تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ …: ” بُوْرًا “ ” بَارَ يَبُوْرُ “} سے مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یا {”بَائِرٌ“} کی جمع ہے، ہلاک ہونے والے، یعنی ہم نے انھیں گمراہ نہیں کیا، بلکہ یہ خود ہی کم ظرف اور کمینے لوگ تھے، تو نے انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو ہر قسم کا رزق دیا، یہ کھا پی کر نمک حرام ہو گئے، حتیٰ کہ تیری یاد بھی بھول گئے، جو انھیں سب نعمتیں دینے والا تھا۔ {” الذِّكْرَ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ وہ نصیحتیں بھول گئے جو انبیاء نے انھیں کی تھیں۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اسی طرح آگے سورۃ سبا کی آیات نمبر 41، 42 میں مذکور ہے کہ ایسا ہی سوال و جواب فرشتوں سے بھی ہو گا جن کی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ رہی یہ بات کہ عموماً ”ما“ کا لفظ غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے اور ذوی العقول کے لئے ”من“کا لفظ آتا ہے تو یہ کوئی ایسا کلیہ نہیں جس پر استثناء نہ ہو یہ ذوی العقول کے لئے آسکتا ہے جیسے: ﴿إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُم﴾ [23: 6] اور استفہامیہ ہونے کی صورت میں بھی آسکتا ہے جیسے مازید بمعنی زید کیا ہے؟(منجد)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سب اسی مجمع میں حاضر ہوں گے۔ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ ان معبودوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں سے اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا یا یہ از خود ایسا کرنے لگے؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہو گا۔ جس کا وہ جواب دیں گے کہ میں نے انہیں ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دی یہ جیسا کہ تجھ پر خوب روشن ہے، میں نے تو انہیں وہی کہا تھا جو تو نے مجھ سے کہا تھا کہ عبادت کے لائق فقط اللہ ہی ہے۔ یہ سب معبود جو اللہ کے سوا تھے اور سچے بندے تھے اور شرک سے بیزار تھے۔ جواب دیں گے کہ کسی مخلوق کو، ہم کو یا ان کو یہ لائق ہی نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کی عبادت کریں۔ ہم نے ہرگز انہیں اس شرک کی تعلیم نہیں دی۔ خود ہی انہوں نے اپنی خوشی سے دوسروں کی پوجا شروع کر دی تھی۔ ہم ان سے اور ان کی عبادتوں سے بیزار ہیں۔ ہم ان کے اس شرک سے بری الذمہ ہیں۔ ہم تو خود تیرے عابد ہیں۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ معبودیت کے منصب پر آ جاتے؟ یہ تو ہمارے لائق ہی نہ تھا، تیری ذات اس سے بہت پاک اور برتر ہے کہ کوئی تیرا شریک ہو۔
«نَّتَّخِذَ» کی دوسری قرأت «نُتَّخَذََ» بھی ہے یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا، نہ یہ ہمارے لائق تھا کہ لوگ ہمیں پوجنے لگیں اور تیری عبادت چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہم تو خود تیرے بندے ہیں، تیرے در کے بھکاری ہیں۔ مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان کے بہکنے کی وجہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتی ہے کہ انہیں عمریں ملیں، بہت کھانے پینے کو ملتا رہا۔ بد مستی میں بڑھتے گئے یہاں تک کہ جو نصیحت رسولوں کی معرفت پہنچتی تھی اسے بھلا دیا۔ تیری عبادت سے اور سچی توحید سے ہٹ گئے۔ یہ لوگ تھے یہ بےخبر، ہلاکت کے گڑھے میں گر پڑے۔ تباہ و برباد ہو گئے «ُبوراً» سے مطلب ہلاکت والے ہی ہیں۔
جیسے ارشاد ہے: «وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف:5-6] الخ، ’ اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی چاہت پوری نہ کر سکیں بلکہ وہ تو ان کی دعا سے محض غافل ہیں اور محشر والے دن یہ سب ان سب کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادتوں کے صاف منکر ہو جائیں گے۔ ‘
پس قیامت کے دن یہ مشرکین نہ تو اپنی جانوں سے عذاب اللہ ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی مدد کر سکیں گے، نہ کسی کو اپنا مددگار پائیں گے۔ تم میں سے جو بھی اللہ واحد کے ساتھ شرک کرے، ہم اسے زبردست اور نہایت سخت عذاب کریں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا سبحانك}: نزَّهوا الله عن شركِ المشركين به، وبرَّؤوا أنفسَهم من ذلك، {ما كان يَنبَغي لنا}؛ أي: لا يليق بنا ولا يَحْسُن منَّا أن نتَّخِذَ من دونك من أولياءَ نتولاَّهم ونعبُدُهم وندعوهم؛ فإذا كنَّا محتاجين ومفتقرين إلى عبادتك ومتبرِّين من عبادة غيرِك؛ فكيف تأمر أحداً بعبادتنا؟! هذا لا يكون. أو: سبحانك أنْ نُتَّخَذَ {من دونِكَ من أولياءَ}: وهذا كقول المسيح عيسى ابن مريم عليه السلام: {وإذْ قالَ اللهُ يا عيسى ابنَ مريمَ أأنتَ قلتَ للناس اتَّخِذوني وأمِّيَ إلهينِ من دونِ الله قال سبحانَكَ ما يكونُ لي أنْ أقولَ ما ليسَ لي بِحَقٍّ إن كُنْتُ قلتُهُ فقدْ علِمْتَه تعلمُ ما في نفسي ولا أعلمُ ما في نَفْسِكَ إنَّك أنتَ عَلاَّمُ الغُيوبِ. ما قلتُ لَهُمْ إلاَّ ما أمَرْتَني به أنِ اعْبُدوا اللهَ ربِّي وَرَبَّكُم ... } الآية، وقال تعالى: {ويَوَمَ يَحْشُرُهم جميعاً ثم يقولُ للملائِكَةِ أهؤلاءِ إيَّاكُم كانوا يَعْبُدونَ. قالوا سبحانَكَ أنتَ وَلِيُّنا مِن دونِهِم بل كانوا يَعْبُدونَ الجِنَّ أكَثْرُهُم بهم مؤمنونَ}، {وإذا حُشِرَ الناسُ كانوا لهم أعداءً وكانوا بعبادَتِهِم كافرينَ}.
فلما نزَّهوا أنفسهم أن يَدْعوا لعبادةِ غير الله أو يكونوا أضَلُّوهم؛ ذَكَروا السبب الموجب لإضلال المشركينَ، فقالوا: {ولكن مَتَّعْتَهُمْ وآباءَهُم}: في لذَّاتِ الدُّنيا وشهواتها ومطالبِهِا النفسِيَّةِ، {حتى نَسوا الذِّكْرَ}: اشتغالاً في لَذَّاتِ الدُّنيا وإكباباً على شَهَواتها؛ فحافظوا على دُنياهم وضيَّعوا دينَهم، {وكانوا قوماً بوراً}؛ أي: بائرين، لا خير فيهم، ولا يَصْلُحون لصالح، لا يصلُحون إلاَّ للهلاك والبوار، فذكروا المانعَ من اتِّباعهم الهُدى، وهو التمتُّع في الدُّنيا، الذي صرفهم عن الهدى، وعدم المقتضي للهدى، وهو أنَّهم لا خير فيهم؛ فإذا عدموا المقتضي ووُجِدَ المانعُ؛ فلا تشاءُ من شرٍّ وهلاكٍ إلاَّ وجَدْتَهُ فيهم.