تو جب موسیٰ ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو ایک گھڑے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔
En
اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں
پس جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے دیے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وه کہنے لگے یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں کبھی یہ نہیں سنا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّاجَآءَهُمْمُّوْسٰؔىبِاٰیٰتِنَابَیِّنٰتٍ﴾”پس جب موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔“ یعنی موسیٰ علیہ السلام اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوْا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا: ﴿ مَاهٰؔذَاۤاِلَّاسِحْرٌمُّفْتَرًى ﴾”یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔“ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا: ﴿ اِنَّهٗلَكَبِیْرُؔكُمُالَّذِیْعَلَّمَكُمُالسِّحْرَ﴾ (طٰہٰ:20؍71) ”یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔“ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔
﴿ وَّمَاسَمِعْنَابِهٰؔذَافِیْۤاٰبَآىِٕنَاالْاَوَّلِیْ٘نَ ﴾”اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔“ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدْجَآءَكُمْیُوْسُفُمِنْقَبْلُبِالْبَیِّنٰتِفَمَازِلْتُمْفِیْشَكٍّمِّؔمَّاجَآءَكُمْبِهٖ١ؕحَتّٰۤىاِذَاهَلَكَقُلْتُمْلَ٘نْیَّبْعَثَاللّٰهُمِنْۢبَعْدِهٖرَسُوْلًا١ؕكَذٰلِكَیُضِلُّاللّٰهُمَنْهُوَمُسْرِفٌمُّرْتَابٌ﴾ (غافر:40؍34) ”اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فذهب موسى برسالة ربِّه، {فلمَّا جاءهم موسى بآياتِنا بيِّناتٍ}: واضحاتِ الدِّلالة على ما قال لهم ، ليس فيها قصورٌ ولا خفاءٌ، {قالوا}: على وجه الظُّلم والعلوِّ والعناد: {ما هذا إلاَّ سحرٌ مفترى}؛ كما قال فرعونُ في تلك الحال التي ظهر فيها الحقُّ، واستعلى على الباطل، واضمحلَّ الباطلُ، وخضع له الرؤساءُ العارِفون حقائقَ الأمور: {إنَّه لكبيرُكُمُ الذي علَّمَكُمُ السحرَ}! هذا؛ وهو الذكيُّ غير الزكيِّ، الذي بلغ من المكر والخداع والكيد ما قصَّه الله علينا، وقد علم ما أنزل هؤلاء إلاَّ رب السماوات والأرض، ولكنَّ الشقاء غالبٌ، {وما سمعنا بهذا في آبائنا الأولين}: وقد كَذَبوا في ذلك؛ فإنَّ الله أرسل يوسفَ قبل موسى؛ كما قال تعالى: {ولقد جاءكم يوسُفُ من قبلُ بالبيِّناتِ فما زِلْتُم في شكٍّ مما جاءكم به حتى إذا هَلَكَ قلتُم لن يَبْعَثَ الله من بعدِهِ رسولاً كذلك يُضِلُّ الله من هو مسرفٌ مرتاب}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔