تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بے فکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے؟ اس لیے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بے اطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے باربار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لیے اور نیز تمہارے لیے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔
ایک حدیث میں ہے کہ { بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:75،قال الشيخ الألباني:صحیح] حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین آیتوں پر عموماً لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورۃ نساء کی آیت «وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا» ۱؎ [4-النساء:8] اور ایک سورۃ الحجرات کی آیت «اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [49-الحجرات:13]، شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کر دیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بے اجازت ہرگز نہ آئے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:5191،قال الشيخ الألباني:صحيح الإسناد موقوف]
پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الٰہی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الٰہی کے ہونے کا ذکر ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بے خبری میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑ گئے تو محفوظ ہو گئے۔ حکم الٰہی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لیے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کر دی۔“
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لیے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کر دیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموماً لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔“
یہ بھی مروی ہے کہ { ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا پکایا لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بے اجازت گھر میں آ جائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [مرسل و ضعیف]
اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے، جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”تمہارے لیے بناؤ سنگھار بے شک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہو گئیں تو آپ رضی اللہ عنہا نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا ”میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔“
آخر میں فرمایا ’ گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لیے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے جاننے والا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذا بَلَغَ الأطفالُ منكم الحُلُمَ}: وهو إنزالُ المنيِّ يقظةً أو مناماً؛ {فَلْيَسْتَأذِنوا كما استأذنَ الذين من قبلِهِم}؛ أي: في سائر الأوقات، والذين مِنْ قبلِهِم هم الذين ذَكَرَهُمُ اللهُ بقوله: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تَدْخُلوا بيوتاً غير بيوتِكُم حتى تَسْتَأنِسوا ... } الآية. {كذلك يبيِّنُ الله لكم آياتِهِ}: ويوضِّحُها ويفصِّلُ أحكامها. {والله عليم حكيم}.
وفي هاتين الآيتين فوائدُ:
منها: أنَّ السيِّد وولي الصغير مخاطبان بتعليم عبيدِهم ومَنْ تحتَ ولايَتِهم من الأولاد العلمَ والآدابَ الشرعيَّة؛ لأنَّ الله وجَّه الخطاب إليهم بقوله: {يا أيُّها الذين آمنوا لِيَسْتَأذِنكُمُ الذين ملكت أيمانكم والذين لم يَبْلُغوا الحُلُم ... } الآية، ولا يمكنُ ذلك إلاَّ بالتعليم والتأديب، ولقوله: {ليس عليكُم ولا عليهِم جُناح بَعْدَهُنَّ}.
ومنها: الأمر بحفظِ العورات والاحتياط لذلك من كلِّ وجه، وأنَّ المحلَّ والمكانَ الذي مَظِنَّةٌ لرؤيةِ عورة الإنسان فيه، أنَّه منهيٌّ عن الاغتسال فيه والاستنجاء ونحو ذلك.
ومنها: جوازُ كشفِ العورة لحاجةٍ؛ كالحاجة عند النوم وعند البول والغائط ونحو ذلك.
ومنها: أنَّ المسلمين كانوا معتادين القَيْلولة وسطَ النهار؛ كما اعتادوا نومَ الليل؛ لأنَّ الله خاطَبَهم ببيانِ حالِهِم الموجودةِ.
ومنها: أنَّ الصغير الذي دون البلوغ لا يجوزُ أن يمكَّنَ من رؤية العورة، ولا يجوزُ أن تُرى عورتُهُ؛ لأنَّ الله لم يأمُرْ باستئذانِهِم إلاَّ عن أمرٍ ما يجوز.
ومنها: أنَّ المملوك أيضاً لا يجوزُ أن يرى عورةَ سيِّده؛ كما أنَّ سيِّده لا يجوز أن يرى عورتَه؛ كما ذكرنا في الصغير.
ومنها: أنَّه ينبغي للواعظ والمعلِّم ونحوهم ممَّن يتكلَّم في مسائل العلم الشرعيِّ أن يقرِنَ بالحكم بيانَ مأخذِهِ ووجهِهِ، ولا يُلقيه مجرَّداً عن الدليل والتَّعليل؛ لأنَّ الله لما بيَّن الحكم المذكور؛ علَّله بقوله: {ثلاثُ عوراتٍ لكم}.
ومنها: أنَّ الصَّغيرَ والعبدَ مخاطبان كما أنَّ وليَّهما مخاطبٌ؛ لقوله: {ليس عليكُم ولا عليهم جناحٌ بَعْدَهُنَّ}.
ومنها: أنَّ ريق الصبيِّ طاهرٌ، ولو كان بعد نجاسةٍ؛ كالقيء؛ لقوله تعالى: {طوَّافونَ عليكُم}؛ مع قول النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - حين سُئِلَ عن الهرة: «إنها ليست بِنَجَسٍ، إنَّها من الطَّوَّافينَ عليكم والطَّوَّافاتِ».
ومنها: جوازُ استخدام الإنسان مَنْ تحت يدِهِ من الأطفال على وجهٍ معتادٍ لا يشقُّ على الطفل؛ لقوله: {طوَّافونَ عليكم}. ومنها: أنَّ الحكم المذكورَ المفصَّل إنَّما هو لما دونَ البلوغ، وأمَّا ما بعدَ البلوغ؛ فليس إلاَّ الاستئذان.
ومنها: أنَّ البلوغَ يحصُلُ بالإنزال، فكلُّ حكم شرعيٍّ رُتِّبَ على البلوغ؛ حصل بالإنزال، وهذا مجمعٌ عليه، وإنَّما الخلاف هل يَحْصُلُ البلوغُ بالسنِّ أو الإنباتِ للعانةِ. والله أعلم.