5۔ البتہ جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا [9] اور رحم کرنے والا ہے۔
[9] سابقہ آیت میں تہمت لگانے والوں کے لئے تین باتوں کا ذکر ہوا۔ جن میں سے دو تو حکم ہیں۔ یعنی انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور آئندہ ان کی کبھی شہادت قبول نہ کرو اور تیسری خبر ہے کہ ایسے لوگ بد کردار ہیں۔ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے حضور توبہ کر لیں انھیں پوری طرح اپنے گناہ کا احساس اور ندامت ہو اور آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کریں تو اب وہ عند اللہ اور عند الناس فاسق نہیں رہیں گے۔ البتہ پہلی دونوں دنیوی سزائیں انھیں بھگتنا ہی ہوں گی۔ تاہم بعض علماء کے نزدیک اپنی اصلاح اور توبہ کے بعد اسے مقبول الشہادت بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی دلیل یہی ہے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جھوٹی تہمت لگانے والا کم از کم دو افراد پر تو ضرور تہمت لگاتا ہے یعنی ایک مرد اور ایک عورت پر اور اس تہمت کی لپیٹ میں زیادہ افراد بھی آ سکتے ہیں۔ اب جو اسے حد لگے گی وہ ہر ایک کے لئے اسی (80) کوڑے نہیں لگے گی بلکہ ایک ہی حد لگے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔