تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ:} یعنی طیّب مرد اور طیّب عورتیں ان باتوں سے صاف بری کیے ہوئے ہیں جو خبیث مرد اور خبیث عورتیں کہتے ہیں۔ {” مُبَرَّءُوْنَ “} اسم مفعول کا صیغہ ہے ”بری کیے ہوئے۔“ اس میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا کی واشگاف الفاظ میں براء ت کا ذکر ہے۔ یعنی اہل ایمان میں سے جو یہ سنتا ہے وہ {” سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ “} کہہ کر انھیں پاک قرار دیتا ہے اور رب تعالیٰ بھی {” اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ “} کے ساتھ ان کی براء ت کا اعلان فرماتے ہیں۔ {” مِمَّا يَقُوْلُوْنَ “} یعنی بہتان تراشوں کی صرف منہ کی باتیں ہیں، ان کی حقیقت کچھ نہیں۔
➌ { لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ: ” مَغْفِرَةٌ “} پر تنوینِ تعظیم کی وجہ سے ”بڑی بخشش“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی خبیث لوگوں کے برا کہنے سے وہ برے نہیں ہو جاتے، بلکہ ان کی تہمتوں کی وجہ سے انھیں جو رنج پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتے ہیں تو یہ چیز ان کی خطاؤں اور لغزشوں کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہے اور مفسد لوگ جس قدر انھیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اسی قدر انھیں عزت کی روزی ملتی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عائشہ، ان کے والدین اور صفوان رضی اللہ عنھم سب کے لیے جنت کی بشارت ہے، جو حقیقی رزق کریم ہے، کیونکہ اس بہتان سے ان سب کی عزت و آبرو پر حملہ ہوا اور سب کو نہایت رنج پہنچا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ آیت بھی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لیے ہوتی ہیں۔
اسی لیے فرمایا کہ ’ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج وایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لیے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہیں گی ‘۔
مسند احمد میں حدیث ہے کہ { جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4172، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے { حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4169، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الخبيثاتُ للخبيثين والخبيثونَ للخبيثاتِ}؛ أي: كلُّ خبيثٍ من الرجال والنساء والكلماتِ والأفعال مناسبٌ للخبيثِ وموافقٌ له ومقترنٌ به ومشاكلٌ له، وكلُّ طيبٍ من الرجال والنساءِ والكلماتِ والأفعال مناسبٌ للطيِّبِ وموافقٌ له ومقترنٌ به ومشاكلٌ له؛ فهذه كلمةٌ عامةٌ وحصرٌ لا يخرجُ منه شيءٌ، من أعظم مفرداتِهِ أنَّ الأنبياء، خصوصاً أولي العزم منهم، خصوصاً سيدهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، الذي هو أفضلُ الطيِّبين من الخلق على الإطلاق، لا يناسِبُهم إلاَّ كلُّ طيبٍ من النساء؛ فالقدح في عائشة رضي الله عنها بهذا الأمر قدحٌ في النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، وهو المقصودُ بهذا الإفك من قصد المنافقين؛ فمجرَّدُ كونِها زوجةً للرسول - صلى الله عليه وسلم - يعلمُ أنَّها لا تكون إلاَّ طيبةً طاهرةً من هذا الأمر القبيح؛ فكيف وهي ما هي صديقةُ النساء وأفضلُهن وأعلمُهن وأطيبُهن حبيبةُ رسول ربِّ العالمين التي لم ينزِلِ الوحيُ عليه وهو في لحافِ زوجةٍ من زوجاتِهِ غيرها ؟!
ثم صرَّح بذلك بحيثُ لا يبقى لمبطلٍ مقالاً، ولا لشكٍّ وشبهةٍ مجالاً، فقال: {أولئك مبرَّؤونَ مما يقولونَ}: والإشارةُ إلى عائشة رضي الله عنها أصلاً، وللمؤمناتِ المحصناتِ الغافلاتِ تبعاً لها. {مغفرةٌ}: تستغرق الذنوب. {ورزقٌ كريمٌ}: في الجنة صادرٌ من الربِّ الكريم.