ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 40

قَالَ عَمَّا قَلِیۡلٍ لَّیُصۡبِحُنَّ نٰدِمِیۡنَ ﴿ۚ۴۰﴾
فرمایا بہت ہی کم مدت میں یہ ضرور پشیمان ہو جائیں گے۔ En
فرمایا کہ یہ تھوڑے ہی عرصے میں پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
En
جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کئے پر پچھتانے لگیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40){ قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ: قَلِيْلٍ } کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے {عَنْ} کے ساتھ {مَا } کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40-1عما میں ما زائد ہے جو مجرور کے درمیان، قلت زمان کی تاکید کے لیے آیا ہے جیسے (فبما رحمتہ من اللہ) میں ما زائد ہے یعنی بہت جلد عذاب آنا ہے جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ یعنی بہت جلد عذاب آنے والا ہے، جس پر یہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تھوڑے ہی عرصہ بعد یہ (اپنے کئے پر) پچھتانے لگیں [43] گے۔
[43] یعنی ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی ان پر عذاب آنے والا ہے۔ جب یہ اس کے آثار دیکھ لیں گے تو اس وقت اپنی اس ہٹ دھرمی پر پچھتائیں گے لیکن اس وقت نہ انھیں پچھتانا کچھ کام دے گا اور نہ ایمان لانا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ۰۰ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤ٘ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (القمر:54؍31) ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ اور فرمایا: ﴿ فَبُعْدًا لِّلْ٘قَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ (الدخان:44؍29) پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله مجيباً لدعوته: {عمَّا قليل لَيُصْبِحُنَّ نادمينَ. فأخذتْهُمُ الصيحةُ بالحقِّ}: لا بالظلم والجَوْر، بل بالعدل وظلمهم أخذتْهُمُ الصيحةُ فأهلكَتْهم عن آخرهم. {فجعلناهم غُثاء}؛ أي: هشيماً يَبَساً بمنزلة غُثاء السيل الملقى في جَنَبات الوادي، وقال في الآية الأخرى: {إنَّا أرْسَلْنا عليهم صيحةً واحدةً فكانوا كَهَشيم المُحْتَظِر}. {فَبُعْداً للقوم الظالمين}؛ أي: أُتْبِعوا مع عذابهم البعدَ واللعنةَ والذمَّ من العالمين؛ {فما بَكَتْ عليهمُ السماءُ والأرضُ وما كانوا مُنْظَرين}.