تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 19

فَقَدۡ کَذَّبُوۡکُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ ۙ فَمَا تَسۡتَطِیۡعُوۡنَ صَرۡفًا وَّ لَا نَصۡرًا ۚ وَ مَنۡ یَّظۡلِمۡ مِّنۡکُمۡ نُذِقۡہُ عَذَابًا کَبِیۡرًا ﴿۱۹﴾
سو انھوں نے تو تمھیں اس بات میں جھٹلا دیا جو تم کہتے ہو، پس تم نہ کسی طرح ہٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ کسی مدد کی اور تم میں سے جو ظلم کرے گا ہم اسے بہت بڑا عذاب چکھائیں گے۔ En
تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے
En
تو انہوں نے تو تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم میں عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی، تم میں سے جس جس نے ﻇلم کیا ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدْ كَذَّبُوْؔكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ۠ صَرْفًا پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصْرًا اور نہ مدد کرنے کی۔ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔
رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّؔنْكُمْ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقْهُ عَذَابً٘ا كَبِیْرًا ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تبرَّوْا منهم؛ قال الله توبيخاً وتقريعاً للمعاندين: {فقد كَذَّبوكُم بما تقولونَ}: إنَّهم أمروكم بعبادتهم ورَضوا فِعْلَكم وإنَّهم شفعاء لكم عند ربكم؛ كذَّبوكم في ذلك الزعم، وصاروا من أكبر أعدائِكِم، فحقَّ عليكم العذاب. {فما تستطيعونَ صرفاً}: للعذابِ عنكم بفِعْلِكم أو بفداءٍ أو غيرِ ذلك {ولا نصراً}: لعجزكم وعدم ناصرِكم. هذا حكم الضالِّين المقلِّدين الجاهلين كما رأيت، أسوأُ حكم وأشرُّ مصير. وأما المعاند منهم الذي عَرَفَ الحقَّ وصَدَفَ عنه؛ فقال في حقِّه: {ومَن يَظْلِم منكُم}: بترك الحقِّ ظلماً وعناداً؛ {نُذِقْه عذاباً كبيراً}: لا يُقادَرُ قَدْرُهُ ولا يُبْلَغ أمرُه.