تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جو کچھ اللہ کے ہاں ہے اسے بہت بہتر اس لیے فرمایا کہ دنیا کا ساز و سامان اس کے مقابلے میں نہ مقدار میں کچھ حیثیت رکھتا ہے نہ خوبی میں۔ مقدار میں اتنا ہو گا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُوْلاً الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَبْوًا فَيَقُوْلُ لَهُ رَبُّهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَقُوْلُ رَبِّ! الْجَنَّةُ مَلْأَی فَيَقُوْلُ لَهُ ذٰلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَكُلُّ ذٰلِكَ يُعِيْدُ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ مَلأَی فَيَقُوْلُ إِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا عَشْرَ مِرَارٍ] [بخاري، التوحید، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ…: ۷۵۱۱] ”جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا، جو جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخری ہو گا، گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا تو اسے اس کا رب فرمائے گا: ”جنت میں داخل ہو جا۔“ وہ کہے گا: ”اے میرے رب! جنت بھری ہوئی ہے۔“ اللہ تعالیٰ اسے تین دفعہ فرمائے گا، ہر بار وہ یہی جواب دے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تمھیں دنیا سے دس گنا زیادہ (جنت) عطا کی جاتی ہے۔“ مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ وَ أَشَارَ يَحْيٰی بِالسَّبَّابَةِ هٰذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ؟] [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیامۃ: ۲۸۵۸] ”اللہ کی قسم! آخرت کے مقابلے میں دنیا اس کے سوا کچھ نہیں جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی یہ (شہادت کی) انگلی سمندر میں ڈالے، پھر دیکھے وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے؟“ اور خوبی میں آخرت اس لیے کہیں بہتر ہے کہ اس کی ہر نعمت کسی بھی قسم کے غم یا فکر سے پاک ہے، جب کہ دنیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں اور وہ اتنی بہتر ہے کہ کوئی شخص نہ اس کی خوبی بیان کر سکتا ہے، نہ وہ کسی کے تصور میں آ سکتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِيْنَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ فَاقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ }» ] [السجدۃ: ۱۷] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۴۴] ”میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال تک آیا ہے۔“ اگرچاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”کوئی جان نہیں جانتی کہ اس کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان چھپا کر رکھا گیا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858] افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔
مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا «وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:57] ’ اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:158] ’ جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا حضٌّ منه تعالى لعبادِهِ على الزُّهد في الدُّنيا وعدم الاغترار بها، وعلى الرغبة في الأخرى وجعلها مقصودَ العبدِ ومطلوبَه، ويخبِرُهم أنَّ جميع ما أوتيه الخلقُ من الذهب والفضة والحيوانات والأمتعة والنساء والبنين والمآكل والمشارب واللذَّات كلِّها متاعُ الحياةِ الدنيا وزينتُها؛ أي: يُتَمَتَّع به وقتاً قصيراً متاعاً قاصراً محشوًّا بالمنغِّصات ممزوجاً بالغُصص، ويتزيَّن به زماناً يسيراً للفخر والرياء، ثم يزولُ ذلك سريعاً، وينقضي جميعاً، ولم يستفدْ صاحبُه منه إلاَّ الحسرةَ والندمَ والخيبةَ والحرمانَ، {وما عندَ اللهِ}: من النعيم المقيم والعيش السليم {خيرٌ وأبقى}؛ أي: أفضلُ في وصفِهِ وكميِّته، وهو دائمٌ أبداً ومستمرٌ سرمداً، {أفلا تعقلونَ}؛ أي: أفلا تكون لكم عقولٌ بها تَزِنون؛ أيُّ الأمرين أولى بالإيثار؟! وأيُّ الدارين أحقُّ للعمل لها؟! فدل ذلك أنه بحسب عقل العبد يُؤْثِرُ الأخرى على الدُّنيا، وأنَّه ما آثَرَ أحدٌ الدُّنيا إلاَّ لنقص في عقله.