تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
طبری نے معتبر سند کے ساتھ علی بن ابی طلحہ کا قول نقل فرمایا ہے: ”آیت {” وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا “} کا مطلب یہ ہے کہ ایسی عورت پر گناہ نہیں کہ گھر میں قمیص اور دوپٹے کے ساتھ رہے اور بڑی چادر اتار دے، جب تک وہ زینت ظاہر نہ کرے، جسے ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ (طبری: ۲۶۴۰۹) شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی بوڑھی عورتیں گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر ہے۔“ گھر سے باہر بھی اگر وہ برقع یا بڑی چادر نہ لیں تو حرج نہیں، بشرطیکہ وہ کسی قسم کی زینت کا اظہار نہ کر رہی ہوں۔ {” بِزِيْنَةٍ “} میں تنوین سے ظاہر ہے کہ بوڑھی عورت کے لیے غیر محرموں کے سامنے کسی بھی طرح کی زینت کا اظہار جائز نہیں۔
➋ مرد جس عمر کو بھی پہنچ جائے اور جتنا بوڑھا بھی ہو جائے اگر غیر محرم ہے تو عورت کو اس سے پردہ کرنا لازم ہے، بعض عورتوں کا بوڑھوں سے پردہ اتار دینا درست نہیں۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی اس سے پردہ نہ کرنے کی اجازت نہیں آئی۔
➌ { وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی اجازت طلب کرنے اور پردہ کرنے کے یہ احکام فتنے کی روک تھام کے ظاہری اسباب ہیں، باقی پردے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے اور جو فتنے اٹھائے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کو سنتا اور جانتا ہے اور وہ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ فرمائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[92] یعنی اگر بڑی بوڑھی عورتیں بھی اس رخصت سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یہی بات ان کے حق میں بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسے دیکھنے والے سارے بوڑھے یا متقی لوگ تو نہیں ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شہوت کا مارا اوباش اس سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر دے اور اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے نہ چوکے۔ لہٰذا بوڑھی عورتیں بھی اس رخصت کا استعمال موقع و محل کا لحاظ رکھ کر کریں۔ بصورت دیگر اس رخصت پر عمل نہ کریں۔ یہی چیز ان کے حق میں بھی بہتر ہے اور معاشرہ کے حق میں بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والقواعدُ من النساء}؛ [أي]: اللاتي قَعَدْنَ عن الاستمتاع والشهوةِ، {اللاتي لا يَرْجونَ نِكاحاً}؛ أي: لا يَطْمَعْنَ في النكاح ولا يُطْمَعُ فيهن، وذلك لكونها عجوزاً لا تشتهي أو دميمةَ الخِلْقَةِ لا تُشْتَهى ولا تَشْتَهي. {فليس عليهنَّ جُناحٌ}؛ أي: حرجٌ وإثمٌ، {أن يَضَعْنَ ثيابَهُنَّ}؛ أي: الثياب الظاهرة كالخمار ونحوه، الذي قال الله فيه للنساء: {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ على جُيوبِهِنَّ}؛ فهؤلاء يجوز لهنَّ أن يَكْشِفْنَ وجوهَهُنَّ لأمن المحذور منها وعليها.
ولما كان نفيُ الحرج عنهنَّ في وضع الثياب ربَّما تُوُهِّمَ منه جوازُ استعمالها لكلِّ شيءٍ؛ دَفَعَ هذا الاحتراز بقوله: {غيرَ مُتَبَرِّجات بزينةٍ}؛ أي: غير مظهراتٍ للناس زينةً من تجمُّلٍ بثيابٍ ظاهرةٍ، وتَسْتُرُ وجهها، ومن ضربِ الأرض ليعلم ما تُخفي من زينتها؛ لأنَّ مجرَّد الزينة على الأنثى، ولو مع تستُّرها، ولو كانت لا تُشتهى؛ يفتن فيها ويوقِعُ الناظر إليها في الحرج. {وأن يَسْتَعْفِفْنَ خيرٌ لهنَّ}: والاستعفافُ طلبُ العفَّة بفعل الأسباب المقتضية لذلك من تزوُّج وتركٍ لما يُخْشى منه الفتنة. {والله سميعٌ}: لجميع الأصوات. {عليمٌ}: بالنيَّات والمقاصدِ؛ فليحذَرْن من كلِّ قول وقصدٍ فاسدٍ، ويَعْلَمْنَ أنَّ الله يُجازي على ذلك.