تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ:} یعنی صرف اپنے گھروں میں داخلے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں، جہاں آدمی اکیلا رہتا ہو، یا بیوی کے ساتھ رہتا ہو۔ اگرچہ افضل یہی ہے کہ وہاں داخلے سے پہلے بھی کسی طرح گھر والوں کو اپنی آمد سے آگاہ کر دیا جائے، ممکن ہے وہ ایسی حالت میں ہوں جس میں خاوند کا دیکھنا انھیں پسند نہ ہو۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب بیان کرتی ہیں: [كَانَ عَبْدُ اللّٰهِ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهٰی إِلَی الْبَابِ تَنَحْنَحَ وَ بَزَقَ كَرَاهَةَ أَنْ يَّهْجُمَ مِنَّا عَلٰی أَمْرٍ يَكْرَهُهُ] [ابن جریر: ۲۶۱۳۱] ”عبد اللہ(رضی اللہ عنہ) جب کسی کام سے فارغ ہو کر گھر آتے تو دروازے پر آ کر کھانستے اور تھوکتے کہ کہیں ان کی نظر ہماری کسی ایسی چیز پر نہ پڑ جائے جو انھیں نا پسند ہو۔“ ابن کثیر نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا] [بخاري، النکاح، باب لا یطرق أھلہ…: ۵۲۴۴] ”جب تم میں سے کوئی شخص زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہے تو گھر والوں کے پاس رات کے وقت نہ آئے۔“ مسلم میں یہ الفاظ زائد ہیں: [نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَنْ يَّطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا يَتَخَوَّنُهُمْ أَوْ يَلْتَمِسُ عَثَرَاتِهِمْ] [مسلم، الإمارۃ، باب کراھیۃ الطروق…: 715/184، قبل ح: ۱۹۲۹] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (زیادہ عرصہ گھر سے غائب رہنے والے شخص کو) منع فرمایا کہ وہ گھر والوں کی خیانت یا ان کی غلطی کی تلاش کے لیے رات کو (اچانک) ان کے پاس آئے۔“
➌ {” حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا “} کا لفظی ترجمہ ہے ”یہاں تک کہ تم انس حاصل کر لو۔“ اس لیے اس میں نہ صرف اجازت حاصل کرنے کا مفہوم شامل ہے، بلکہ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ تم معلوم کر لو کہ گھر میں کوئی ہے بھی یا نہیں اور ہے تو اسے تمھارا آنا ناگوار تو نہیں ہے؟
➍ اجازت مانگنے کا طریقہ، بنو عامر کا ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، کہنے لگا: ”کیا میں اندر آ جاؤں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے کہا: ”اس کے پاس جاؤ اور اسے اجازت مانگنے کا طریقہ سکھاؤ کہ وہ اس طرح کہے: [اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَ أَدْخُلُ؟] ”السلام علیکم، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: [اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَ أَدْخُلُ؟] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور وہ داخل ہو گیا۔“ [أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۷]
کَلَدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کے پاس سیدھا چلا آیا، میں نے نہ سلام کہا (اور نہ اجازت مانگی)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِرْجِعْ فَقُلْ اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ] [أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۶، صححہ الألباني] ”واپس جاؤ اور کہو السلام علیکم۔“
➎ اجازت زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ مانگے، اگر اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ [دیکھیے بخاري، الاستئذان، باب التسلیم و الاستئذان ثلاثا: ۶۲۴۵، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ]
➏ دروازہ کھٹکھٹانے یا سلام کہنے پر اگر گھر والے پوچھیں، کون ہے تو اپنا نام بتائے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قرض کے سلسلے میں حاضر ہوا، جو میرے والد کے ذمے تھا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: [مَنْ ذَا؟ فَقُلْتُ أَنَا، فَقَالَ أَنَا أَنَا] ”کون ہے؟“ میں نے کہا: ”میں ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں، میں۔“ گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ [بخاري، الاستئذان، باب إذا قال من ذا؟ فقال أنا: ۶۲۵۰]
➐ ہزیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو کر اجازت مانگنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [هٰكَذَا عَنْكَ أَوْ هٰكَذَا، فَإِنَّمَا الْاِسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ] [أبوداوٗد، الأدب، باب کیف الاستئذان؟: ۵۱۷۴، صححہ الألباني] ”اس طرف ہو جاؤ یا اس طرف، کیونکہ دیکھنے ہی کی وجہ سے اجازت مانگی جاتی ہے۔“
➑ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَوِ اطَّلَعَ فِيْ بَيْتِكَ أَحَدٌ وَ لَمْ تَأْذَنْ لَهُ خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ] [بخاري، الدیات، باب من أخذ حقہ…: ۶۸۸۸] ”اگر کوئی آدمی تیرے گھر میں جھانکے، جبکہ تو نے اجازت نہ دی ہو اور تو کنکری پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کچھ گناہ نہ ہو گا۔“ ایسی صورت میں آنکھ پھوڑنے پر نہ قصاص ہے، نہ دیت۔
➒ { ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ …:} یعنی ان آداب میں دونوں طرف کا فائدہ ہے، اجازت مانگنے والے کا بھی اور گھر والوں کا بھی۔ (ابن کثیر) {” لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ “} تاکہ تم نصیحت حاصل کرو کہ جس طرح تمھیں دوسروں کا بلااجازت آ گھسنا برا محسوس ہوتا ہے، اسی طرح دوسروں کو تمھارا بلااجازت در آنا بھی برا محسوس ہوتا ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اجازت مانگنے کے حکم پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ (الا ما شاء اللہ) رشتہ داروں، ہمسایوں بلکہ اجنبیوں تک کے گھروں میں آنے جانے کے لیے اجازت کی ضرورت ہی نہیں رہی، اس پر مزید عام بے پردگی اور بے لباسی سے بدتر لباس ہے، جس سے مسلم معاشرے میں بے حیائی کا سیلاب آ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں بدکاری، بدگمانی، تہمت تراشی، رقابت، قتل و غارت اور دوسری برائیاں پھیل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی حدود اور اپنے احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور ”اپنے گھر“ میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت ضرور ہے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر میں یکایک اور اچانک داخل نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ تین دفعہ اجازت مانگی، جب کوئی نہ بولا تو آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا! دیکھو عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، انہیں بلا لو لوگ گئے، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں۔ واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی۔ دوبارہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے پوچھا آپ رضی اللہ عنہ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ }۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يُرشد الباري عبادَه المؤمنين أن لا يدخُلوا بيوتاً غير بيوتهم بغيرِ استئذانٍ؛ فإنَّ في ذلك عدَّةَ مفاسدَ:
منها: ما ذكرهُ الرسولُ - صلى الله عليه وسلم -: حيث قال: «إنَّما جُعِلَ الاستئذانُ من أجل البصرِ» ؛ فبسبب الإخلال به يقع البصر على العوراتِ التي داخل البيوت؛ فإنَّ البيت للإنسان في ستر عورةِ ما وراءه بمنزلة الثوبِ في ستر عورةِ جسدِهِ.
ومنها: أنَّ ذلك يوجب الرِّيبةَ من الداخل، ويتَّهم بالشرِّ سرقةٍ أو غيرها؛ لأنَّ الدُّخول خفيةً يدلُّ على الشرِّ، ومنع الله المؤمنين من دخول غير بيوتهم {حتى تَسْتَأنِسوا }؛ أي: تستأذنوا، سمى الاستئذانَ استئناساً؛ لأنَّ به يحصُلُ الاستئناس، وبعدمه تحصُل الوحشةُ، {وتُسَلِّموا على أهلها}: وصفة ذلك ما جاء في الحديث: «السلام عليكم، أأدخل؟». {ذلكم}؛ أي: الاستئذان المذكور {خيرٌ لكم لعلَّكم تَذَكَّرون}: لاشتماله على عدَّة مصالح، وهو من مكارم الأخلاق الواجبة؛ فإن أذن؛ دخل المستأذن.