ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 5

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ وَ اَصۡلَحُوۡا ۚ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵﴾
مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
ہاں جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے
En
ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ اور مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5){ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا …:} اس بات پر اتفاق ہے کہ توبہ سے بہتان کی حد معاف نہیں ہو گی، اسی طرح اس پر بھی اتفاق ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس سے فسق کا حکم اٹھ جائے گا، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ توبہ اور اصلاح کے بعد اس کی شہادت قبول ہو گی یا نہیں۔ طبری رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ذکر کیا ہے کہ انھوں نے { وَ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا } پڑھا اور فرمایا: پھر جو شخص توبہ اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ اگرچہ بعض لوگوں کے مطابق توبہ اور اصلاح کے بعد بھی اس کی شہادت قبول نہیں ہو گی، مگر صحیح بات یہی ہے کہ اگر بہتان لگانے والا توبہ کرے کہ آئندہ میں ایسی بات نہیں کروں گا اور واقعی اپنی اصلاح کر لے اور ایسی کوئی غلطی نہ کرے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ کیونکہ مردود الشہادہ تو وہ فسق کی وجہ سے تھا، جب فسق نہ رہا تو شہادت کیوں قبول نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ کہ توبہ سے تو کفر و شرک بھی معاف ہو جاتا ہے، قذف تو اس سے کہیں کم گناہ ہے۔ رہا لفظ{ اَبَدًا } (ہمیشہ) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ تہمت لگانے سے باز نہ آئے، خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے، اس کی شہادت مت قبول کرو۔ رہی وہ مدت جس سے اس کی توبہ اور اصلاح ثابت ہو جاتی ہے تو بعض لوگوں نے اس کے لیے ایک سال مدت مقرر کی ہے، مگر یہ بات کتاب و سنت سے ثابت نہیں، اس لیے یہ بات قاضی پر چھوڑ دی جائے گی، اگر اسے کسی بھی مدت میں اس کی توبہ اور اصلاح کا یقین ہو جائے تو وہ اس کی شہادت قبول کر سکتا ہے، کیونکہ یقینا اللہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی، وہ توبہ کے بعد بے حد پردہ پوشی بھی کرتا ہے اور رحم بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5-1توبہ سے کوڑوں کی سزا تو معاف نہیں ہوگی، تائب ہوجائے یا اصرار کرے، یہ سزا تو بہرحال ملے گی البتہ دوسری دو باتیں جو ہیں اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض علماء اس استثنا کو فسق تک محدود رکھتے ہیں۔ یعنی توبہ کے بعد فاسق نہیں رہے گا۔ اور بعض مفسرین دونوں جملوں کو اس میں شامل سمجھتے ہیں، یعنی توبہ کے بعد مقبول الشہادۃ بھی ہوجائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا [9] اور رحم کرنے والا ہے۔
[9] سابقہ آیت میں تہمت لگانے والوں کے لئے تین باتوں کا ذکر ہوا۔ جن میں سے دو تو حکم ہیں۔ یعنی انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ ان کی کبھی شہادت قبول نہ کرو اور تیسری خبر ہے کہ ایسے لوگ بد کردار ہیں۔ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے حضور توبہ کر لیں انھیں پوری طرح اپنے گناہ کا احساس اور ندامت ہو اور آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں تو اب وہ عند اللہ اور عند الناس فاسق نہیں رہیں گے۔ البتہ پہلی دونوں دنیوی سزائیں انھیں بھگتنا ہی ہوں گی۔ تاہم بعض علماء کے نزدیک اپنی اصلاح اور توبہ کے بعد اسے مقبول الشہادت بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی دلیل یہی ہے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جھوٹی تہمت لگانے والا کم از کم دو افراد پر تو ضرور تہمت لگاتا ہے یعنی ایک مرد اور ایک عورت پر اور اس تہمت کی لپیٹ میں زیادہ افراد بھی آ سکتے ہیں۔ اب جو اسے حد لگے گی وہ ہر ایک کے لئے اسی (80) کوڑے نہیں لگے گی بلکہ ایک ہی حد لگے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تہمت لگانے والے مجرم ٭٭
جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کر دیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کر سکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔
اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔