گندی عورتیں گندے مردوں کے لیے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔ یہ لوگ اس سے بری کیے ہوئے ہیں جو وہ کہتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور باعزت روزی ہے۔
En
ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے۔ اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے۔ اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔ یہ (پاک لوگ) ان (بدگویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے
خبیﺚ عورتیں خبیﺚ مردوں کے ﻻئق ہیں اور خبیﺚ مرد خبیﺚ عورتوں کے ﻻئق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے ﻻئق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے ﻻئق ہیں۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَلْخَبِیْثٰتُلِلْخَبِیْثِیْنَ۠وَالْخَبِیْثُوْنَلِلْخَبِیْثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرام علیہم السلام، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسل علیہم السلام اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں۔
بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں جرح و قدح خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ”صدیقہ“ کے مرتبے پر فائز ہیں، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ ہیں۔ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَمُبَرَّءُوْنَمِمَّایَقُوْلُوْنَ﴾”یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں۔“اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمْمَّغْفِرَةٌ ﴾”ان کے لیے بخشش ہے۔“ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزْقٌكَرِیْمٌ ﴾”اور باعزت رزق“ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الخبيثاتُ للخبيثين والخبيثونَ للخبيثاتِ}؛ أي: كلُّ خبيثٍ من الرجال والنساء والكلماتِ والأفعال مناسبٌ للخبيثِ وموافقٌ له ومقترنٌ به ومشاكلٌ له، وكلُّ طيبٍ من الرجال والنساءِ والكلماتِ والأفعال مناسبٌ للطيِّبِ وموافقٌ له ومقترنٌ به ومشاكلٌ له؛ فهذه كلمةٌ عامةٌ وحصرٌ لا يخرجُ منه شيءٌ، من أعظم مفرداتِهِ أنَّ الأنبياء، خصوصاً أولي العزم منهم، خصوصاً سيدهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، الذي هو أفضلُ الطيِّبين من الخلق على الإطلاق، لا يناسِبُهم إلاَّ كلُّ طيبٍ من النساء؛ فالقدح في عائشة رضي الله عنها بهذا الأمر قدحٌ في النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -، وهو المقصودُ بهذا الإفك من قصد المنافقين؛ فمجرَّدُ كونِها زوجةً للرسول - صلى الله عليه وسلم - يعلمُ أنَّها لا تكون إلاَّ طيبةً طاهرةً من هذا الأمر القبيح؛ فكيف وهي ما هي صديقةُ النساء وأفضلُهن وأعلمُهن وأطيبُهن حبيبةُ رسول ربِّ العالمين التي لم ينزِلِ الوحيُ عليه وهو في لحافِ زوجةٍ من زوجاتِهِ غيرها ؟!
ثم صرَّح بذلك بحيثُ لا يبقى لمبطلٍ مقالاً، ولا لشكٍّ وشبهةٍ مجالاً، فقال: {أولئك مبرَّؤونَ مما يقولونَ}: والإشارةُ إلى عائشة رضي الله عنها أصلاً، وللمؤمناتِ المحصناتِ الغافلاتِ تبعاً لها. {مغفرةٌ}: تستغرق الذنوب. {ورزقٌ كريمٌ}: في الجنة صادرٌ من الربِّ الكريم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔