تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ:} یہ پہلا سوال ہے جو اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر ان سے کریں گے کہ بتاؤ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے متعلق تم سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ تمھارے نفع یا نقصان کے مالک ہیں اور دنیوی مفادات ان کی بدولت حاصل ہو رہے ہیں، یا وہ تمھیں سفارش کر کے چھڑوا لیں گے؟ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:94]، یعنی ’ ہم تمہیں ویسے ہی تن تنہا اور ایک ایک کر کے لائیں گے جیسے ہم نے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا دلایا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ ہم تو آج تمہارے ساتھ کسی سفارشی کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھیرائے ہوئے تھے۔ تم میں ان میں کوئی لگاؤ نہیں رہا اور تمہارے گمان کردہ شریک سب آج تم سے کھوئے ہوئے ہیں۔ جن پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ‘۔
یعنی شیاطین اور سرکش لوگ اور کفر کے بانی اور شرک کی طرف لوگوں کو بلانے والے یہ سب بڑے بڑے لوگ اس دن کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے انہیں گمراہ کیا اور انہوں نے ہماری کفریہ باتیں سنیں اور مانیں جیسے ہم بہکے ہوئے تھے انہیں بھی بہکایا۔ ہم ان کی عبادت سے تیرے سامنے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ» الخ ۱؎ [46-الأحقاف:5-6]، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے جو قیامت کی گھڑی تک انہیں جواب نہ دے سکیں اور وہ ان کی پکار سے بھی غافل ہوں اور قیامت کے دن لوگوں کے حشر کے موقعہ پر ان کے دشمن بن جائیں اور اس بات سے صاف انکار کر دیں کہ انہوں نے ان کی عبادت کی تھی ‘۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”تم نے جن بتوں کی پوجا پاٹ شروع کر رکھی ہے ان سے صرف دنیاکی ہی دوستی ہے قیامت کے دن تو تم سب ایک دوسرے کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔“
اور آیت میں ہے «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» الخ ۱؎ [2-البقرة:167-166]، یعنی ’ جو تابعداری کرنے والے تھے اور وہ ان کی پرجوش کی تابعداری کرتے رہے مگر یہ ان سے بری اور بیزار ہو جائیں گے یعنی عذابوں کو سامنے دیکھتے ہوئے سب تعلقات ٹوٹ جائیں گے ‘۔
ان سے فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں پوجتے رہے ہو آج انہیں کیوں نہیں پکارتے؟‘ اب یہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ یہ آگ کے عذاب میں جائیں گے اس وقت آرزو کریں گے کہ کاش ہم راہ یافتہ ہوتے؟
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إخبارٌ من الله تعالى عما يسأل عنه الخلائق يوم القيامة، وأنَّه يسألهم عن أصول الأشياء؛ عن عبادة الله، وإجابة رسله، فقال: {ويوم يناديهم}؛ أي: ينادي مَنْ أشركوا به شركاء يعبُدونَهم ويرجون نفعَهم ودفعَ الضرر عنهم، فيناديهم ليبيِّنَ لهم عجزها وضلالهم، {فيقولُ أين شركائِيَ}: وليس لله شريكٌ، ولكن ذلك بحسب زعمِهِم وافترائِهِم، ولهذا قال: {الذين كنتم تزعُمونَ}: فأين هم بذواتِهِم؟! وأين نفعُهم؟! وأين دفعُهم؟! ومن المعلوم أنَّهم يتبيَّن لهم في تلك الحال أنَّ الذي عبدوه ورجَوْه باطلٌ مضمحلٌّ في ذاته وما رجوا منه، فيقرُّون على أنفسهم بالضَّلالة والغواية، ولهذا {قال الذين حقَّ عليهم القولُ}: من الرؤساء والقادة في الكفر والشرِّ؛ مقرِّين بغوايتهم وإغوائهم: {ربَّنا هؤلاء}: التابعون {الذين أغْوَيْنا أغْوَيْناهم كما غَوَيْنا}؛ أي: كلنا قد اشترك في الغِواية وحقَّ عليه كلمةُ العذاب، {تبرَّأنا إليكَ}: من عبادتهم؛ أي: نحن برآءُ منهم ومن عملهم. {ما كانوا إيَّانا يَعْبُدونَ}: وإنَّما كانوا يعبُدون الشياطين.