنفسه ما هو أولى بالاختيار وأحقُّ الأمرين بالإيثار.