ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 63

لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمۡ کَدُعَآءِ بَعۡضِکُمۡ بَعۡضًا ؕ قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ یَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡکُمۡ لِوَاذًا ۚ فَلۡیَحۡذَرِ الَّذِیۡنَ یُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِہٖۤ اَنۡ تُصِیۡبَہُمۡ فِتۡنَۃٌ اَوۡ یُصِیۡبَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔ En
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
En
تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63) ➊ { لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ …:} مفسرین نے اس آیت کے تین مطلب بیان فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ {دُعَآءَ الرَّسُوْلِ } کا معنی ہے رسول کا بلانا۔ اس صورت میں لفظ { دُعَآءَ } اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں بلائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح معمولی نہ سمجھو، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بلائیں تو حاضر ہونا واجب ہوتا ہے، جب کہ آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کا یہ حکم نہیں ہے۔ یہ مفہوم یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ اس سے پہلے اجازت طلب کرنے اور امر جامع میں موجود رہنے کا بیان ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے، تمھارا رسول کو بلانا۔ اس صورت میں { دُعَآءَ } اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نام لے کر مت بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو نام لے کر بلاتے ہو، بلکہ یا نبی اللہ، یا رسول اللہ، یا ایسے القاب سے بلاؤ جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہو اور ایسے لہجے میں مت بلاؤ جس میں تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو، بلکہ آواز نیچی رکھ کر ادب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤ۔ اس معنی کی تائید سورۂ حجرات کی ابتدائی آیات سے ہوتی ہے، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [الحجرات: ۲] اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔ یہ معنی بھی بہت عمدہ ہے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم رسول کی دعا کو عام لوگوں کی دعا کی طرح مت سمجھو۔ کیونکہ آپ کی دعا قبول شدہ ہے، اگر تمھارے حق میں ہو گئی تو اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اگر تمھارے خلاف ہو گئی تو کوئی جائے پناہ نہیں۔ یہ معنی اگرچہ اپنی جگہ درست ہے، مگر آیت کے الفاظ سے بعید ہے۔
➋ {قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا: يَتَسَلَّلُوْنَ } آہستہ آہستہ خفیہ طریقے سے نکلتے ہیں، کھسکتے ہیں، جیسے { تَدَخَّلَ} اور { تَدَرَّجَ} میں آہستہ آہستہ کا مفہوم شامل ہے۔ { لِوَاذًا لَاذَ يَلُوْذُ} سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، ایک دوسرے کی پناہ لینا۔ یہ منافقین کا شیوہ تھا کہ کوئی مسلمان اجازت لے کر نکلتا تو اس کی آڑ لے کر وہ بھی نکل جاتے۔ کھسکنے والوں کو اللہ کی گرفت سے ڈرانا مقصود ہے۔
➌ {فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ: خَالَفَ يُخَالِفُ خِلَافًا وَ مُخَالَفَةً} کا معنی پیچھے رہنا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ۠ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ [التوبۃ: ۸۱] وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہو گئے۔ { يُخَالِفُوْنَ } کے بعد { عَنْ } کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲۴، ۲۵) شوکانی نے فرمایا: { يُخَالِفُوْنَ } کے بعد {عَنْ } لانے کا مطلب یہ ہے کہ { يُخَالِفُوْنَ } کے ضمن میں اعراض کا مفہوم شامل ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے اعراض کرتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا: { يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ } کا معنی {يَصُدُّوْنَ عَنْ أَمْرِهِ} ہے، یعنی جو لوگ اس کے حکم سے دوسروں کو روکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پیچھے رہنے کا نتیجہ فتنے میں مبتلا ہونا ہے۔ طبری نے اپنی معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ سے ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل کیا ہے کہ آیت { وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ } میں فتنہ سے مراد شرک ہے، یعنی جو شخص جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل نہیں کرتا یا عمل کرنے میں تاخیر کرتا ہے، خطرہ ہے کہ وہ خالص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور کفر و شرک یا بدعت میں مبتلا ہو جائے گا۔
➍ { اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} دنیا میں اس عذاب کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں، دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۶۵) کی تفسیر۔
➎ اس آیت میں لفظ{ اَوْ } مانعۃ الخلو ہے، یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ فتنے اور عذابِ الیم میں سے کوئی چیز بھی ان پر نہ آئے، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ دونوںچیزیں ان پر اتریں۔
➏ جب صرف ایک معاملہ میں رسول کی اطاعت نہ کرنے پر یہ وعید سنائی گئی ہے تو ان لوگوں کو اپنے معاملے پر ضرور غور کرنا چاہیے جنھوں نے رسول کو سرے سے اطاعت کا مستحق ہی نہیں سمجھا، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بے نیاز ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

63-1یہ منافقین کا رویہ ہوتا تھا کہ اجتماع مشاورت سے چپکے سے کھسک جاتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ (مسلمانو)! رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھ لو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے [100] کو بلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے چپکے سے [101] کھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں [102] انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں یا انھیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔
[100] رسول اللہﷺ کا ادب و احترام :۔
اس جملہ کی تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی دوست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول کو ایسے نہ بلایا کرو جیسے تم ایک دوسرے کو بے تکلفی سے بلاتے رہتے ہو۔ بلکہ انہیں بلانا ہو تو اس کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھا کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تمہیں بلائے تو ایسا نہ سمجھو جیسے کوئی عام آدمی بلا رہا ہے کہ جی چاہے تو جواب دے دو یا نہ دو یا اگر جی چاہے تو ان کے پاس حاضر ہو جاؤ اور چاہے تو نہ آؤ۔ بلکہ ان کے بلانے پر تم پر واجب ہو جاتا ہے کہ تم ان کے پاس حاضر ہو جاؤ اور ان کی بات سنو پھر اسے بجا لاؤ۔ اور یہ مطلب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ [8: 24] سے ماخوذ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت سعید بن معلیؓ کہتے ہیں کہ: میں نماز پڑھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا: تم میرے بلانے پر کیوں نہ آئے؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ زير آيت مذكوره] اس حدیث سے علماء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص فریضہ نماز بھی ادا کر رہا ہو تو رسول کے بلانے پر اسے نماز تک چھوڑ کر فوراً حاضر ہو جانا چاہئے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یوں نہ سمجھو جیسے کسی عام آدمی کی دعا ہے۔ بلکہ تمہارے حق میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت سنوارنے کا موجب بن سکتی ہے اسی طرح ان کی بددعا تمہیں تباہ و برباد بھی کر سکتی ہے۔ لہٰذا ان کی اطاعت کر کے انہیں خوش رکھنے اور ان کی دعا لینے کی کوشش کیا کرو۔
[101] دن کے پچھلے حصہ (اصیل) میں تو تین نمازیں آجاتی ہیں۔ مگر پہلے حصے میں ایک بھی فرض نماز نہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ دن کے پہلے حصہ میں کوئی ایسی وحی آجاتی جس سے مسلمانوں کو فوری طور پر آگاہ کرنا ضروری ہوتا تھا۔ اس غرض سے مسجد نبوی میں اذان کہہ کر مسلمانوں کو بلا لیا جاتا۔ آپ وحی سناتے۔ خطبہ ارشاد فرماتے اور حالات حاضرہ سے متعلق بعض دفعہ مشورے بھی مقصود ہوتے تھے اور بعض دفعہ اللہ کے احکام کی فوری نشر و اشاعت۔
اسی سلسلہ میں منافق بھی ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ضرور ہو جاتے اور یہ بات نفاق کا شبہ دور کرنے کی خاطر ان کے لئے ضروری بھی ہوتی تھی۔ حاضری لگوا لینے کے بعد وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ موقع ملے تو چپکے سے کھسک جائیں اور بمصداق جوئندہ یابندہ وہ کھسک بھی جایا کرتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔
[102] رسول اللہﷺ کی مخالفت پر عذاب کی وعید :۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر منافقوں کا آپ کی دعوت کو ناگوار محسوس کرنا، کھسک جانے کی کوشش کرنا۔ آپ کے نصائح پر توجہ نہ دینا یا آپ کی دعوت کو کچھ اہمیت نہ دینا۔ سب رسول کی مخالفت میں آتی ہیں۔ تاہم رسول کی مخالفت کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے اور منافقوں کے لئے یہ فتنہ کیا کم ہے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق جڑ پکڑ جائے اور انھیں اپنی ایسی کرتوتیں بھی اچھی نظر آنے لگیں۔ تاہم آیت کے اس حصہ کا حکم عام ہے جو منافقوں اور مسلمانوں سب کو شامل ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ رہا فتنہ کا مفہوم تو اس کی بے شمار صورتیں ہو سکتی ہیں۔ سب سے واضح صورت مسلمانوں کا داخلی انتشار اور ان کا اجتماعی قوت کا کمزور ہونا اور ان پر ظالم اور جابر حکمران کا مسلط ہو جانا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب احکام شرعیہ کو پس پشت ڈال دیا جائے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے کے آداب ٭٭
لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ ’ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے ‘۔
اسی کے مثل آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» ۱؎ [2-البقرة:104]‏‏‏‏ ہے اور اسی جیسی آیات «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [49-الحجرات:2-5]‏‏‏‏ ہے یعنی ’ ایمان والو! اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پربلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بے تکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہو جائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے ‘۔
یہاں تک کہ فرمایا ’ جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا ‘۔
پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے کے لیے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔
ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مقبول و مستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہو جاؤ ‘۔
اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے اس لیے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے۔‏‏‏‏
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہو جاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال وافعال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔‏‏‏‏
بخاری مسلم میں ہے { حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2697]‏‏‏‏
ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت وبرائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔
مسند احمد میں حدیث ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہر چند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی بانہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری نہیں مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6483]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔