تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے پہلے آباء میں یہ بات نہیں سنی، کیونکہ اس سے پہلے مصر میں یوسف علیہ السلام گزر چکے تھے جو قید خانے میں بھی توحید کی دعوت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے، جیسا کہ قریش مکہ کا یہ کہنا جھوٹ تھا کہ ہم نے اپنے آباء میں یہ بات نہیں سنی، حالانکہ ان کے آبا و اجداد میں ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام تھے جو بتوں کو توڑنے والے تھے اور توحید الٰہی کے زبردست علمبردار تھے، مگر فرعون اور قریش مکہ نے صرف ان آباء کو دلیل بنایا جو عقل و ہدایت دونوں سے خالی تھے، فرمایا: «{ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ }» [البقرۃ: ۱۷۰]”کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فذهب موسى برسالة ربِّه، {فلمَّا جاءهم موسى بآياتِنا بيِّناتٍ}: واضحاتِ الدِّلالة على ما قال لهم ، ليس فيها قصورٌ ولا خفاءٌ، {قالوا}: على وجه الظُّلم والعلوِّ والعناد: {ما هذا إلاَّ سحرٌ مفترى}؛ كما قال فرعونُ في تلك الحال التي ظهر فيها الحقُّ، واستعلى على الباطل، واضمحلَّ الباطلُ، وخضع له الرؤساءُ العارِفون حقائقَ الأمور: {إنَّه لكبيرُكُمُ الذي علَّمَكُمُ السحرَ}! هذا؛ وهو الذكيُّ غير الزكيِّ، الذي بلغ من المكر والخداع والكيد ما قصَّه الله علينا، وقد علم ما أنزل هؤلاء إلاَّ رب السماوات والأرض، ولكنَّ الشقاء غالبٌ، {وما سمعنا بهذا في آبائنا الأولين}: وقد كَذَبوا في ذلك؛ فإنَّ الله أرسل يوسفَ قبل موسى؛ كما قال تعالى: {ولقد جاءكم يوسُفُ من قبلُ بالبيِّناتِ فما زِلْتُم في شكٍّ مما جاءكم به حتى إذا هَلَكَ قلتُم لن يَبْعَثَ الله من بعدِهِ رسولاً كذلك يُضِلُّ الله من هو مسرفٌ مرتاب}.