ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 62

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور جس دن وہ انھیں آواز دے گا، پس کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم گمان کرتے تھے؟ En
اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا
En
اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں پکار کر فرمائے گا کہ تم جنہیں اپنے گمان میں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے کہاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ …:} یہ آیات بھی مشرکین مکہ ہی سے متعلق ہیں جو دنیوی مفادات کی خاطر شرک اور شرک کے عَلَم برداروں سے چمٹے ہوئے تھے، انھیں ان کے اس عملِ بد کے انجام سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ الفاظ عام ہونے کی وجہ سے ان کا تعلق تمام کفار سے بھی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں آواز دے کر دو سوال کریں گے، دونوں سوالوں سے مقصود پوچھنا نہیں بلکہ انھیں ذلیل کرنا اور ان کے شرکاء کے بے بس اور بے اختیار ہونے کا اظہار ہے۔
➋ { فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ:} یہ پہلا سوال ہے جو اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر ان سے کریں گے کہ بتاؤ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے متعلق تم سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ تمھارے نفع یا نقصان کے مالک ہیں اور دنیوی مفادات ان کی بدولت حاصل ہو رہے ہیں، یا وہ تمھیں سفارش کر کے چھڑوا لیں گے؟ دیکھیے سورۂ انعام (۹۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62-1یعنی وہ بت یا اشخاص ہیں، جن کو تم دنیا میں میری الوہیت میں شریک گردانتے تھے، انھیں مدد کے لئے پکارتے تھے اور ان کے نام کی نذر نیاز دیتے تھے، آج کہاں ہیں؟ کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور تمہیں میرے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں؟ یہ تقریع وتوبیخ کے طور پر اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا، ورنہ وہاں اللہ کے سامنے کس کو مجال دم زدنی ہوگی؟ یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورة الانعام، (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 6۔ الانعام:94) اور دیگر بہت سے مقامات پر بیان فرمایا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ جس دن اللہ انھیں پکارے گا اور ان سے پوچھے گا: ”کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا [85] شریک سمجھا کرتے تھے۔
[85] اعتراض کا پانچواں جواب:۔
یہ آیت بھی مشرکین مکہ ہی سے متعلق ہے جو دنیوی مفادات کی خاطر شرک اور بت سے چمٹے رہنا چاہتے تھے۔ انھیں ان کی کرتوت کے نتیجہ سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے مشرکوں سے پوچھے گا کہ تم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ دنیوی مفادات تمہیں میرے شریکوں کی وجہ سے مل رہے ہیں۔ اب بتلاؤ آج وہ کہاں ہیں تاکہ آج بھی تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر آج وہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچا سکے تو سمجھ لینا کہ دنیا میں بھی وہی فائدہ پہنچا رہے تھے اور اگر کچھ فائدہ نہ دے سکیں تو حقیقت تم پر خود واضح ہو جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کہاں ہیں تمہارے بت ٭٭
مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ ‘ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہو گا۔
جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاءَ ظُهُوْرِكُمْ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰؤُا لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:94]‏‏‏‏، یعنی ’ ہم تمہیں ویسے ہی تن تنہا اور ایک ایک کر کے لائیں گے جیسے ہم نے اول دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا دلایا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے۔ ہم تو آج تمہارے ساتھ کسی سفارشی کو بھی نہیں دیکھتے جنہیں تم شریک الٰہی ٹھیرائے ہوئے تھے۔ تم میں ان میں کوئی لگاؤ نہیں رہا اور تمہارے گمان کردہ شریک سب آج تم سے کھوئے ہوئے ہیں۔ جن پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی ‘۔
یعنی شیاطین اور سرکش لوگ اور کفر کے بانی اور شرک کی طرف لوگوں کو بلانے والے یہ سب بڑے بڑے لوگ اس دن کہیں گے کہ اے اللہ ہم نے انہیں گمراہ کیا اور انہوں نے ہماری کفریہ باتیں سنیں اور مانیں جیسے ہم بہکے ہوئے تھے انہیں بھی بہکایا۔ ہم ان کی عبادت سے تیرے سامنے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا» الخ ۱؎ [19-مريم:81-82]‏‏‏‏، ’ انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنالئے تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت بنیں لیکن ایسا نہیں ہونے کا یہ تو ان کی عبادت سے بھی انکار کر جائیں گے اور الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ» الخ ۱؎ [46-الأحقاف:5-6]‏‏‏‏، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے جو قیامت کی گھڑی تک انہیں جواب نہ دے سکیں اور وہ ان کی پکار سے بھی غافل ہوں اور قیامت کے دن لوگوں کے حشر کے موقعہ پر ان کے دشمن بن جائیں اور اس بات سے صاف انکار کر دیں کہ انہوں نے ان کی عبادت کی تھی ‘۔
خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے جن بتوں کی پوجا پاٹ شروع کر رکھی ہے ان سے صرف دنیاکی ہی دوستی ہے قیامت کے دن تو تم سب ایک دوسرے کے منکر ہو جاؤ گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‏‏‏‏
اور آیت میں ہے «اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ» الخ ۱؎ [2-البقرة:167-166]‏‏‏‏، یعنی ’ جو تابعداری کرنے والے تھے اور وہ ان کی پرجوش کی تابعداری کرتے رہے مگر یہ ان سے بری اور بیزار ہو جائیں گے یعنی عذابوں کو سامنے دیکھتے ہوئے سب تعلقات ٹوٹ جائیں گے ‘۔
ان سے فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں پوجتے رہے ہو آج انہیں کیوں نہیں پکارتے؟‘ اب یہ پکاریں گے لیکن کوئی جواب نہ پائیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ یہ آگ کے عذاب میں جائیں گے اس وقت آرزو کریں گے کہ کاش ہم راہ یافتہ ہوتے؟

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:
1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔
2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔
3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔
چنانچہ فرمایا: ﴿ وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُ٘رَؔكَآءِیَ پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا: ﴿ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟
اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اے ہمارے رب یہی وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِیْنَ اَغْ٘وَیْنَا١ۚ اَغْ٘وَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے: ﴿ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ مَا كَانُوْۤا اِیَّ٘انَا یَعْبُدُوْنَ یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا إخبارٌ من الله تعالى عما يسأل عنه الخلائق يوم القيامة، وأنَّه يسألهم عن أصول الأشياء؛ عن عبادة الله، وإجابة رسله، فقال: {ويوم يناديهم}؛ أي: ينادي مَنْ أشركوا به شركاء يعبُدونَهم ويرجون نفعَهم ودفعَ الضرر عنهم، فيناديهم ليبيِّنَ لهم عجزها وضلالهم، {فيقولُ أين شركائِيَ}: وليس لله شريكٌ، ولكن ذلك بحسب زعمِهِم وافترائِهِم، ولهذا قال: {الذين كنتم تزعُمونَ}: فأين هم بذواتِهِم؟! وأين نفعُهم؟! وأين دفعُهم؟! ومن المعلوم أنَّهم يتبيَّن لهم في تلك الحال أنَّ الذي عبدوه ورجَوْه باطلٌ مضمحلٌّ في ذاته وما رجوا منه، فيقرُّون على أنفسهم بالضَّلالة والغواية، ولهذا {قال الذين حقَّ عليهم القولُ}: من الرؤساء والقادة في الكفر والشرِّ؛ مقرِّين بغوايتهم وإغوائهم: {ربَّنا هؤلاء}: التابعون {الذين أغْوَيْنا أغْوَيْناهم كما غَوَيْنا}؛ أي: كلنا قد اشترك في الغِواية وحقَّ عليه كلمةُ العذاب، {تبرَّأنا إليكَ}: من عبادتهم؛ أي: نحن برآءُ منهم ومن عملهم. {ما كانوا إيَّانا يَعْبُدونَ}: وإنَّما كانوا يعبُدون الشياطين.