تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! یہ بتائیں کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے، تو تم اسے قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں قرآن کی وہ آیات نازل فرمائیں جن میں لعان کا ذکر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمھارے اور تمھاری بیوی کے متعلق فیصلہ فرما دیا ہے۔“ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا اور اس نے بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی تو یہ سنت ٹھہری کہ لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی جائے گی اور وہ حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس لیے وہ ماں کے نام پر پکارا جاتا تھا، پھر میراث میں یہ سنت جاری ہوئی کہ وہ لڑکا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور وہ اس کی وارث ہو گی۔“ [بخاري، التفسیر، باب: «والخامسۃ أن لعنت اللہ علیہ …» : ۴۷۴۶]
➋ ان دونوں احادیث میں لعان کے تقریباً سبھی احکام آ گئے ہیں۔ میاں بیوی دونوں میں سے ایک کے یقینا جھوٹا ہونے کے باوجود ان کا معاملہ لعان کے بعد اللہ کے سپرد کیا جائے گا، تاکہ مہلت اور پردہ پوشی سے فائدہ اٹھا کر غلطی والا فریق اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرلے۔
➌ یاد رہے کہ کسی خاوند کا محض شک کی بنا پر یا بچے کے حلیہ کو اپنے مطابق نہ دیکھ کر بیوی پر زنا کا الزام لگا دینا سخت گناہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ! میرے ہاں کالے رنگ کا بچہ پیدا ہوا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“ کہا: ”سرخ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟“ کہا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے ہو گیا؟“ کہا: ”شاید اسے کوئی رگ کھینچ کرلے گئی ہو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو شاید تمھارے اس بیٹے کو بھی کوئی رگ کھینچ کر لے گئی ہو۔“ [بخاری، الطلاق، باب إذا عرض بنفي الولد: ۵۳۰۵]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لیے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں ‘۔
اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔“ مسند احمد میں ہے { جب یہ آیت اتری تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انصاریو! سنتے نہیں ہو؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں؟ } انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہا نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے جن کی توبہ قبول کی گئی انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔
لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کر سکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھ کر فرمایا: { اے ہلال رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی اور چھٹی نازل فرمادی }۔
سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلال رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا: { دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے }۔ ہلال رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بالکل سچا ہوں۔
اس عورت نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ ہلال رضی اللہ عنہ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہلال! اللہ سے ڈر جا، دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہو جائے گا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کر دیئے }۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ ہلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب نہ کی جائے، نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا: { دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال رضی اللہ عنہ کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے }۔
جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا }۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2256،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے کہا کہ { اس کا منہ بند کر دو } پھر اسے نصیحت کی، اور فرمایا: { اللہ کی لعنت سے ہرچیز ہلکی ہے }۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2671]
ایک اور روایت میں ہے کہ { صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بے غیرتی اور بڑی بے حیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چنانچہ اس نے انہی لفظوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1495]
اور روایت میں ہے کہ { سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا؟ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کر دیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:423]
ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ { اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے؟ } دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کر سکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مسند بزار:2237:ضعیف]
ایک روایت میں ہے کہ ”سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين يرمون أزواجهم}؛ أي: الأحرار لا المملوكات {ولم يكن لهم}: على رَمْيِهِم بذلك {شهداءُ إلاَّ أنفسُهُم}: بأن لم يُقيموا شهداء على ما رموهم به، {فشهادةُ أحدِهم أربعُ شهاداتٍ بالله إنَّه لَمِنَ الصادقين}: سماها شهادةً لأنها نائبةٌ منابَ الشهود؛ بأن يقولَ: أشهدُ بالله أنِّي لمن الصادقين فيما رميتُها به. {والخامسةُ أنَّ لعنةَ الله عليه إن كان من الكاذبين}؛ أي: يزيد في الخامسة مع الشهادة المذكورة مؤكِّداً تلك الشهادات بأن يَدْعُوَ على نفسه باللعنة إنْ كان كاذباً؛ فإذا تَمَّ لعانُه؛ سقط عنه حدُّ القذف.
وظاهرُ الآياتِ ولو سمَّى الرجلَ الذي رماها به؛ فإنَّه يسقطُ حقُّه تَبَعاً لها.
وهل يُقام عليها الحدُّ بمجرَّد لعان الرجل ونكولها أم تُحبس؟ فيه قولانِ للعلماء، الذي يدلُّ عليه الدليل أنه يُقام عليها الحدُّ؛ بدليل قوله: {ويدرؤوا عنها العذابَ أن تَشْهَدَ ... } إلى آخره؛ فلولا أنَّ العذاب - وهو الحدُّ - قد وَجَبَ بلعانِهِ؛ لم يكن لعانها دارئاً له.