ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 61

اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰہُ وَعۡدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیۡہِ کَمَنۡ مَّتَّعۡنٰہُ مَتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ثُمَّ ہُوَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ مِنَ الۡمُحۡضَرِیۡنَ ﴿۶۱﴾
تو کیا وہ شخص جسے ہم نے وعدہ دیا اچھا وعدہ، پس وہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہے جسے ہم نے سامان دیا، دنیا کی زندگی کا سامان، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں سے ہے۔ En
بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے
En
کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالﺂخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61){ اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا …:} اس آیت میں مومن و کافر کی زندگیوں کا موازنہ کیا گیا ہے اور سوال کی صورت میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آیا یہ دونوں زندگیاں کسی صورت برابر ہو سکتی ہیں؟ جب یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتیں تو تم دنیا کے فائدے کے لیے رسول کی پیروی کیوں چھوڑتے ہو؟ دنیا کی نعمتیں مومن و کافر دونوں کو ملتی ہیں، مگر مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند رہ کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے، جس کی وجہ سے آخرت کی نعمتیں صرف اس کے لیے خاص ہو جاتی ہیں۔ (دیکھیے اعراف: ۳۲) اور ایمان اور عمل صالح والوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی وعدۂ حسنہ ہے، جو ہر حال میں مومن کو مل کر رہے گا، کیونکہ اللہ کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، جیسا کہ فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَ لَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [النحل: ۹۷] جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں کافر ہے، مومن کے متعلق جو فرمایا کہ وہ ہمارے اچھے وعدے کو ملنے والا ہے، تو یہ اشارہ ہے کہ کافر کو بھی شیطان اور اس کے بنائے ہوئے شریک وعدے دلاتے رہتے ہیں، مگر ان کے دلائے ہوئے وعدے اسے کبھی حاصل نہیں ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن شیطان کہے گا: «{ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۠ [إبراہیم: ۲۲] بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔ کافر کو دنیا کی زندگی کا کچھ سامان دیا گیا، ملنا اسے بھی اتنا ہی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، مگر اس نے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بجائے اپنی خواہش نفس کے مطابق اس سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن حاضر کیے جانے والے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں { الْمُحْضَرِيْنَ } (حاضر کیے جانے والے) کا لفظ عذاب میں حاضر کیے جانے والوں کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔ دیکھیے سورۂ صافات (۵۷ اور ۱۲۷) اس لفظ میں بھی یہ مفہوم موجود ہے، کیونکہ حاضر اسی کو کیا جاتا ہے جو حاضر نہ ہونا چاہے، جنت میں تو ہر شخص شوق سے جائے گا۔
ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: تو کیا وہ شخص جو مومن ہے، اس وعدے کو سچا جاننے والا ہے جو اللہ نے اس کے صالح اعمال پر اس سے ثواب کی صورت میں کیا ہے، جو لا محالہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو کافر ہے، اللہ کی ملاقات اور اس کے وعدہ و وعید کو جھٹلانے والا ہے۔ سو اسے دنیا کی زندگی میں تھوڑے سے دن کچھ سامان ملنے والا ہے، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ مجاہد نے فرمایا، یعنی عذاب دیے جانے والوں میں سے ہے۔ (ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61-1یعنی سزا اور عذاب کا مستحق ہوگا مطلب ہے اہل ایمان، وعدہ الٰہی کے مطابق نعمتوں سے بہرہ ور اور نافرمان عذاب سے دو چار، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو، اس شخص کی طرف ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا [84] سامان دے رکھا ہو پھر وہ قیامت کے دن (سزا یا جوابدہی کے لئے) پیش کیا جانے والا ہو؟
[84] دنیاوی متاع کا حصول مذموم نہیں! الا یہ کہ اس میں اخروی نقصان ہو:۔
اس آیت میں دو آدمیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو آخرت کے بہتر انجام پر نظر رکھتا ہو اور اس بہتر انجام کے لئے ہی اپنی کوششیں صرف کر رہا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس کا مطمح نظر صرف دنیوی مفادات اور ساز و سامان تک محدود ہو اور آخرت میں اس سے سختی سے باز پرس کی جانے والی ہو۔ اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ خود ہی فیصلہ کر لو۔ ان دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں نے یہ غلط نتیجہ نکالا کہ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور دنیا کے مفادات کا حصول مذموم چیز ہے اور اس سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہئے اور اپنی نظر صرف اخروی مفادات پر رکھنی چاہئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دعا سکھلائی اور جسے رسول اللہ اکثر اوقات پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: ﴿رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ [2:201] اس آیت میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کا اللہ سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ بلکہ دنیا کی بھلائی کا مطالبہ آخرت سے پہلے ہے۔ ان سب آیات کو ملانے سے جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور اس کا ساز و سامان صرف اس صورت میں مذموم ہو گا جب کہ اس سے اخروی مفادات کا نقصان ہو رہا ہو۔ مذموم چیز صرف یہ ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی جائے۔ جب آخرت کا نقصان ہو رہا ہو تو اس وقت ایک مسلمان کا طرز عمل یہی ہو گا کہ دنیوی مفادات کو لات مار دے۔
بھلائی میسر آنے کے لحاظ سے انسانوں کی چار قسمیں :۔
پھر یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایک شخص نے اخروی انجام سے آنکھیں بند رکھی ہوں تاکہ وہ دنیوی مفادات تو حسب خواہش حاصل کر لے مگر اسے زندگی بھر سوائے غربت اور مصائب و مشکلات کے کچھ حاصل نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کا مطمح نظر تو صرف اخروی مفادات ہو لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا میں بھی ہر طرح کی بے بہا نعمتوں اور ساز و سامان سے نواز دے۔ جیسا کہ بعض انبیاء بادشاہ وقت بھی تھے۔ اس لحاظ سے انسانوں کی چار قسمیں بن جاتی ہیں۔ ایک وہ جنہیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی نصیب ہو اور یہ سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت کی بھلائی تو نصیب ہو لیکن دنیا میں مشکل سے گزر بسر کریں۔ ان کا شمار بھی بہتر لوگوں میں ہے۔ تیسرے وہ جن کی آخرت تو خراب ہو مگر دنیا میں عیش و آرام مسیر ہو۔ یہ حقیقت میں برے لوگ ہیں اور چوتھے وہ جن کی دنیا بھی خراب اور آخرت بھی خراب ہو۔ ایسے لوگ ہر لحاظ سے بد ترین ہوئے۔ واضح رہے کہ اس آیت میں دوسری اور تیسری قسم کے لوگوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ ٭٭
اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت و ذلت اس کی ناپائیداری بے ثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت «مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:96]‏‏‏‏ ’ تمہارے پاس جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے پاس تمام چیزیں بقا والی ہیں ‘۔ «وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ» ۱؎ [3-آل عمران:198]‏‏‏‏ ’ اللہ کے پاس جو ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہت ہی بہتر اور عمدہ ہے ‘۔ «وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ» ۱؎ [13-الرعد:26]‏‏‏‏ ’ آخرت کے مقابلہ میں دنیا تو کچھ بھی نہیں ‘۔ «بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ» [87-الأعلى:16،17]‏‏‏‏ ’ لیکن افسوس کہ لوگ دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور آخرت سے غافل ہو رہے ہیں جو بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والی ہے ‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے پھر دیکھ لے کہ اس کی انگلی پر جو پانی چڑھا ہوا ہے وہ سمندر کے مقابلہ میں کتنا کچھ ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2858]‏‏‏‏ افسوس کہ اس پر بھی اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بےعلمی کے باعث دنیا کے متوالے ہو رہے ہیں۔
خیال کر لو ایک تو وہ جو اللہ پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان و یقین رکھتا ہو اور ایک وہ جو ایمان نہ لایا ہو نتیجے کے اعتبار سے برابر ہو سکتے ہیں؟ ایمان والوں کے ساتھ تو اللہ کا جنت کا اور اپنی بےشمار ان مٹ غیر فانی نعمتوں کا وعدہ ہے اور کافر کے ساتھ وہاں کے عذابوں کا ڈراوا ہے گو دنیا میں کچھ روز عیش ہی منالے۔
مروی ہے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدنا حمزہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہم اور ابوجہل کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے جیسے فرمان اللہ ہے کہ جنتی مومن اپنے جنت کے درجوں سے جھانک کر جہنمی کافر کو جہنم کے جیل خانہ میں دیکھ کر کہے گا «وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ» ۱؎ [37-الصافات:57]‏‏‏‏ ’ اگر مجھ پر میرے رب کا انعام نہ ہوتا تو میں بھی ان عذابوں میں پھنس جاتا ‘۔ اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:158]‏‏‏‏ ’ جنات کو یقین ہے کہ وہ حاضر کیے جانے والوں میں سے ہیں ‘۔