ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 47

فَقَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَیۡنِ مِثۡلِنَا وَ قَوۡمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ ﴿ۚ۴۷﴾
تو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔ En
کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور اُن کو قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں
En
کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان ﻻئیں؟ حاﻻنکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47){ فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا …:} تکبر اور سرکشی کے نتیجے میں انھوں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں کی بات پر ایمان لے آئیں، جب کہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں اور ہم ان سے بلند تر ہیں۔ پہلا اعتراض موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کی ذات پر ہے اور دوسرا ان کی قوم پر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے کھانے پینے اور چلنے پھرنے میں رسولوں کو اپنے جیسا بشر تو دیکھ لیا اور اسے جھٹلانے کا بہانہ بھی بنا لیا، مگر یہ نہ دیکھا کہ وہ ان کے دلائل و معجزات کے سامنے لاجواب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود انھیں قتل کرنے سے عاجز ہیں۔ کم از کم وہ یہی سوچ لیتے کہ کوئی بشر وہ ہے جو جاہل اور عقل سے خالی ہے اور کوئی بشر وہ ہے جو اتنا علم اور اتنی عقل رکھتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ جب علم و عقل میں اتنا تفاوت ہو سکتا ہے تو رسالت کا تفاوت کیوں نہیں ہو سکتا؟ اور اللہ اپنے کسی بندے پر یہ احسان کیوں نہیں کر سکتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۰، ۱۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یہاں بھی انکار کے لیے دلیل انہوں نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی بشریت ہی پیش کی اور اسی بشریت کی تاکید کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں اسی قوم کے افراد ہیں جو ہماری غلام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ کہنے لگے: ”کیا ہم اپنے ہی دو آدمیوں پر ایمان لائیں جبکہ ان کی قوم ہماری غلام [49] ہے۔
[49] یعنی دوسرے انبیاء کا تکذیب کرنے والے چودھری حضرات تو اپنے انکار کی صرف ایک وجہ بتلاتے تھے کہ یہ نبی بھی ہم جیسا ہی انسان ہے اور اس میں ایسی کون سی خوبی ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے اس وجہ کے ساتھ ایک اور وجہ بھی بیان کر دی کہ ان نبیوں کی برادری تو ہماری غلام ہے۔ لہٰذا ہم ان پر ایمان لا کر دوہری رسوائی کیسے قبول کریں۔
عبادت کا مفہوم:۔
یہاں ﴿عٰبِدُوْنَ کے لفظ سے عبادت کا مفہوم کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ عبادت محض پوجا پاٹ کا نام نہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل فرعونیوں کی پوجا پاٹ نہیں کرتے تھے۔ بلکہ عبادت کا لفظ اپنے وسیع معنوں میں ہمہ وقت کی غلامی اور فرمانبرداری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَقَالُوْۤا انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں؟ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوْمُهُمَا اور ان دونوں کی قوم یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوْنَ ہماری غلام ہے۔ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَؔ یَسُوْمُوْنَكُمْ۠ سُوْٓءَؔ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَؔكُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَؔكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ (البقرہ:2؍49) یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں؟
ان کے قول کی نظیر نوح علیہ السلام کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ (الشعراء:26؍111) کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَ٘ادِیَ الرَّاْیِ (ھود:11؍27) ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فقالوا} كِبْراً وتيهاً وتحذيراً لضُعفاء العقول وتمويهاً: {أنؤمنُ لِبَشَرَيْنِ مثلِنا}: كما قاله مَنْ قبلَهم سواءً بسواءٍ؛ تشابهتْ قلوبُهم في الكفر، فتشابهت أقوالُهم وأفعالُهم، وجحدوا منَّةَ الله عليهما بالرسالة. {وقومُهُما}؛ أي: بنو إسرائيل. {لنا عابدونَ}؛ أي: معبَّدونَ بالأعمال والأشغال الشاقَّة؛ كما قال تعالى: {وإذْ نَجَّيْناكم من آلِ فرعونَ يسومونَكم سوءَ العذابِ يذبِّحون أبناءَكم ويستَحْيون نساءَكم وفي ذلِكُم بلاءٌ من ربِّكم عظيمٌ}: فكيف نكون تابعين بعد أن كُنَّا متبوعينَ؟! وكيف يكون هؤلاءِ رؤساءَ علينا؟! ونظيرُ قولِهِم قولُ قوم نوح: {أنؤمنُ لك واتَّبَعَكَ الأرذَلونَ}، {وما نراك اتَّبَعَكَ إلاَّ الذين هم أراذلُنا بادِيَ الرأي}.