ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیۡرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الۡہُدۡہُدَ ۫ۖ اَمۡ کَانَ مِنَ الۡغَآئِبِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور اس نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا مجھے کیا ہے کہ میں فلاں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا، یا وہ غائب ہونے والوں سے ہے۔ En
انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کیا سبب ہے کہ ہُدہُد نظر نہیں آتا۔ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے؟
En
آپ نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا؟ کیا واقعی وه غیر حاضر ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ { وَ تَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى …:} اس سے سلیمان علیہ السلام کے کمال احتیاط، نظم و ترتیب اور بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا پتا چلتا ہے، حتیٰ کہ پرندوں میں سے ایک پرندے ہُد ہُد اور ہُد ہُد میں سے ایک خاص ہُد ہُد کی عدم موجودگی بھی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم بھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی بہ نفس نفیس خبر رکھتے تھے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حالات، خصوصاً ان کا شام کا سفر اس کی بہترین مثال ہے۔
➋ { فَقَالَ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ:} یعنی معاملہ کیا ہے، آیا ہُد ہُد یہاں موجود ہے اور مجھے نظر نہیں آ رہا، یا وہ ان میں سے ہے جو غائب ہیں؟ معلوم ہوا جائزے میں اور بھی کئی لوگ غائب تھے، مگر ان کے متعلق باز پرس کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ ممکن ہے وہ اجازت سے غائب ہوں، یا ان کے تذکرے کی ضرورت نہ ہو۔ اس واقعہ سے انبیاء علیھم السلام کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ اگر سلیمان علیہ السلام کو ہُد ہُد کے متعلق علم ہوتا تو یہ بات نہ کہتے۔
➌ اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام نے ہُد ہُد کو اس لیے طلب کیا تھا کہ وہ زمین کے نیچے پانی دیکھ لیتا تھا، مگر یہ بات بے دلیل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ بتا دیتا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر فرما دیتے۔ آیت کے الفاظ بھی اس مفہوم کے خلاف ہیں، کیونکہ اس میں ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے تمام پرندوں کا جائزہ لیا تو ایک خاص ہُد ہُد ({الْهُدْهُدَ}) کو غائب پایا۔ اس میں پانی کی ضرورت کے لیے ہُد ہُد کو طلب کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ہُد ہُد کے متعلق سوال کی وجہ لشکر کا جائزہ تھا اور لشکر کا جائزہ مجاہدین کی معمول کی بات ہے۔ علاوہ ازیں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سلیمان علیہ السلام کو ہُد ہُد کی کوئی محتاجی نہ تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنّوں اور عفریتوں کی وہ فوج عطا کر رکھی تھی جسے کسی بھی جگہ سے پانی لانا کچھ مشکل نہ تھا (جیسا کہ آنکھ جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت آ جانا، اس کی واضح مثال ہے)۔ کوئی قدیم مفسر اس قسم کی کوئی بے سروپا اسرائیلی روایت نقل کر دیتا ہے تو بعد والے مفسرین اسے اندھا دھند نقل کرتے جاتے ہیں، یہ سوچتے ہی نہیں کہ اس کا کوئی ثبوت بھی ہے یا نہیں، حتیٰ کہ ایسی بہت سی بے سروپا باتوں کو متفق علیہ حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔ (تفسیر السعدی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1یعنی موجود تو ہے، مجھے نظر نہیں آرہا یا یہاں موجود ہی نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ (پھر ایک موقع پر) سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے: ”کیا بات ہے مجھے ہد ہد نظر نہیں آ رہا، کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہدہد ٭٭
ہدہد سلیمان علیہ السلام فوج کی میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان علیہ السلام جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے؟ یہ بتا دیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔
سلیمان علیہ السلام اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا۔ ایک دن اسی طرح جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش کی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم دیں۔ اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقعی وہ حاضر نہیں؟
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ازرق خارجی نے اعتراض کیا تھا یہ بکواسی ہر وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی باتوں پر بیجا اعتراض کیا کرتا تھا کہنے لگا آج تو تم ہارگئے۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کر لیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما لاجواب ہو گیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضاء آ جاتی ہے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہو گیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔
عبداللہ برزی رحمہ اللہ ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی (‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی پیچھے پڑ گئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آ کر فرمایا لو سن لو میرے پاس دو خراسانی برزہ میں (‏‏‏‏جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔
انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اس کی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔
انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کر دیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا۔
انہوں نے مجھے سے کہا اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دور چلئے میں نے منظور کر لیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لیے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑ لیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں چھوڑ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقاً وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کررحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کر دیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا۔ (‏‏‏‏ابن عساکر) ۱؎ [تاریخ دمشق:130/19]‏‏‏‏
سلیمان علیہ السلام کے اس ہدہد کا نام عنبر تھا، آپ فرماتے ہیں اگر فی الواقع وہ غیر حاضر ہے تو میں اسے سخت سزادوں گا اس کے پر نچوادوں گا اور اس کو پھنک دوں گا کہ کیڑے مکوڑے کھاجائیں یا میں اسے حلال کردونگا۔ یا یہ کہ وہ اپنے غیر حاضر ہونے کی کوئی معقول وجہ پیش کر دے۔
اتنے میں ہدہد آ گیا جانوروں نے اسے خبر دی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کر چکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پرندوں کے ساتھ سلیمان علیہ السلام کے مخاطب ہونے کا ایک اور نمونہ ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ اور انھوں نے پرندوں کا جائزہ لیا۔ یہ چیز آپ کے کامل عزم و حزم، آپ کی افواج کی بہترین تنظیم اور چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کی بہترین تدبیر پر دلالت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے پرندوں کو بھی مہمل نہیں چھوڑا بلکہ آپ نے ان کا بغور معائنہ کیا کہ تمام پرندے حاضر ہیں یا ان میں سے کوئی مفقود ہے؟ یہ ہے آیت کریمہ کا معنی۔ ان مفسرین کا یہ قول صحیح نہیں کہ سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کا معائنہ اس لیے کیا تھا تاکہ وہ ہدہد کو تلاش کریں کہ وہ کہاں ہے؟ جو ان کی رہنمائی کرے کہ آیا پانی قریب ہے یا دور ہے۔ جیسا کہ ہد ہد کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے اس قول پر کوئی دلیل نہیں بلکہ عقلی اور لفظی دلیل اس کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ عادت، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے سے یہ بات معلوم ہے کہ تمام حیوانات میں کوئی حیوان ایسا نہیں جو خرق عادت کے طور پر زمین کی کثیف تہوں کے نیچے پانی دیکھ سکتا ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور کرتا کیونکہ یہ بہت بڑا معجزہ ہے۔ رہی لفظی دلیل تو اگر یہی معنی مراد ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا سلیمان نے ہدہد کو طلب کیا تاکہ وہ ان کے لیے پانی تلاش کرے جب انھوں نے ہدہد کو موجود نہ پایا تو انھوں نے کہا جو کہا… یا عبارت اس طرح ہوتی سلیمان نے ہدہد کے بارے میں تفتیش کی یا ہدہد کے بارے میں تحقیق کی اور اس قسم کی دیگر عبارات۔ انھوں نے تو پرندوں کا صرف اس لیے جائزہ لیا تھا تاکہ وہ معلوم کریں کہ ان میں سے کون حاضر اور کون غیر حاضر ہے اور ان میں سے کون اپنے اپنے مقام پر موجود ہے جہاں اس کو متعین کیا گیا تھا۔ نیز حضرت سلیمان علیہ السلام پانی کے محتاج نہ تھے کہ انھیں ہدہد کے علم ہندسہ کی ضرورت پڑتی، اس لیے کہ آپ کے پاس جن اور بڑے بڑے عفریت تھے جو پانی کو خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتا زمین کھود کر نکال لاتے … اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا تھا وہ صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی ان تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے وہ ہدہد کے کیسے محتاج ہو سکتے تھے۔
یہ تفاسیر جو شہرت پا چکی ہیں اور ان کے سوا کوئی تفسیر معروف ہے نہ پائی جاتی ہے۔ سب مجرد اسرائیلی روایات ہیں اور ان کے ناقلین صحیح معانی سے ان کے تناقض اور صحیح اقوال کے ساتھ پر ان کی تطبیق سے بے خبر ہیں، پھر یہ تفاسیر نقل ہوتی چلی آئیں متاخرین متقدمین کے اعتماد پر ان کو نقل کرتے رہے حتیٰ کہ ان کے حق ہونے کا یقین آنے لگا۔ پس تفسیر میں ردی اقوال اسی طرح جگہ پاتے ہیں۔
ایک عقل مند اور ذہین شخص خوب جانتاہے کہ یہ قرآن کریم عربی مبین میں نازل ہوا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عالم و جاہل تمام مخلوق کو خطاب کیا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے معانی میں غوروفکر کریں اور ان کو معروف عربی الفاظ کے ساتھ جن کے معانی معروف ہیں تطبیق دینے کی کوشش کریں۔ جن سے اہل عرب ناواقف نہیں۔ اگر کچھ تفسیری اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور سے منقول ہیں تو ان کو اس اصل پر پرکھنا چاہیے۔ اگر وہ اس اصل کے مطابق ہیں تو ان کو قبول کر لیا جائے کیونکہ الفاظ معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ اگر یہ اقوال لفظ اور معنی کی مخالفت کرتے ہیں یا وہ لفظ یا معنی میں سے ایک کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کو رد کر دے اور ان کے بطلان کا یقین کرے کیونکہ اس کے پاس ایک مسلمہ اصول ہے اور یہ تفسیری اقوال اس اصول کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ اصول ہمیں کلام کے معنی اور اس کی دلالت کے ذریعے سے معلوم ہے۔اور محل استشہاد یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا پرندوں کا معائنہ کرنا اور ہدہد کو مفقود پانا ان کے کمال حزم و احتیاط، تدبیر سلطنت میں ذاتی عمل دخل اور ان کی ذہانت وفطانت پر دلالت کرتا ہے، یہاں تک کہ ہدہد جیسے چھوٹے سے پرندے کو مفقود پایا تو فرمایا: ﴿ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىِٕبِیْنَ۠ کیا وجہ ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا، کیا کہیں غائب ہو گیا؟ ہے۔ کیا ہدہد کا نظر نہ آنا میری قلت فطانت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ وہ مخلوق کے بے شمار گروہوں میں چھپا ہوا ہے؟ یا میری بات برمحل ہے کہ وہ میری اجازت اور حکم کے بغیر غیر حاضر ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ نموذجاً آخر من مخاطبته للطير، فقال: {وتفقَّدَ الطيرَ}: دلَّ هذا على كمال عزمِهِ وحزمِهِ وحسن تنظيمِهِ لجنودِهِ وتدبيرِهِ بنفسه للأمور الصغار والكبار، حتى إنَّه لم يُهْمِلْ هذا الأمر، وهو تفقُّد الطيور، والنظرُ هل هي موجودةٌ كلُّها أم مفقودٌ منها شيء؟ وهذا هو المعنى للآية.

ولم يصنع شيئاً مَنْ قال: إنَّه تفقَّد الطير لينظرَ أين الهدهد منه ليدلَّه على بعدِ الماء وقربِهِ؛ كما زعموا عن الهدهد أنَّه يبصِرُ الماء تحت الأرض الكثيفة؛ فإنَّ هذا القول لا يدلُّ عليه دليلٌ، بل الدليلُ العقليُّ واللفظيُّ دالٌّ على بطلانِهِ: أما العقليُّ؛ فإنَّه قد عُرِفَ بالعادة والتجارب والمشاهدات أنَّ هذه الحيوانات كلَّها ليس منها شيءٌ يبصر هذا البصرَ الخارقَ للعادة وينظر الماءَ تحت الأرض الكثيفة، ولو كان كذلك؛ لَذَكَرَهُ الله؛ لأنَّه من أكبر الآيات. وأما الدليلُ اللفظيُّ؛ فلو أريد هذا المعنى؛ لقال: وطلب الهدهدَ لينظر له الماء، فلمَّا فقده؛ قال ما قال، أو: فَفَتَّش عن الهدهد، أو: بحث عنه. ونحو ذلك من العبارات. وإنَّما تفقَّد الطيرَ لينظرَ الحاضر منها والغائبَ ولزومَها للمراكز والمواضع التي عيَّنها لها. وأيضاً؛ فإنَّ سليمان عليه السلام لا يحتاج ولا يضطرُّ إلى الماء بحيث يحتاج لهندسةِ الهدهدِ؛ فإنَّ عنده من الشياطين والعفاريت ما يحفرون له الماء، ولو بلغ في العمق ما بلغ، وسخَّر الله له الريح غُدُوُّها شهرٌ ورَواحها شهرٌ؛ فكيف مع ذلك يحتاجُ إلى الهدهد؟!

وهذه التفاسير التي توجد وتشتهر بها أقوالٌ لا يُعْرَفُ غيرُها تَنْقِلُ هذه الأقوال عن بني إسرائيل مجرَّدة، ويغفل الناقل عن مناقضتها للمعاني الصحيحة وتطبيقِها على الأقوال، ثم لا تزال تَتَناقل وينقُلُها المتأخِّر مسلِّماً للمتقدِّم، حتى يُظَنَّ أنَّها الحقُّ، فيقع من الأقوال الرديَّة في التفاسير ما يقعُ، واللبيبُ الفطنُ يعرِف أنَّ هذا القرآن الكريم العربيَّ المبينَ الذي خاطب الله به الخلقَ كلَّهم عالمهم وجاهلهم وأمَرَهم بالتفكُّر في معانيه وتطبيقها على ألفاظه العربيَّة المعروفة المعاني التي لا تجهلُها العربُ العرباءُ، وإذا وَجَدَ أقوالاً منقولة عن غير رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، رَدَّها إلى هذا الأصل؛ فإن وافقه؛ قبلها؛ لكون اللفظ دالًّا عليها، وإنْ خالفتْه لفظاً ومعنىً أو لفظاً أو معنىً؛ ردَّها وجزم ببطلانِها؛ لأنَّ عنده أصلاً معلوماً مناقضاً لها، وهو ما يعرفه من معنى الكلام ودلالته.

والشاهدُ أنَّ تفقُّدَ سليمان عليه السلام للطير وفَقْدَهُ الهدهدَ يدلُّ على كمال حزمِهِ وتدبيرِهِ للمُلك بنفسه وكمال فطنتِهِ، حتى فَقَدَ هذا الطائر الصغير، {فقال ما لي لا أرى الهُدْهُدَ أم كان من الغائبين}؛ أي: هل عدم رؤيتي إيَّاه لقلَّة فطنتي به لكونه خفيًّا بين هذه الأمم الكثيرة؟ أم على بابها بأن كان غائباً من غير إذني ولا أمري؟!