تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جو شخص کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگائے اس سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے چار مسلمان عادل مرد گواہ پیش کرے۔ (دیکھیے نساء: ۱۵) دوسرے کسی جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اگر کسی شخص نے کسی کو زنا کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھا ہے تو اگر اس کے پاس مزید تین گواہ نہیں تو اسے اجازت نہیں کہ اس کا ذکر کرے، بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے، تاکہ وہ گندگی جہاں ہے وہیں تک محدود رہے، معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے نہ ہوں، کیونکہ اس سے بے شمار برائیاں پھیلتی ہیں، ماحول میں زنا کا تذکرہ اسے پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ کوئی شخص اگر چھپ کر زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا اتنا نقصان نہیں جتنا زنا کی اشاعت (بے حیائی کی بات پھیلانے) سے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے۔ ہاں، اگر کوئی شخص اتنی دیدہ دلیری سے زنا کرتا ہے کہ چار مرد اسے عین حالت زنا میں دیکھتے ہیں تو انھیں اجازت ہے کہ اسے حاکم کے پاس لے جائیں، تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرکے اس خبیث فعل کی روک تھام کرے۔ ایک طرف زنا کی سخت ترین حد مقرر فرمائی، دوسری طرف لوگوں کی عزتوں کی حفاظت اور ان کی کمزوریوں پر پردے کے لیے حکم دیا کہ جو شخص کسی پاک دامن پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ پیش نہ کرے تو اسے بہتان کی حد لگاؤ۔ بہتان لگانے والا مرد ہو یا عورت، جیسا کہ حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ(رضی اللہ عنھما) کے ساتھ حمنہ بنت جحش(رضی اللہ عنھا) پر بھی حد قذف لگائی گئی تھی۔
➌ جو شخص کسی پاک دامن مسلم مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگائے، پھر چار گواہ نہ لا سکے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق تین حکم دیے ہیں، پہلا یہ کہ اسے اسّی (۸۰) کوڑے مارو، دوسرا یہ کہ اس کی کوئی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور تیسرا یہ کہ یہی لوگ فاسق (نافرمان) ہیں ({اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ} میں قصرِ قلب ہے)، نہ کہ وہ لوگ جنھیں یہ فاسق ثابت کرنا چاہتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کر دیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے، بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کر لیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما عظَّم تعالى أمر الزنا بوجوب جلدِهِ وكذا رَجْمِهِ إن كان محصناً، وأنَّه لا تجوز مقارنته ولا مخالطته على وجهٍ لا يَسْلَم فيه العبدُ من الشرِّ؛ بيَّن تعالى تعظيم الإقدام على الأعراض بالرمي بالزِّنا، فقال: {والذين يرمونَ المحصناتِ}؛ أي: النساء الأحرار العفائف، وكذلك الرجال، لا فرق بين الأمرين، والمرادُ بالرمي الرميُ بالزنا؛ بدليل السياق. {ثم لم يأتوا}: على ما رموا به {بأربعة شهداء}؛ أي: رجال عدول يشهدون بذلك صريحاً {فاجْلُدوهم ثمانينَ جلدةً}: بسوطٍ متوسطٍ يؤلِمُ فيه، ولا يبالِغُ بذلك حتى يُتْلِفَه؛ لأن القصد التأديب لا الإتلاف.
وفي هذا تقريرُ حدِّ القذف، ولكن بشرط أن يكون المقذوف كما قال تعالى محصناً مؤمناً، وأما قذف غير المحصن؛ فإنَّه يوجِبُ التعزير، {ولا تَقْبَلوا لهم شهادةً أبداً}؛ أي: لهم عقوبة أخرى، وهو أنَّ شهادة القاذف غير مقبولة، ولو حُدَّ على القَذْفِ، حتى يتوبَ؛ كما يأتي. {وأولئكَ هم الفاسقونَ}؛ أي: الخارجون عن طاعة الله، الذين قد كَثُرَ شرُّهم، وذلك لانتهاك ما حرَّم الله، وانتهاك عِرْضِ أخيه، وتسليط الناس على الكلام بما تكلَّم به، وإزالة الأخوة التي عقدها الله بين أهل الإيمان، ومحبَّة أن تَشيعَ الفاحشةُ في الذين آمنوا. وهذا دليلٌ على أن القذف من كبائر الذنوب.