اور جب تم میں سے بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو اسی طرح اجازت طلب کریں جس طرح وہ لوگ اجازت طلب کرتے رہے جو ان سے پہلے تھے۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیئے، اللہ تعالیٰ تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی علم وحکمت واﻻ ہے
En
(آیت 59){ وَاِذَابَلَغَالْاَطْفَالُمِنْكُمُالْحُلُمَفَلْيَسْتَاْذِنُوْا …:} بالغ ہونے کے بعد بچوں کو بھی اجازت لینا ضروری ہے، جس طرح ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جن کا ذکر اس سے پہلے آیت (۲۷) {”لَاتَدْخُلُوْابُيُوْتًاغَيْرَبُيُوْتِكُمْحَتّٰىتَسْتَاْنِسُوْا“} میں آیا ہے اور جس طرح بالغ ہونے والے ان بچوں سے پہلے دوسرے بالغ لوگ اجازت لیتے چلے آئے ہیں، بالغ ہونے کے بعد انھیں بھی ہر حال میں اجازت لے کر آنا ہو گا۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے پوچھا: ”کیا میں اپنی بہن کے پاس جانے کے لیے بھی اجازت مانگوں؟“ فرمایا: ”ہاں!“ میں نے پھر سوال دہرایا: ”میری پرورش میں میری دو بہنیں ہیں، ان کا خرچہ میرے ذمے ہے، ان کے پاس بھی اجازت لے کر جاؤں؟“ فرمایا: ”ہاں! کیا تم پسند کرتے ہو کہ انھیں برہنہ حالت میں دیکھو۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «{ يٰۤاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوْالِيَسْتَاْذِنْكُمُالَّذِيْنَمَلَكَتْاَيْمَانُكُمْ }»[النور: ۵۸] {”ثَلٰثُعَوْرٰتٍلَّكُمْ“} تک، تو ان لوگوں کو صرف ان تین اوقات میں اجازت مانگنے کا حکم دیا گیا، پھر فرمایا: «{ وَاِذَابَلَغَالْاَطْفَالُمِنْكُمُالْحُلُمَفَلْيَسْتَاْذِنُوْا }»[النور: ۵۹] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”اب اجازت لینا واجب ہے۔“[الأدب المفرد للبخاري: ۱۰۶۳]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔