مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ اس کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جو جمع کرنے والا ہے تو اس وقت تک نہیں جاتے کہ اس سے اجازت مانگیں۔ بے شک جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو جب وہ تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے اجازت دے دے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگ، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے ارشاد ہے کہ جب وہ کسی جامع معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں، یعنی آپ کی ضرورت اور مصلحت، مثلاً: جہاد اور مشاورت وغیرہ میں، جہاں اہل ایمان کا اشتراک عمل ہوتا ہے… تو اس معاملے میں اکٹھے رہیں کیونکہ مصلحت ان کے اجتماع و اتحاد اور عدم تفرق و تشتت کا تقاضا کرتی ہے … اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان رکھنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے نائب کی اجازت کے بغیر اپنے گھر لوٹتا ہے نہ اپنی کسی ضرورت سے دیگر مومنوں کو چھوڑ کر جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اجازت کے بغیر نہ جانے کو موجب ایمان قرار دیا ہے اور اس فعل پر نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نائب کے ساتھ ان کے ادب پر ان کی مدح کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَالَّذِیْنَاٰمَنُوْابِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘ ﴾”بے شک وہ لوگ جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر۔“ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا آپ اور آپ کا نائب ان کو اجازت دے یا نہ دے؟ اجازت دینے کے لیے دو شرائط عائد کی گئی ہیں:
(۱) یہ اجازت طلبی ان کے کسی ضروری معاملے اور ضروری کام کے لیے ہو اور اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے اجازت طلب کرتا ہے تو اس کو اجازت نہ دی جائے۔
(۲) اجازت دینے میں مشیت مصلحت کے تقاضے پر مبنی ہو اور اجازت دینے والے کو ضرر نہ پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿فَاِذَااسْتَاْذَنُوْكَلِبَعْضِشَاْنِهِمْفَاْذَنْلِّ٘مَنْشِئْتَمِنْهُمْ ﴾”پس جب وہ آپ سے اجازت مانگیں اپنے کسی کام کے لیے تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دیں۔“ اگر اجازت طلب کرنے والے کے پاس کوئی عذر ہو اور وہ اجازت طلب کرے اگر اس کے پیچھے بیٹھ رہنے میں اور ساتھ نہ جانے میں اس کی رائے یا شجاعت سے محرومی کی وجہ سے نقصان ہو تو صاحب امر اس کو اجازت نہ دے… بایں ہمہ اگر کسی نے پیچھے رہنے کی اجازت طلب کی اور صاحب امر ان مذکورہ شرائط کے ساتھ اجازت دے دے تو اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اجازت طلب کرنے والے کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی اجازت طلبی تقصیر پر مبنی ہو، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاسْتَغْفِرْلَهُمُاللّٰهَ١ؕاِنَّاللّٰهَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ﴾”اور بخشش مانگیں ان کے لیے اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے۔“ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے کہ اس نے کسی عذر کی بنا پر اجازت طلبی کا جواز عطا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا إرشادٌ من الله لعبادِهِ المؤمنين أنَّهم إذا كانوا مع الرسول - صلى الله عليه وسلم - على أمرٍ جامع؛ أي: من ضرورتِهِ أو مصلحتِهِ أن يكونوا فيه جميعاً؛ كالجهاد والمشاورة ونحو ذلك من الأمور التي يشتركُ فيها المؤمنون؛ فإنَّ المصلحة تقتضي اجتماعُهم عليه وعدمُ تفرُّقهم؛ فالمؤمنُ بالله ورسوله حقًّا لا يذهبُ لأمرٍ من الأمور؛ لا يرجِعُ لأهلِهِ، ولا يذهبُ لبعض الحوائج التي يشذُّ بها عنهم؛ إلاَّ بإذنٍ من الرسول أو نائبِهِ من بعدِهِ، فجعل موجَبَ الإيمان عدمَ الذَّهاب إلاَّ بإذنٍ، ومَدَحَهم على فعلهم هذا وأدَبِهِم مع رسولِهِ وولي الأمر منهم، فقال: {إنَّ الذين يستأذِنونك أولئك الذين يؤمِنون باللهِ ورسولِهِ}: ولكنْ؛ هل يأذنُ لهم أم لا؟ ذكر لإذنِهِ لهم شرطين: أحدَهما: أن يكون لشأنٍ من شؤونهم وشغل من أشغالهم، فأما مَنْ يستأذنُ من غيرِ عذرٍ؛ فلا يُؤْذَنُ له. والثاني: أن يشاءَ الإذنَ، فتقتضيه المصلحةُ من دونِ مضرَّةٍ بالآذنِ؛ قال: {فإذا استأذنوكَ لبعض شأنِهِم فأْذَن لِمَن شئتَ منهُم}: فإذا كان له عذرٌ، واستأذنَ؛ فإنْ كان في قعودِهِ وعدم ذَهابه مصلحةٌ برأيِهِ أو شجاعته ونحو ذلك؛ لم يأذنْ له. ومع هذا؛ إذا استأذنَ وأذِنَ له بشرطيه؛ أمر الله رسولَه أن يَسْتَغْفِرَ له لما عسى أن يكون مقصراً في الاستئذان، ولهذا قال: {فاسْتَغْفِرْ لهم اللهَ إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}: يغفرُ لهم الذنوبَ، ويرحمُهم؛ بأن جوَّز لهم الاستئذان مع العذر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔