تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَقَالَ مَا لِيَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ:} یعنی معاملہ کیا ہے، آیا ہُد ہُد یہاں موجود ہے اور مجھے نظر نہیں آ رہا، یا وہ ان میں سے ہے جو غائب ہیں؟ معلوم ہوا جائزے میں اور بھی کئی لوگ غائب تھے، مگر ان کے متعلق باز پرس کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ ممکن ہے وہ اجازت سے غائب ہوں، یا ان کے تذکرے کی ضرورت نہ ہو۔ اس واقعہ سے انبیاء علیھم السلام کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ اگر سلیمان علیہ السلام کو ہُد ہُد کے متعلق علم ہوتا تو یہ بات نہ کہتے۔
➌ اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام نے ہُد ہُد کو اس لیے طلب کیا تھا کہ وہ زمین کے نیچے پانی دیکھ لیتا تھا، مگر یہ بات بے دلیل ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ بتا دیتا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر فرما دیتے۔ آیت کے الفاظ بھی اس مفہوم کے خلاف ہیں، کیونکہ اس میں ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے تمام پرندوں کا جائزہ لیا تو ایک خاص ہُد ہُد ({الْهُدْهُدَ}) کو غائب پایا۔ اس میں پانی کی ضرورت کے لیے ہُد ہُد کو طلب کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ہُد ہُد کے متعلق سوال کی وجہ لشکر کا جائزہ تھا اور لشکر کا جائزہ مجاہدین کی معمول کی بات ہے۔ علاوہ ازیں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے سلیمان علیہ السلام کو ہُد ہُد کی کوئی محتاجی نہ تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں جنّوں اور عفریتوں کی وہ فوج عطا کر رکھی تھی جسے کسی بھی جگہ سے پانی لانا کچھ مشکل نہ تھا (جیسا کہ آنکھ جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت آ جانا، اس کی واضح مثال ہے)۔ کوئی قدیم مفسر اس قسم کی کوئی بے سروپا اسرائیلی روایت نقل کر دیتا ہے تو بعد والے مفسرین اسے اندھا دھند نقل کرتے جاتے ہیں، یہ سوچتے ہی نہیں کہ اس کا کوئی ثبوت بھی ہے یا نہیں، حتیٰ کہ ایسی بہت سی بے سروپا باتوں کو متفق علیہ حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے۔ (تفسیر السعدی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سلیمان علیہ السلام اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا۔ ایک دن اسی طرح جنگل میں تھے پرندوں کی تفتیش کی تاکہ پانی کی تلاش کا حکم دیں۔ اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقعی وہ حاضر نہیں؟
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں؟ اس نے کہا آپ جو یہ فرماتے ہو کہ ہدہد زمین کے تلے کا پانی دیکھ لیتا تھا یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے ایک بچہ جال بچھاکر اسے مٹی سے ڈھک کر دانہ ڈال کر ہدہد کا شکار کر لیتا ہے اگر وہ زمین کے اندر کا پانی دیکھتا ہے تو زمین کے اوپر کا جال اسے کیوں نظر نہیں آتا؟ آپ نے فرمایا اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تو یہ سمجھ جائے گا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما لاجواب ہو گیا تو مجھے جواب کی ضرورت نہ تھی سن جس وقت قضاء آ جاتی ہے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں اور عقل جاتی رہتی ہے۔ نافع لاجواب ہو گیا اور کہا واللہ اب میں آپ پر اعتراض نہ کرونگا۔
عبداللہ برزی رحمہ اللہ ایک ولی کامل شخص تھے پیر جمعرات کا روزہ پابندی سے رکھا کرتے تھے۔ اسی (80) سال کی عمر تھی ایک آنکھ سے کانے تھے۔ سلیمان بن زید نے ان سے آنکھ کے جانے کا سبب دریافت کیا تو آپ نے اس کے بتانے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی پیچھے پڑ گئے مہینوں گذر گئے نہ وہ بتاتے نہ یہ سوال چھوڑتے آخر تنگ آ کر فرمایا لو سن لو میرے پاس دو خراسانی برزہ میں (جو دمشق کے پاس ایک شہر ہے) آئے اور مجھ سے کہا کہ میں انہیں برزہ کی وادی میں لے جاؤں میں انہیں وہاں لے گیا۔
انہوں نے انگیٹھیاں نکالیں بخور نکالے اور جلانے شروع کئے یہاں تک کہ تمام وادی خوشبو سے مہکنے لگی۔ اور ہر طرف سے سانپوں کی آمد شروع ہو گئی۔ لیکن بےپرواہی سے بیٹھے رہے کسی سانپ کی طرف التفات نہ کرتے تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک سانپ آیا جو ہاتھ بھر کا تھا اور اس کی آنکھیں سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہ بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے ہماری سال بھر محنت ٹھکانے لگی۔
انہوں نے اس سانپ کو لے کر اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر کر اپنی آنکھوں میں وہ سلائی پھیرلی میں نے ان سے کہا کہ میری آنکھوں میں بھی یہ سلائی پھیردو۔ انہوں نے انکار کر دیا میں نے ان سے منت سماجت کی بہ مشکل وہ راضی ہوئے اور میری داہنی آنکھ میں وہ سلائی پھیر دی اب جو میں دیکھتا ہوں تو زمین مجھے ایک شیشے کی طرح معلوم ہونے لگی جیسی اوپر کی چیزیں نظر آتی تھیں ایسی ہی زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ رہا تھا۔
انہوں نے مجھے سے کہا اب آپ ہمارے ساتھ ہی کچھ دور چلئے میں نے منظور کر لیا وہ باتیں کرتے ہوئے مجھے ساتھ لیے ہوئے چلے جب میں بستی سے بہت دور نکل گیا تو دونوں نے مجھے دونوں طرف سے پکڑ لیا اور ایک نے اپنی انگلی ڈال کر میری آنکھ نکالی اور اسے پھینک دیا۔ اور مجھیے یونہی بندھا ہوا وہیں چھوڑ کر دونوں کہیں چل دئیے۔ اتفاقاً وہاں سے ایک قافلہ گذرا اور انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ کررحم کھایا قیدوبند سے مجھے آزاد کر دیا اور میں چلا آیا یہ قصہ ہے میری آنکھ کے جانے کا۔ (ابن عساکر) ۱؎ [تاریخ دمشق:130/19]
اتنے میں ہدہد آ گیا جانوروں نے اسے خبر دی کہ آج تیری خیر نہیں۔ بادشاہ سلامت عہد کر چکے ہیں کہ وہ تجھے مار ڈالیں گے۔ اس نے کہا یہ بیان کرو کہ آپ کے الفاظ کیا تھے؟ انہوں نے بیان کئے تو خوش ہو کر کہنے لگا پھر تو میں بچ جاؤں گا۔ مجاہد فرماتے ہیں اس کے بچاؤ کی وجہ اس کا اپنی ماں کے ساتھ سلوک تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ نموذجاً آخر من مخاطبته للطير، فقال: {وتفقَّدَ الطيرَ}: دلَّ هذا على كمال عزمِهِ وحزمِهِ وحسن تنظيمِهِ لجنودِهِ وتدبيرِهِ بنفسه للأمور الصغار والكبار، حتى إنَّه لم يُهْمِلْ هذا الأمر، وهو تفقُّد الطيور، والنظرُ هل هي موجودةٌ كلُّها أم مفقودٌ منها شيء؟ وهذا هو المعنى للآية.
ولم يصنع شيئاً مَنْ قال: إنَّه تفقَّد الطير لينظرَ أين الهدهد منه ليدلَّه على بعدِ الماء وقربِهِ؛ كما زعموا عن الهدهد أنَّه يبصِرُ الماء تحت الأرض الكثيفة؛ فإنَّ هذا القول لا يدلُّ عليه دليلٌ، بل الدليلُ العقليُّ واللفظيُّ دالٌّ على بطلانِهِ: أما العقليُّ؛ فإنَّه قد عُرِفَ بالعادة والتجارب والمشاهدات أنَّ هذه الحيوانات كلَّها ليس منها شيءٌ يبصر هذا البصرَ الخارقَ للعادة وينظر الماءَ تحت الأرض الكثيفة، ولو كان كذلك؛ لَذَكَرَهُ الله؛ لأنَّه من أكبر الآيات. وأما الدليلُ اللفظيُّ؛ فلو أريد هذا المعنى؛ لقال: وطلب الهدهدَ لينظر له الماء، فلمَّا فقده؛ قال ما قال، أو: فَفَتَّش عن الهدهد، أو: بحث عنه. ونحو ذلك من العبارات. وإنَّما تفقَّد الطيرَ لينظرَ الحاضر منها والغائبَ ولزومَها للمراكز والمواضع التي عيَّنها لها. وأيضاً؛ فإنَّ سليمان عليه السلام لا يحتاج ولا يضطرُّ إلى الماء بحيث يحتاج لهندسةِ الهدهدِ؛ فإنَّ عنده من الشياطين والعفاريت ما يحفرون له الماء، ولو بلغ في العمق ما بلغ، وسخَّر الله له الريح غُدُوُّها شهرٌ ورَواحها شهرٌ؛ فكيف مع ذلك يحتاجُ إلى الهدهد؟!
وهذه التفاسير التي توجد وتشتهر بها أقوالٌ لا يُعْرَفُ غيرُها تَنْقِلُ هذه الأقوال عن بني إسرائيل مجرَّدة، ويغفل الناقل عن مناقضتها للمعاني الصحيحة وتطبيقِها على الأقوال، ثم لا تزال تَتَناقل وينقُلُها المتأخِّر مسلِّماً للمتقدِّم، حتى يُظَنَّ أنَّها الحقُّ، فيقع من الأقوال الرديَّة في التفاسير ما يقعُ، واللبيبُ الفطنُ يعرِف أنَّ هذا القرآن الكريم العربيَّ المبينَ الذي خاطب الله به الخلقَ كلَّهم عالمهم وجاهلهم وأمَرَهم بالتفكُّر في معانيه وتطبيقها على ألفاظه العربيَّة المعروفة المعاني التي لا تجهلُها العربُ العرباءُ، وإذا وَجَدَ أقوالاً منقولة عن غير رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، رَدَّها إلى هذا الأصل؛ فإن وافقه؛ قبلها؛ لكون اللفظ دالًّا عليها، وإنْ خالفتْه لفظاً ومعنىً أو لفظاً أو معنىً؛ ردَّها وجزم ببطلانِها؛ لأنَّ عنده أصلاً معلوماً مناقضاً لها، وهو ما يعرفه من معنى الكلام ودلالته.
والشاهدُ أنَّ تفقُّدَ سليمان عليه السلام للطير وفَقْدَهُ الهدهدَ يدلُّ على كمال حزمِهِ وتدبيرِهِ للمُلك بنفسه وكمال فطنتِهِ، حتى فَقَدَ هذا الطائر الصغير، {فقال ما لي لا أرى الهُدْهُدَ أم كان من الغائبين}؛ أي: هل عدم رؤيتي إيَّاه لقلَّة فطنتي به لكونه خفيًّا بين هذه الأمم الكثيرة؟ أم على بابها بأن كان غائباً من غير إذني ولا أمري؟!