ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 9

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿٪۹﴾
دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہو گئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔ En
(اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے
En
خیال تو کیجیئے! کہ یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس جس سے وه خود ہی بہک رہے ہیں اور کسی طرح راه پر نہیں آسکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ { اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ:} دیکھو انھوں نے تمھارے لیے کیسے مثالیں بیان کیں، صرف اس لیے کہ کسی طرح آپ کو جھوٹا ثابت کر سکیں۔
➋ { فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا:} سو بھٹک گئے اور ایسے بھٹکے کہ کسی راستے پر آ ہی نہیں سکتے، کیونکہ راہ پر وہ آتا ہے جس کے دل میں اخلاص ہو اور وہ محض غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہو، ان کے دلوں میں تو اخلاص کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی ہے۔ مزید دیکھیے بنی اسرائیل (۴۷، ۴۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9-1یعنی اے پیغمبر! آپ کی نسبت یہ اس قسم کی باتیں اور بہتان تراشی کرتے ہیں، کبھی ساحر کہتے ہیں، کبھی مسحور و مجنون اور کبھی کذاب و شاعر۔ حالانکہ یہ ساری باتیں باطل ہیں اور جن کے پاس ذرہ برابر بھی عقل فہم ہے، وہ ان کا جھوٹا ہونا جانتے ہیں، پس یہ ایسی باتیں کر کے خود ہی راہ ہدایت سے دور ہوجاتے ہیں، انھیں راہ راست کس طرح نصیب ہوسکتی ہے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اے نبی! غور کیجئے یہ لوگ آپ کے لئے کس طرح کی مثالیں [14] بیان کرتے ہیں۔ یہ ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ راہ راست پر آ ہی نہیں سکتے۔
[14] کفار کو یہ سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ آپ پر کیا الزام لگائیں؟
یعنی کبھی کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے جو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے کبھی کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالا ہے۔ البتہ اس سلسلہ میں دوسروں سے بھی مدد لیتا ہے۔ کبھی آپ کو کاہن کہتے ہیں، کبھی شاعر، کبھی ساحر، جادوگر اور کبھی مسحور۔ پھر کہیں یہ کہتے ہیں کہ اسے فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ کبھی کہتے ہیں کہ اگر بشر ہی تھا تو کم از کم اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی رہا کرتا۔ کبھی یہ کہ اس نبی کے پاس مال و دولت کی کثرت ہونا چاہئے تھی۔ یہ سب باتیں دراصل ان کے دعوت حق کو قبول نہ کرنے کے بہانے ہیں۔ ہٹ دھرمی اور تعصب نے ان کو اندھا کر رکھا ہے اور ایسی بے تکی باتیں بنانے پر مجبور کر رکھا ہے۔ ان کی ان باتوں کی حیثیت ”خوئے بد را بہانہ بسیار“ سے زیادہ کچھ نہیں۔ البتہ ان کی ایسی ہٹ دھرمی کی باتوں سے یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ دعوت حق کو کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ اور ان کے یہ مطالبات اور اعتراضات محض شرارت اور تنگ کرنے کی بنا پر ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ وہ (رسول) فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟
﴿ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ سَبِیْلًا پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كانت هذه الأقوال منهم عجيبةً جدًّا؛ قال تعالى: {انظُرْ كيفَ ضربوا لك الأمثالَ}: وهي: هلاَّ كان مَلَكاً وزالتْ عنه خصائصُ البشر، أو معهُ مَلَكٌ لأنه غير قادرٍ على ما قال، أو أنزِلَ عليه كنزٌ، أو جُعِلَتْ له جنةٌ تُغنيه عن المشي في الأسواق، أو أنه كان مسحوراً. {فضلُّوا فلا [يستطيعون] سبيلاً}: قالوا: أقوالاً متناقضةً، كلُّها جهلٌ وضلالٌ وسفهٌ، ليس في شيء منها هدايةٌ، بل ولا في شيء منها أدنى شبهةٍ تقدحُ في الرسالة، فبمجرَّدِ النظرِ إليها وتصوُّرها يجزم العاقل ببطلانها، ويكفيه عن ردِّها. ولهذا أمر تعالى بالنظر إليها وتدبُّرِها والنظرِ: هل توجِبُ التوقُّف عن الجزم للرسول بالرسالة والصدق؟!