ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 21

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّبِعۡ خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ فَاِنَّہٗ یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّ لٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو اور جو شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے تو وہ تو بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا۔ مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وه تو بےحیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالی جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔ اور اللہ سب سننے واﻻ سب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ…: خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ } كی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۶۸) اور { بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ } کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیت (۹۰) پہلے فرمایا: «{ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ پھر { الشَّيْطٰنِ } کے لیے ضمیر لا کر {وَ مَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوَاتِهِ} کہنے کے بجائے دوبارہ نام لے کر فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ» ‏‏‏‏ مراد توجہ دلانا ہے کہ آدمی سوچے کہ میں کس کی پیروی کر رہا ہوں۔
➋ { وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شخص کسی طرح بھی اپنے آپ کو پاک نہیں رکھ سکتا، نہ پاک کر سکتا ہے۔ اگر انسان کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی انسان بھی پاک نہ رہ سکے، کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر اسے گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور فحشاء اور منکر کو خوش نما بنا کر اس کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، نفس امارہ ان کی طرف مائل ہے اور ان کا حکم دیتا ہے۔انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے، یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے جس کی بدولت کوئی شخص گناہوں سے پاک رہتا ہے، یا گناہ کے بعد توبہ کے ساتھ پاک ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۶، ۱۷) اور سورۂ نجم (۳۲)۔
➌ اس مقام پر ان الفاظ سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعۂ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہ جاتے جس میں بعض مسلمان بہ گئے تھے۔ اس لیے شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہو گئے ان کو زیادہ ہدف ملامت نہ بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کرو۔
➍ { وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے، مگر اس کی مشیت اندھی نہیں، بلکہ وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اپنے اس علم ہی کی وجہ سے جسے پاک کرنے کے لائق جانتا ہے پاک کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ [القصص: ۵۶] بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

21-1اس مقام پر شیطان کی پیروی سے ممانعت کے بعد یہ فرمانا کہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف نہ ہوتا، اس سے یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعہ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہہ جاتے، جس میں بعض مسلمان بہہ گئے تھے۔ اس لئے شیطان کے داؤ اور فریب سے بچنے کے لئے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہوگئے ہیں، ان کو زیادہ ہدف ملامت مت بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اے ایمان والو! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو وہ تو بے حیائی [24] اور برے کاموں کا ہی حکم دے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف [25] نہ رہ سکتا تھا۔ مگر اللہ جسے چاہے پاک سیرت [26] بنا دیتا ہے اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
[24] شرک کے بعد شیطان کا دوسرا وار فحاشی پھیلانا:۔
یعنی شیطان کا تو کام ہی یہ ہے کہ تمہیں برائیوں اور بے حیائیوں کے کاموں میں مبتلا کر کے تمہارا ایمان تباہ اور تمہیں گمراہ کر دے۔ شیطان کا انسان پر سب سے پہلا وار تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے شرک کی نئی راہیں سجھاتا اور انھیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ جس سے کم ہی لوگ بچتے ہیں۔ اس طرح توحید سے گمراہ کر کے شرک میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس کا دوسرا وار یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو بے حیائی کے کاموں میں مبتلا کرے اور یہ کام بھی انھیں نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرے۔ جنت میں شیطان نے یہی کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ پہلے حضرت آدمؑ و حوا کو خوبصورت وعدے اور سبز باغ دکھا کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں ان دونوں کا لباس اتروا دیا تھا۔ آج بھی شیطان اور اس کے چیلے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں جو کہتے ہیں کہ گھر کی چار دیواری عورت کے لئے قید خانہ اور اس کی آزادی پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے یا پردہ ایک دقیانوسی چیز ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک عورت گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر اور بے حجاب ہو کر مرد کے شانہ بشانہ کام نہ کرے یا عورت کے گھر میں بند رہنے سے ملکی معیشت پر ناگوار اثر پڑتا ہے۔ ایسی سب باتیں بے حیائی کی باتیں ہیں جو خوبصورت کر کے پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد عورت و مرد کا بے حجابانہ اور آزادانہ اختلاط ہے اور بدکاری کی راہیں بڑی آسانی سے کھلنے لگتی ہیں۔ نیز جن فحاشی کے کاموں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان میں سے اکثر کام ایسے ہیں جو تہذیب حاضر کا جزو لاینفک سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے کاموں میں ہی الجھا کر شیطان انسانوں کو مزید بڑے بڑے فتنوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور یہی اس کا اصل مقصد ہوتا ہے۔
[25] یعنی یہ اللہ کی خاص رحمت تھی کہ اس نے تمہیں اس فتنہ کی رو میں بہہ جانے سے بچا لیا۔ ورنہ شیطان کا یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ اگر اللہ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو شاید تم میں سے کوئی بھی اس رو میں بہہ جانے سے بچ نہ سکتا۔
[26] یعنی پاک سیرت بنانے کے لئے یا بنائے رکھنے کے لئے بھی اللہ کا ایک ضابطہ ہے۔ جو یہ ہے کہ جو شخص خود پاک سیرت رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے ہی اللہ پاکیزہ رہنے کی توفیق بھی دیتا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص اس پاکیزگی کا اہل ہے اور کون نہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شیطانی راہوں پر مت چلو ٭٭
یعنی اگر اللہ کا فضل و کرم، لطف و رحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہو جاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہیئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔
ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔‏‏‏‏
ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔‏‏‏‏
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطانی حرکت ہے۔‏‏‏‏ سیدہ زینب بن ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔
پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جہاں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس گناہ کے ارتکاب سے منع کیا ہے وہاں عام طور پر دیگر گناہوں کے ارتکاب سے بھی روکا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّ٘یْطٰ٘نِ اے ایمان والو! شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔ یعنی اس کے طریقوں اور اس کے وسوسوں کی پیروی نہ کرو۔ (خطوات الشیطان) شیطان کے نقش قدم میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو قلب، زبان اور بدن سے متعلق ہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے تمھارے سامنے حکم واضح کیا اور وہ شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے ممانعت ہے۔ اور حکمت ممنوع شدہ چیز میں جو شر ہے اس کے بیان کو کہتے ہیں جو اسے ترک کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا داعی ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنْ یَّتَّ٘بِـعْ خُطُوٰتِ الشَّ٘یْطٰ٘نِ فَاِنَّهٗ اور جو پیروی کرتا ہے شیطان کے قدموں کی تو بے شک وہ یعنی شیطان﴿ یَ٘اْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ حکم دیتا ہے فحشاء کا۔ (فحشاء) سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کو ان کی طرف بعض نفوس کے میلان کے باوجود شریعت اور عقل برا سمجھتی ہے۔﴿ وَالْمُنْؔكَرِ اور منکر کا اور (منکر) وہ گناہ ہیں جن کا عقل انکار کرتی ہے۔ پس تمام گناہ جو شیطان کے نقوش پا ہیں وہ اس صفت سے باہر نہیں نکلتے،اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ان گناہوں کے ارتکاب سے روکنا، ان پر اس کی نعمت کا فیضان ہے، وہ اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں کیونکہ یہ ممانعت رذائل اور قبائح کی گندگی سے ان کی حفاظت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر احسان ہے کہ اس نے بندوں کو گناہوں کے ارتکاب سے روکا جس طرح اس نے ان کو زہر قاتل وغیرہ کھانے سے روکا ہے۔
﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَؔكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک نہ ہوتا۔ یعنی تم میں سے کوئی بھی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے سے کبھی نہیں بچ سکتا کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر بندوں کو اپنے نقش قدم کی پیروی کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور گناہوں کو ان کے سامنے مزین کرتے رہتے ہیں اور نفس کی حالت تو یہ ہے کہ ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے، بندے کو برائی کے ارتکاب کا حکم دیتا رہتا ہے اور نقص ہر جہت سے بندے پر غالب ہے اور ایمان قوی نہیں ہے اگر بندے کو ان داعیوں کے حوالے کر دیا جائے تو کوئی شخص بھی گناہوں اور برائیوں سے بچ کر اور نیکیوں کے اکتساب کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا کیونکہ تزکیہ طہارت اور بڑھاؤ کا متضمن ہے۔ تم میں سے جس کسی نے اپنا تزکیہ کر لیا تو اس کے موجب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہیں۔ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: ’اللّٰھُمَّ اٰتِ نَفْسِی تَقْوَاھَا وَزَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَااے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر تو سب سے اچھا پاک کرنے والا ہے۔ تو اس کا والی اور مولا ہے۔(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الادعیۃ، ح: 2722 و سنن النسائي، الاستعاذۃ، باب الاستعاذۃ من العجز، ح:5460)
بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَؔكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ اور لیکن اللہ پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اسی کو پاک کرتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ تزکیہ کے ذریعے سے پاک ہونا چاہتا ہے اسی لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما نهى عن هذا الذنب بخصوصِهِ؛ نهى عن الذُّنوب عموماً، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تتَّبِعوا خطواتِ الشيطانِ}؛ أي: طرقَه ووساوسَه. وخطواتُ الشيطان يدخُلُ فيها سائرُ المعاصي المتعلِّقة بالقلب واللسان والبدن.

ومن حكمتِهِ تعالى أن بيَّن الحُكْمَ ـ وهو النهي عن اتِّباع خطوات الشيطان ـ والحِكْمة ـ وهو بيانُ ما في المنهيِّ عنه من الشرِّ المقتضي والداعي لتركه ـ، فقال: {ومَن يَتَّبِعْ خُطُواتِ الشيطانِ فإنَّه}؛ أي: الشيطان {يأمُرُ بالفحشاءِ}؛ أي: ما تستفحشُه العقول والشرائعُ من الذُّنوب العظيمة مع ميل بعض النفوس إليه، {والمنكَرِ}: وهو ما تُنْكِرُهُ العقولُ ولا تعرِفُه؛ فالمعاصي التي هي خُطُوات الشيطان لا تَخْرُجُ عن ذلك، فنهى الله عنها العبادَ نعمةً منه عليهم أن يشكُروه ويَذْكُروه؛ لأنَّ ذلك صيانةٌ لهم عن التدنُّس بالرذائل والقبائح؛ فمن إحسانِهِ عليهم أنْ نهاهم عنها كما نهاهم عن أكل السموم القاتلة ونحوها. {ولولا فضلُ اللهِ عليكُم ورحمتُهُ ما زكى منكُم من أحدٍ أبداً}؛ أي: ما تطهَّر من اتِّباع خطواتِ الشيطانِ؛ لأنَّ الشيطان يسعى هو وجندُه في الدعوة إليها وتحسينِها، والنفس ميالةٌ إلى السوء أمَّارةٌ به، والنقصُ مستولٍ على العبدِ من جميع جهاتِهِ، والإيمانُ غير قويٍّ؛ فلو خُلِّي وهذه الدواعي؛ ما زكى أحدٌ بالتطهُّرِ من الذُّنوب والسيئات والنماء بفعل الحسنات؛ فإنَّ الزكاء يتضمَّن الطهارة والنماء، ولكنَّ فضلَه ورحمتَه أوجبا أن يتزكَّى منكم من تزكَّى، وكان من دعاء النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: «اللهمَّ! آتِ نفسي تَقْواها، وزكِّها أنت خيرُ من زَكَّاها، أنت وَلِيُّها ومولاها». ولهذا قال: {ولكنَّ الله يزكِّي مَن يشاءُ}: من يعلمُ منه أن يتزكَّى بالتزكية، ولهذا قال: {والله سميعٌ عليمٌ}.