تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قَدۡ یَعۡلَمُ مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ یَوۡمَ یُرۡجَعُوۡنَ اِلَیۡہِ فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۶۴﴾
سن لو! بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، یقینا وہ جانتا ہے جس حال پر تم ہو اور اس دن کو بھی جب وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے، پھر وہ انھیں بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا اور اللہ ہر چیزکو خوب جاننے والا ہے۔ En
دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
En
آگاه ہو جاؤ کہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ جس روش پر تم ہو وه اسے بخوبی جانتا ہے، اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وه خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ آگاہ ہوجاؤ کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کے لیے ہے۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں وہ ان میں اپنے حکم قدری اور حکم شرعی کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے۔﴿ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ تم جو بھلائی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا علم اس کا احاطہ كيے ہوئے ہے، وہ تمھارے تمام اعمال کو جانتا ہے، اس کے علم نے اس کو محفوظ اور اس کے قلم نے اس کو لکھ رکھا ہے اور (کراماً کاتبین) فرشتوں نے اس کو درج کر لیا ہے۔
﴿وَیَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ اور جس دن لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف۔ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا پس وہ انھیں ان کے عملوں کی خبر دے گا۔ وہ ان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال کے بارے میں ان کو اس طرح آگاہ کرے گا کہ یہ آگاہی واقع کے مطابق ہو گی۔ وہ ان کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی لے گا۔ وہ اس کے فضل وعدل سے محروم نہیں ہوں گے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے علم کو بندوں کے اعمال کے ساتھ مقید کیا ہے اس لیے خصوص کے بعد عموم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ألا إنَّ لله ما في السمواتِ والأرض}: مُلكاً وعبيداً يتصرَّف فيهم بحكمِهِ القدريِّ وحكمه الشرعيِّ. {قد يعلم ما أنتُم عليه}؛ أي: قد أحاط علمُه بما أنتُم عليه من خيرٍ وشرٍّ، وعلم جميعَ أعمالكم؛ أحصاها علمُه، وجرى بها قلمُه، وكتبتْها عليكم الحفظةُ الكرام الكاتِبون. {ويومَ يُرْجَعون إليه}؛ أي: يوم القيامة {فينَبِّئُهم بما عَمِلوا}: يخبرُهم بجميع أعمالِهِم؛ دقيقِها وجليلها؛ إخباراً مطابقاً لما وَقَعَ منهم، ويستشهدُ عليهم أعضاءَهم؛ فلا يعدَمون منه فَضْلاً أو عدلاً. ولما قيَّد علمَه بأعمالهم؛ ذكر العمومَ بعد الخُصوص، فقال: {واللهُ بكلِّ شيءٍ عليمٌ}.