تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شخص کسی طرح بھی اپنے آپ کو پاک نہیں رکھ سکتا، نہ پاک کر سکتا ہے۔ اگر انسان کو اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی انسان بھی پاک نہ رہ سکے، کیونکہ شیطان اور اس کے لشکر اسے گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ”فحشاء“ اور ”منکر“ کو خوش نما بنا کر اس کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں، نفس امارہ ان کی طرف مائل ہے اور ان کا حکم دیتا ہے۔انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے، یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے جس کی بدولت کوئی شخص گناہوں سے پاک رہتا ہے، یا گناہ کے بعد توبہ کے ساتھ پاک ہوتا ہے۔ اس مفہوم کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۶، ۱۷) اور سورۂ نجم (۳۲)۔
➌ اس مقام پر ان الفاظ سے مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ واقعۂ افک میں ملوث ہونے سے بچ گئے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم ہے جو ان پر ہوا، ورنہ وہ بھی اسی رو میں بہ جاتے جس میں بعض مسلمان بہ گئے تھے۔ اس لیے شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے ایک تو ہر وقت اللہ سے مدد طلب کرتے رہو اور اس کی طرف رجوع کرتے رہو اور دوسرے جو لوگ اپنے نفس کی کمزوری سے شیطان کے فریب کا شکار ہو گئے ان کو زیادہ ہدف ملامت نہ بناؤ، بلکہ خیر خواہانہ طریقے سے ان کی اصلاح کرو۔
➍ { وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے، مگر اس کی مشیت اندھی نہیں، بلکہ وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اپنے اس علم ہی کی وجہ سے جسے پاک کرنے کے لائق جانتا ہے پاک کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [القصص: ۵۶] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[25] یعنی یہ اللہ کی خاص رحمت تھی کہ اس نے تمہیں اس فتنہ کی رو میں بہہ جانے سے بچا لیا۔ ورنہ شیطان کا یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ اگر اللہ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو شاید تم میں سے کوئی بھی اس رو میں بہہ جانے سے بچ نہ سکتا۔
[26] یعنی پاک سیرت بنانے کے لئے یا بنائے رکھنے کے لئے بھی اللہ کا ایک ضابطہ ہے۔ جو یہ ہے کہ جو شخص خود پاک سیرت رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے ہی اللہ پاکیزہ رہنے کی توفیق بھی دیتا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص اس پاکیزگی کا اہل ہے اور کون نہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھا لو۔“
ایک شخص نے شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، ”یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔“
پھر فرماتا ہے ’ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک و کفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بے پایاں حکمت ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نهى عن هذا الذنب بخصوصِهِ؛ نهى عن الذُّنوب عموماً، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تتَّبِعوا خطواتِ الشيطانِ}؛ أي: طرقَه ووساوسَه. وخطواتُ الشيطان يدخُلُ فيها سائرُ المعاصي المتعلِّقة بالقلب واللسان والبدن.
ومن حكمتِهِ تعالى أن بيَّن الحُكْمَ ـ وهو النهي عن اتِّباع خطوات الشيطان ـ والحِكْمة ـ وهو بيانُ ما في المنهيِّ عنه من الشرِّ المقتضي والداعي لتركه ـ، فقال: {ومَن يَتَّبِعْ خُطُواتِ الشيطانِ فإنَّه}؛ أي: الشيطان {يأمُرُ بالفحشاءِ}؛ أي: ما تستفحشُه العقول والشرائعُ من الذُّنوب العظيمة مع ميل بعض النفوس إليه، {والمنكَرِ}: وهو ما تُنْكِرُهُ العقولُ ولا تعرِفُه؛ فالمعاصي التي هي خُطُوات الشيطان لا تَخْرُجُ عن ذلك، فنهى الله عنها العبادَ نعمةً منه عليهم أن يشكُروه ويَذْكُروه؛ لأنَّ ذلك صيانةٌ لهم عن التدنُّس بالرذائل والقبائح؛ فمن إحسانِهِ عليهم أنْ نهاهم عنها كما نهاهم عن أكل السموم القاتلة ونحوها. {ولولا فضلُ اللهِ عليكُم ورحمتُهُ ما زكى منكُم من أحدٍ أبداً}؛ أي: ما تطهَّر من اتِّباع خطواتِ الشيطانِ؛ لأنَّ الشيطان يسعى هو وجندُه في الدعوة إليها وتحسينِها، والنفس ميالةٌ إلى السوء أمَّارةٌ به، والنقصُ مستولٍ على العبدِ من جميع جهاتِهِ، والإيمانُ غير قويٍّ؛ فلو خُلِّي وهذه الدواعي؛ ما زكى أحدٌ بالتطهُّرِ من الذُّنوب والسيئات والنماء بفعل الحسنات؛ فإنَّ الزكاء يتضمَّن الطهارة والنماء، ولكنَّ فضلَه ورحمتَه أوجبا أن يتزكَّى منكم من تزكَّى، وكان من دعاء النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: «اللهمَّ! آتِ نفسي تَقْواها، وزكِّها أنت خيرُ من زَكَّاها، أنت وَلِيُّها ومولاها». ولهذا قال: {ولكنَّ الله يزكِّي مَن يشاءُ}: من يعلمُ منه أن يتزكَّى بالتزكية، ولهذا قال: {والله سميعٌ عليمٌ}.