تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ:} اس سے معلوم ہوا کہ اجازت بلاوجہ نہیں بلکہ اپنے کسی اہم کام کے لیے مانگنی چاہیے اور یہ بھی کہ امیر کو اختیار ہے کہ جسے چاہے اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے، کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ مجلس کی اہمیت کے پیش نظر کسے اجازت دینے کی گنجائش ہے۔
➌ {وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ:} اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عذر کی بنا پر اگرچہ اجازت لے کر جانا جائز ہے مگر پھر بھی اچھا نہیں ہے، کیونکہ یہ دنیا کے کام کو دین پر مقدم رکھنا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے لوگوں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (وحیدی)
➍ یہ آیت امت کی مصلحت کے لیے جماعتی نظم کی بنیاد ہے، کیونکہ سنت یہ ہے کہ ہر اجتماع کے لیے (چھوٹا ہو یا بڑا) ایک امیر ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِيْ سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوْا أَحَدَهُمْ] [أبوداوٗد، الجہاد، باب في القوم یسافرون…: ۲۶۰۹، قال الألباني حسن صحیح] ”جب سفر میں تین(۳) آدمی ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں۔“ یہ امیر ان مسلمانوں کے لیے ولی الامر کا قائم مقام ہو گا اور اس کی حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کی ہو گی، اس لیے اس کے اجتماع سے اس کی اجازت کے بغیر جانا جائز نہیں، کیونکہ اگر ہر شخص کو اپنی مرضی سے کھسک جانے کی اجازت ہے تو کوئی اجتماع بکھرنے سے نہیں بچے گا۔ اسی طرح جب امیر کسی دینی، سیاسی یا جہادی ضرورت کے لیے مجلس بلائے تو طے شدہ مقام اور وقت سے اجازت یا صحیح عذر کے بغیر پیچھے رہنا جائز نہیں۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ’ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لیے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں ‘۔
ابوداؤد وغیرہ میں ہے { جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کر لیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیا کرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5208،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إرشادٌ من الله لعبادِهِ المؤمنين أنَّهم إذا كانوا مع الرسول - صلى الله عليه وسلم - على أمرٍ جامع؛ أي: من ضرورتِهِ أو مصلحتِهِ أن يكونوا فيه جميعاً؛ كالجهاد والمشاورة ونحو ذلك من الأمور التي يشتركُ فيها المؤمنون؛ فإنَّ المصلحة تقتضي اجتماعُهم عليه وعدمُ تفرُّقهم؛ فالمؤمنُ بالله ورسوله حقًّا لا يذهبُ لأمرٍ من الأمور؛ لا يرجِعُ لأهلِهِ، ولا يذهبُ لبعض الحوائج التي يشذُّ بها عنهم؛ إلاَّ بإذنٍ من الرسول أو نائبِهِ من بعدِهِ، فجعل موجَبَ الإيمان عدمَ الذَّهاب إلاَّ بإذنٍ، ومَدَحَهم على فعلهم هذا وأدَبِهِم مع رسولِهِ وولي الأمر منهم، فقال: {إنَّ الذين يستأذِنونك أولئك الذين يؤمِنون باللهِ ورسولِهِ}: ولكنْ؛ هل يأذنُ لهم أم لا؟ ذكر لإذنِهِ لهم شرطين: أحدَهما: أن يكون لشأنٍ من شؤونهم وشغل من أشغالهم، فأما مَنْ يستأذنُ من غيرِ عذرٍ؛ فلا يُؤْذَنُ له. والثاني: أن يشاءَ الإذنَ، فتقتضيه المصلحةُ من دونِ مضرَّةٍ بالآذنِ؛ قال: {فإذا استأذنوكَ لبعض شأنِهِم فأْذَن لِمَن شئتَ منهُم}: فإذا كان له عذرٌ، واستأذنَ؛ فإنْ كان في قعودِهِ وعدم ذَهابه مصلحةٌ برأيِهِ أو شجاعته ونحو ذلك؛ لم يأذنْ له. ومع هذا؛ إذا استأذنَ وأذِنَ له بشرطيه؛ أمر الله رسولَه أن يَسْتَغْفِرَ له لما عسى أن يكون مقصراً في الاستئذان، ولهذا قال: {فاسْتَغْفِرْ لهم اللهَ إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}: يغفرُ لهم الذنوبَ، ويرحمُهم؛ بأن جوَّز لهم الاستئذان مع العذر.