اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قَدۡ یَعۡلَمُ مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ یَوۡمَ یُرۡجَعُوۡنَ اِلَیۡہِ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۶۴﴾
سن لو! بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، یقینا وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو اور اس دن کو بھی جب وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے، پھر وہ انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا اور اللہ ہر چیزکو خوب جاننے والا ہے۔
En
دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
En
آگاه ہو جاؤ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ جس روش پر تم ہو وه اسے بخوبی جانتا ہے، اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وه خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 64) ➊ { اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} طبری نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، یاد رکھو، سارے آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور مملوک کو لائق نہیں کہ اپنے مالک کے حکم کی نافرمانی کرے اور اس کی سزا کا حق دار بنے۔ فرماتے ہیں، لوگو! اسی طرح تمھارے لیے بھی اپنے رب کے حکم کی جو تمھارا مالک ہے، خلاف ورزی کرنا درست نہیں، سو اس کی اطاعت کرو، اس کے حکم پر عمل کرو اور جب تم اس کے رسول کے ساتھ کسی جامع کام میں حاضر ہو تو اس کی اجازت کے بغیر مت نکلو۔“ (طبری: ۲۶۴۷۶)
➋ {قَدْ يَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ:} یعنی تم جس روش پر قائم ہو، وہ اچھی ہے یا بری، اللہ تعالیٰ یقینا اسے جانتا ہے۔
➌ { وَ يَوْمَ يُرْجَعُوْنَ اِلَيْهِ …:} خبر دینے سے مراد ان کے اعمال کی جزا دینا ہے۔ منافقین کا خطاب کے بعد غائب کے صیغے سے ذکر التفات ہے، جس سے ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے۔
➍ {وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یہ {” قَدْ يَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ “} کے مضمون کی تکمیل ہے، پہلے صرف منافقین کے احوال جاننے کا ذکر فرمایا، اب فرمایا، وہ صرف تمھارے احوال ہی نہیں بلکہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
➋ {قَدْ يَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ:} یعنی تم جس روش پر قائم ہو، وہ اچھی ہے یا بری، اللہ تعالیٰ یقینا اسے جانتا ہے۔
➌ { وَ يَوْمَ يُرْجَعُوْنَ اِلَيْهِ …:} خبر دینے سے مراد ان کے اعمال کی جزا دینا ہے۔ منافقین کا خطاب کے بعد غائب کے صیغے سے ذکر التفات ہے، جس سے ناراضی کا اظہار ہو رہا ہے۔
➍ {وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یہ {” قَدْ يَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَيْهِ “} کے مضمون کی تکمیل ہے، پہلے صرف منافقین کے احوال جاننے کا ذکر فرمایا، اب فرمایا، وہ صرف تمھارے احوال ہی نہیں بلکہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64-1خلق کے اعتبار سے بھی، ملک کے اعتبار سے بھی اور ماتحتی کے اعتبار سے بھی۔ وہ جس طرح چاہے تصرف کرے اور جس چیز کا چاہے، حکم دے۔ پس اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ رسول کے کسی حکم کی مخالفت نہ کی جائے اور جس سے اس نے منع کردیا ہے، اس کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اس لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ 64-2یہ مخالفین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ ہے کہ جو کچھ حرکات تم کر رہے ہو، یہ نہ سمجھو کہ وہ اللہ سے مخفی رہ سکتی ہیں۔ اس کے علم میں سب کچھ ہے اور وہ اس کے مطابق قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ یاد رکھو! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ [103] انھیں بتلا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
[103] یعنی جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے کھسک جاتے ہیں یا اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اور اس کی راہ روکنے کے لئے سازشیں تیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ رسول یا دوسرے مسلمانوں کی نظروں سے تو اوجھل رہ سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان کے اعمال و افعال تو درکنار ان کے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے اور انھیں سزا دینے پر قادر بھی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کر کے انہیں ان کی کرتوتیں بتلا بھی دے گا اور ان کی سزا بھی دے گا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہر ایک اس کے علم میں ہے ٭٭
مالک زمین و آسمان عالم غیب و حاضر بندوں کے چھپے کھلے اعمال کا جاننے والا ہی ہے۔ «قَدْ يَعْلَمُ» میں «قَدْ» تحقیق کے لیے ہے جیسے اس سے پہلے کی آیت «قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا» ۱؎ [24-النور:63] میں۔
اور جیسے آیت «قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [33-الأحزاب:18] میں۔ اور جیسے آیت «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» ۱؎ [58-المجادلة:1] میں اور جیسے آیت «قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:33] میں اور جیسے «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا» ۱؎ [2-البقرة:144] میں۔
اور جیسے مؤذن کہتا ہے «قَدْ قَامَتِ الصَّلوةُ» تو فرماتا ہے کہ «الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [26-الشعراء:217-220] ’ جس حال پر تم جن اعمال وعقائد کے تم ہو اللہ پر خوب روشن ہے۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ جو عمل تم کرو جو حالت تمہاری ہو اس اللہ پر عیاں ہے۔ کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں ‘۔
«وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [10-يونس:61] ’ ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں محفوظ ہے ‘۔
«أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» ۱؎ [11-هود:5] ’ بندوں کے تمام خیر و شر کا وہ عالم ہے کپڑوں میں ڈھک جاؤ چھپ لک کر کچھ کرو ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر اس پر یکساں ہے ‘۔
«سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ’ سرگوشیاں اور بلند آواز کی باتیں اس کے کانوں میں ہیں تمام جانداروں کا روزی رساں وہی ہے ہر ایک جاندار کے ہر حال کو جاننے والا وہی ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے درج ہے ‘۔
«وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جہنیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ خشکی تری کی ہر ہرچیز کو وہ جانتا ہے ‘۔
«وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ’ کسی پتے کا جھڑنا اس کے علم سے باہر نہیں زمین کی اندھیریوں کے اندر کا دانہ اور کوئی تر وخشک چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو ‘۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔
اور جیسے آیت «قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [33-الأحزاب:18] میں۔ اور جیسے آیت «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» ۱؎ [58-المجادلة:1] میں اور جیسے آیت «قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:33] میں اور جیسے «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا» ۱؎ [2-البقرة:144] میں۔
اور جیسے مؤذن کہتا ہے «قَدْ قَامَتِ الصَّلوةُ» تو فرماتا ہے کہ «الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [26-الشعراء:217-220] ’ جس حال پر تم جن اعمال وعقائد کے تم ہو اللہ پر خوب روشن ہے۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ جو عمل تم کرو جو حالت تمہاری ہو اس اللہ پر عیاں ہے۔ کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں ‘۔
«وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّبِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [10-يونس:61] ’ ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں محفوظ ہے ‘۔
«أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» ۱؎ [11-هود:5] ’ بندوں کے تمام خیر و شر کا وہ عالم ہے کپڑوں میں ڈھک جاؤ چھپ لک کر کچھ کرو ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر اس پر یکساں ہے ‘۔
«سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] ’ سرگوشیاں اور بلند آواز کی باتیں اس کے کانوں میں ہیں تمام جانداروں کا روزی رساں وہی ہے ہر ایک جاندار کے ہر حال کو جاننے والا وہی ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے درج ہے ‘۔
«وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [6-الأنعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جہنیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ خشکی تری کی ہر ہرچیز کو وہ جانتا ہے ‘۔
«وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّـهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [11-هود:6] ’ کسی پتے کا جھڑنا اس کے علم سے باہر نہیں زمین کی اندھیریوں کے اندر کا دانہ اور کوئی تر وخشک چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو ‘۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔
«يُنَبَّأُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ» ۱؎ [75-القيامة:13] ’ جب مخلوق اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی ‘۔ «وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس وقت ان کے سامنے ان کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور بدی پیش کر دی جائے گی۔ تمام اگلے پچھلے اعمال دیکھ لے گا۔ اعمال نامہ کو ڈرتا ہوا دیکھے گا اور اپنی پوری سوانح عمری اس میں پاکر حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے بڑی تو بڑی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑی جو جس نے کیا تھا وہ وہاں پائے گا۔ تیرے رب کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔
آخر میں فرمایا ’ اللہ بڑا ہی دانا ہے ہرچیز اس کے علم میں ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النور کی تفسیر ختم ہوئی۔
آخر میں فرمایا ’ اللہ بڑا ہی دانا ہے ہرچیز اس کے علم میں ہے ‘۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ النور کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ ”آگاہ ہوجاؤ کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔“ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں وہ ان میں اپنے حکم قدری اور حکم شرعی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔﴿ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ ﴾ تم جو بھلائی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس کا احاطہ كيے ہوئے ہے، وہ تمھارے تمام اعمال کو جانتا ہے، اس کے علم نے اس کو محفوظ اور اس کے قلم نے اس کو لکھ رکھا ہے اور (کراماً کاتبین) فرشتوں نے اس کو درج کر لیا ہے۔
﴿وَیَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ ﴾ ”اور جس دن لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف۔“ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا ﴾ ”پس وہ انھیں ان کے عملوں کی خبر دے گا۔“ وہ ان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں ان کو اس طرح آگاہ کرے گا کہ یہ آگاہی واقع کے مطابق ہو گی۔ وہ ان کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی لے گا۔ وہ اس کے فضل وعدل سے محروم نہیں ہوں گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے علم کو بندوں کے اعمال کے ساتھ مقید کیا ہے اس لیے خصوص کے بعد عموم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ ﴾ ”اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ألا إنَّ لله ما في السمواتِ والأرض}: مُلكاً وعبيداً يتصرَّف فيهم بحكمِهِ القدريِّ وحكمه الشرعيِّ. {قد يعلم ما أنتُم عليه}؛ أي: قد أحاط علمُه بما أنتُم عليه من خيرٍ وشرٍّ، وعلم جميعَ أعمالكم؛ أحصاها علمُه، وجرى بها قلمُه، وكتبتْها عليكم الحفظةُ الكرام الكاتِبون. {ويومَ يُرْجَعون إليه}؛ أي: يوم القيامة {فينَبِّئُهم بما عَمِلوا}: يخبرُهم بجميع أعمالِهِم؛ دقيقِها وجليلها؛ إخباراً مطابقاً لما وَقَعَ منهم، ويستشهدُ عليهم أعضاءَهم؛ فلا يعدَمون منه فَضْلاً أو عدلاً. ولما قيَّد علمَه بأعمالهم؛ ذكر العمومَ بعد الخُصوص، فقال: {واللهُ بكلِّ شيءٍ عليمٌ}.