ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 19

فَقَدۡ کَذَّبُوۡکُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ ۙ فَمَا تَسۡتَطِیۡعُوۡنَ صَرۡفًا وَّ لَا نَصۡرًا ۚ وَ مَنۡ یَّظۡلِمۡ مِّنۡکُمۡ نُذِقۡہُ عَذَابًا کَبِیۡرًا ﴿۱۹﴾
سو انھوں نے تو تمھیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔ En
تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے
En
تو انہوں نے تو تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم میں عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی، تم میں سے جس جس نے ﻇلم کیا ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ:} یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو وہ مشرکین سے مخاطب ہو کر فرمائے گا کہ تم نے جنھیں معبود بنا رکھا تھا انھوں نے تو تمھیں تمھاری بات میں جھٹلا دیا اور تم سے بری ہو گئے۔ قیامت کے دن تمام خود ساختہ معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بری ہونا اور ان کا دشمن بن جانا قرآن میں متعدد مقامات پر آیا ہے، دیکھیے سورۂ یونس (۲۸)، نحل (۸۶)، مریم (۸۲)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۶)۔
➋ {فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ۠ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا:} یعنی جن سے تم مدد کی توقع رکھتے تھے وہ تمھارے دشمن بن گئے، تو اب تم عذاب سے کسی طرح نہیں بچ سکتے، نہ اسے اپنے آپ سے کسی سفارش یا فدیے سے ہٹا سکتے ہو اور نہ ہی خود یا کوئی اور تمھاری مدد کو آ سکتا ہے۔
➌ { وَ مَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا:} ظلم سے مراد شرک ہے، دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۸۲): «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کی تفسیر اور عذابِ کبیر سے مراد جہنم ہے۔ مطلب یہ کہ تم سب نے ظلم کا ارتکاب کیا، اس لیے ہم تمھیں جہنم کا عذاب چکھائیں گے، یعنی جہنم میں پھینکنے کی وجہ بیان فرمائی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19-1یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو مشرکین سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کہے گا کہ تم جن کو اپنا معبود گمان کرتے تھے، انہوں نے تو تمہیں تمہاری باتوں میں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور تم نے دیکھ لیا ہے کہ انہوں نے تم سے صفائی کا اعلان کردیا ہے۔ گویا جن کو تم اپنا مددگار سمجھتے تھے، وہ مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ اب کیا تمہارے اندر یہ طاقت ہے کہ تم میرے عذاب کو اپنے سے پھیر سکو اور اپنی مدد کرسکو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ گویا (اے کافرو)! جو تم آج [23] کہتے ہو، اس دن تمہارے معبود تمہیں جھٹلا دیں گے۔ پھر نہ تم (عذاب کو) ٹال سکو گے اور نہ تمہیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔ اور جو بھی تم سے ظلم [24] کر رہا ہے اسے ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
[23] یعنی آج تم یہ کہتے ہو کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو تمہارے یہ معبود وہاں بھی تمہارے کام آئیں گے اور اگر عذاب کی کوئی بات ہوئی تو یہ چھڑا لیں گے۔ مگر اس دن تمہارے یہی معبود جن کی اعانت پر تمہیں بھروسا تھا۔ تم سے علانیہ بیزاری کا اظہار کریں گے۔ اور یہ کہہ کر تمہیں جھٹلا دیں گے کہ ہم نے کب ان سے کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کیا کرنا۔ اس طرح معبود تو بری الذمہ ہو جائیں گے اور سارا بوجھ ان کے عبادت کرنے والوں پر پڑ جائے گا جن کی عذاب سے رہائی کی کوئی صورت نہ ہو گی۔
[24] ظلم کا لغوی مفہوم :۔
ظلم کا لفظ عدل کی ضد ہے۔ اور اس کا اطلاق تو ہر بے انصافی کی بات اور غیر معقول بات پر ہو سکتا ہے۔ نبی کی دعوت کو جھٹلانا، اسلام کی راہ سے روکنا، ایمان لانے والوں کو ایذائیں پہنچانا، انھیں پریشان کرنا یا ان کا تمسخر اڑانا، بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت کرنا یا انھیں حاجت کے لئے پکارنا، آخرت کے عذاب و ثواب سے انکار کرنا سب ظلم کی ہی قسمیں ہیں اور ان کاموں کا ارتکاب کرنے والے سب ظالم ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدْ كَذَّبُوْؔكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ۠ صَرْفًا پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصْرًا اور نہ مدد کرنے کی۔ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔
رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّؔنْكُمْ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقْهُ عَذَابً٘ا كَبِیْرًا ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تبرَّوْا منهم؛ قال الله توبيخاً وتقريعاً للمعاندين: {فقد كَذَّبوكُم بما تقولونَ}: إنَّهم أمروكم بعبادتهم ورَضوا فِعْلَكم وإنَّهم شفعاء لكم عند ربكم؛ كذَّبوكم في ذلك الزعم، وصاروا من أكبر أعدائِكِم، فحقَّ عليكم العذاب. {فما تستطيعونَ صرفاً}: للعذابِ عنكم بفِعْلِكم أو بفداءٍ أو غيرِ ذلك {ولا نصراً}: لعجزكم وعدم ناصرِكم. هذا حكم الضالِّين المقلِّدين الجاهلين كما رأيت، أسوأُ حكم وأشرُّ مصير. وأما المعاند منهم الذي عَرَفَ الحقَّ وصَدَفَ عنه؛ فقال في حقِّه: {ومَن يَظْلِم منكُم}: بترك الحقِّ ظلماً وعناداً؛ {نُذِقْه عذاباً كبيراً}: لا يُقادَرُ قَدْرُهُ ولا يُبْلَغ أمرُه.