وَ قَالَ مُوۡسٰی رَبِّیۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی مِنۡ عِنۡدِہٖ وَ مَنۡ تَکُوۡنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور موسیٰ نے کہا میرا رب اسے زیادہ جاننے والا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا اور اس کو بھی جس کے لیے اس گھر کا اچھا انجام ہوگا، بے شک حقیقت یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔
En
اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لےکر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے۔ بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے
En
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے میرا رب تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو اس کے پاس کی ہدایت لے کر آتا ہے اور جس کے لیے آخرت کا (اچھا) انجام ہوتا ہے۔ یقیناً بے انصافوں کا بھلا نہ ہوگا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ { وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّيْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى …:} مفسرین کہتے ہیں کہ بظاہر فرعون کی بات نقل کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی بات نقل کرنے کے لیے {” قَالَ “} ہی کافی تھا، ”واؤ“ کی ضرورت نہ تھی، مگر دونوں کی بات کا موازنہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”واؤ“ کا ذکر کیا کہ فرعون نے یہ کہا اور موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔
➋ موسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی اس تلقین پر عمل کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے کی تھی، فرمایا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [طٰہٰ: ۴۴] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔“ فرعون کی ہٹ دھرمی کے جواب میں انھوں نے اسے جھوٹا کہنے یا کوئی سخت بات کرنے کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ اس کے پاس سے ہدایت لے کر کون آیا ہے اور اس گھر کا اچھا انجام کس کا ہوتا ہے؟ ہاں! اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اس طرح کی بات ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلِ اللّٰهُ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (24) قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (25) قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيْمُ }» [سبا: ۲۴ تا ۲۶]”کہہ تمھیں آسمانوں اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کہہ دے اللہ۔ اور بے شک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔ کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“
➌ { عَاقِبَةُ الدَّارِ:} آلوسی نے فرمایا: {” الدَّارِ “} (اس گھر) سے مراد دنیا ہے، اس کا اچھا انجام ایسا خاتمہ ہے جو انسان کو اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ جنت میں لے جائے۔“
➋ موسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کی اس تلقین پر عمل کا ایک خوب صورت نمونہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے کی تھی، فرمایا: «{ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى }» [طٰہٰ: ۴۴] ”پس اس سے بات کرو، نرم بات، اس امید پر کہ وہ نصیحت حاصل کرلے، یا ڈر جائے۔“ فرعون کی ہٹ دھرمی کے جواب میں انھوں نے اسے جھوٹا کہنے یا کوئی سخت بات کرنے کے بجائے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ اس کے پاس سے ہدایت لے کر کون آیا ہے اور اس گھر کا اچھا انجام کس کا ہوتا ہے؟ ہاں! اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اس طرح کی بات ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ قُلِ اللّٰهُ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (24) قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (25) قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيْمُ }» [سبا: ۲۴ تا ۲۶]”کہہ تمھیں آسمانوں اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ کہہ دے اللہ۔ اور بے شک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں، یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔ کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“
➌ { عَاقِبَةُ الدَّارِ:} آلوسی نے فرمایا: {” الدَّارِ “} (اس گھر) سے مراد دنیا ہے، اس کا اچھا انجام ایسا خاتمہ ہے جو انسان کو اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ جنت میں لے جائے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37-1یعنی مجھ سے اور تم سے زیادہ ہدایت کا جاننے والا اللہ ہے، اس لئے جو بات اللہ کی طرف سے آئے گی، وہ صحیح ہوگی یا تمہارے اور تمہارے باپ دادوں کی۔ 37-2اچھے انجام سے مراد آخرت میں اللہ کی رضامندی اور اس کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جانا ہے اور یہ استحقاق صرف اہل توحید کے حصے میں آئے گا 37-3ظالم سے مراد مشرک اور کافر ہیں، کیونکہ ظلم کے معنی ہیں۔ وضع الشئ فی غیر محلہ کسی چیز کو اسکے اصل مقام سے ہٹا کر کسی اور جگہ رکھ دینا۔ مشرک بھی چونکہ الوہیت کے مقام پر ایسے لوگوں کو بٹھا دیتے ہیں جو اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ اسی طرح کافر بھی رب کے اصل مقام سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں اور یہ کامیابی سے یعنی آخرت میں اللہ کی رحمت و مغفرت سے محروم رہیں گے۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ دنیا میں خوشحالی اور مال و اسباب کی فراوانی حقیقی کامیابی کی نفی فرما رہا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے نہ کہ دنیا کی چند روزہ عارضی خوشحالی و فراوانی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ موسیٰ نے کہا: اس شخص کا حال تو میرا پروردگار ہی خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور اسی شخص کو بھی وہی جانتا ہے جس کے لئے آخرت کا گھر ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے۔ [48]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔
لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔
اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔“
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَ مُوْسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰؔى مِنْ عِنْدِهٖ وَمَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ”میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔“ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا یُفْ٘لِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ ”بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔“ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال موسى}: حين زعموا أنَّ الذي جاءَهم به سحرٌ وضلالٌ، وأنَّ ما هم عليه هو الهدى: {ربِّي أعلمُ بمن جاء بالهُدى مِنْ عندِهِ ومَن تكونُ له عاقبةُ الدار}؛ أي: إذا لم تُفِدِ المقابلةُ معكم وتبيينُ الآيات البيِّناتِ وأبيتُم إلاَّ التَّمادي في غيِّكم واللَّجاج على كفرِكُم؛ فالله تعالى العالم بالمهتدي وغيره ومن تكونُ له عاقبةُ الدار؛ نحن أم أنتُم. {إنَّه لا يُفْلِحُ الظالمون}: فصار عاقبةُ الدار لموسى وأتباعِهِ والفلاحُ والفوزُ، وصار لأولئك الخسار وسوء العاقبة والهلاك.